جب انسان اپنی قبر خود اپنے اندر کھودنے لگے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی موت اس دن نہیں ہوتی جب اس کا دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے؛ اس کی اصل موت اس لمحے شروع ہوتی ہے جب اس کے اندر دوسروں کے لیے دھڑکنے والا دل خاموش ہو جاتا ہے۔ قبریں ہمیشہ مٹی میں نہیں بنتیں، بعض اوقات وہ زندہ جسموں کے اندر بن جاتی ہیں، جہاں ضمیر دفن ہوتا ہے، احساس دفن ہوتا ہے، حیا دفن ہوتی ہے، اور سب سے آخر میں انسان دفن ہو جاتا ہے۔ پھر شہر آباد دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ چلتی پھرتی قبریں ہوتے ہیں۔
تہذیبوں کا زوال کبھی توپوں کی گھن گرج سے شروع نہیں ہوتا؛ وہ اس دن شروع ہوتا ہے جب دروازوں سے خیرمقدم کی حرارت رخصت ہو جاتی ہے۔ پھر گھروں کی گھنٹیاں تو بجتی رہتی ہیں مگر ان پر محبت نہیں، ضرورت دستک دیتی ہے۔ چہروں پر تعلقات کے نقاب ہوتے ہیں مگر دلوں میں اجنبیت کے برف زار پھیلے ہوتے ہیں۔ انسان ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اتنے دور ہو جاتے ہیں کہ فاصلے میلوں سے نہیں، احساس کے جنازوں سے ناپے جاتے ہیں۔
ہر معاشرہ اپنے جرائم سے نہیں مرتا، بلکہ اپنے بے حسی کے موسم سے مرتا ہے۔ جب کسی بچے کے آنسو خبر نہ رہیں، کسی بوڑھے کی تنہائی حادثہ نہ لگے، کسی مجبور کی خاموشی سوال نہ بنے، تو سمجھ لیجیے کہ زمین پر انسان نہیں، صرف سایے چل رہے ہیں۔ سایوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی، اس لیے وہ کبھی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتے۔
کردار عمارت کی دیوار نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔ دیوار میں دراڑ ہو تو گھر باقی رہتا ہے، مگر بنیاد بیٹھ جائے تو محل بھی ملبہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح برے کردار کا علاج ممکن ہے، مگر بے کردار انسان ایسا خالی برتن ہے جو ہر آواز کو اپنا گیت سمجھ لیتا ہے۔ وہ نہ روشنی کا ہوتا ہے نہ تاریکی کا؛ وہ صرف اپنے مفاد کا ہوتا ہے، اور مفاد ہمیشہ انسان کو انسان سے پہلے نگلتا ہے۔
محبت دراصل کائنات کی وہ واحد قوت ہے جو فنا کے قانون کو بھی شکست دیتی ہے۔ آگ جسم کو جلا سکتی ہے، وقت یادوں کو دھندلا سکتا ہے، مگر سچا خلوص نہ آگ سے جلتا ہے، نہ وقت سے مرتا ہے۔ جو چیز مر جاتی ہے، وہ محبت نہیں ہوتی؛ وہ صرف مفاد کا لباس ہوتا ہے جسے ہم غلطی سے محبت کا نام دے دیتے ہیں۔ خوشبو کبھی مرتی نہیں، صرف اپنے مالک سے نکل کر فضا کی میراث بن جاتی ہے۔
یہ دور معلومات کا نہیں، محرومیٔ احساس کا دور ہے۔ ہر ہاتھ بھرا ہوا ہے مگر ہر دل خالی ہے۔ ہر زبان مصروف ہے مگر ہر روح خاموش ہے۔ ہم نے لینے کے فن کو تہذیب بنا لیا اور دینے کے ہنر کو حماقت سمجھ لیا۔ حالانکہ دریا اس لیے دریا ہے کہ وہ اپنے پانی کو روک کر نہیں رکھتا، اور بادل اس لیے آسمان کا تاج ہیں کہ وہ برسنے سے انکار نہیں کرتے۔ جو صرف جمع کرتا ہے، وہ خزانہ بن سکتا ہے، زندگی نہیں۔
انسان کی عظمت اس کی طاقت میں نہیں، اس امانت میں ہے جو خدا نے اس کے سینے میں رکھی ہے۔ ہر چہرہ صرف چہرہ نہیں، رب کے تخلیقی حسن کی ایک منفرد آیت ہے۔ اس لیے کسی دل کو توڑنا پتھر توڑنے جیسا نہیں، آئینۂ تخلیق میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔ کسی کی عزت کو بچا لینا دراصل اپنے رب کی ایک صفت کو اپنے وجود میں زندہ رکھنا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں خدمت عبادت بن جاتی ہے۔
اچھے لوگ شور سے پہچانے نہیں جاتے، سکون سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی دلیل نہیں مانگتی، دل مانگتی ہے۔ وہ جہاں بیٹھ جائیں وہاں خوف کی جگہ اعتماد اگنے لگتا ہے، مایوسی کی مٹی سے امید کا سبزہ نکل آتا ہے، اور زخمی روحوں کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ان کے بکھرے ہوئے وجود پر خاموشی سے روشنی رکھ دی ہو۔ ایسے لوگ پھول نہیں ہوتے، خوشبو ہوتے ہیں؛ اور خوشبو کا مقدر ہمیشہ اپنے آپ کو بانٹ دینا ہوتا ہے۔
شاید انسانیت کا احیا کسی نئے انقلاب سے نہیں ہوگا۔ وہ اس دن شروع ہوگا جب ہم آئینے میں اپنا چہرہ نہیں، اپنا ضمیر دیکھنا سیکھ لیں گے۔ جس دن ہم نے اپنے اندر دفن انسان کو زندہ کر لیا، اسی دن یہ زمین دوبارہ انسانوں کے قدموں کی آہٹ پہچان لے گی؛ ورنہ آدمیوں کی بھیڑیں تاریخ میں پہلے بھی بہت گزری ہیں، مگر زمانے ہمیشہ انسانوں کو یاد رکھتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top