(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
باپ محض رشتہ نہیں، ایک خاموش کائنات ہے جو اپنے اندر صدیوں کا صبر، جبلّتوں کی ریاضت اور قربانیوں کی وہ تاریخ سمیٹے ہوئے ہے جسے لفظوں میں قید کرنا ہمیشہ نا تمام رہتا ہے۔ وہ ہستی جو اپنے ہونے کو اولاد کے نہ ہونے میں کھپا دیتی ہے، اور اپنے وجود کے چراغ کو اس لیے جلائے رکھتی ہے کہ گھر کے اندھیروں میں کسی ایک کونے میں بھی وحشت کا سایہ نہ اترے۔
باپ وہ درخت ہے جس کی چھاؤں میں سب نسلیں پلتی ہیں مگر جس کے اپنے حصے میں اکثر تپتی زمین آتی ہے۔ وہ موسموں کی سختی کو اپنے چہرے پر سجا لیتا ہے مگر گھر کے در و دیوار پر خزاں کا گزر نہیں ہونے دیتا۔ اس کے لہجے میں اگرچہ سختی کا گمان ہوتا ہے، مگر وہ سختی دراصل محبت کی وہ تہہ ہے جسے زمانہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ محبت جو اعلان نہیں کرتی، مگر ہر لمحہ ایثار کی صورت سانس لیتی رہتی ہے۔
باپ کی خاموشی دراصل الفاظ سے بھری ہوئی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر قربانی کی روشنائی سے تقدیر لکھی جاتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو اولاد کی پلکوں پر اتار دیتا ہے اور خود نیند سے محروم رہ کر بھی مسکراہٹوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کی دعا کسی بلند آواز کی محتاج نہیں ہوتی، وہ دل کی تہوں میں اتر کر تقدیر کے راستے بدل دینے کی قدرت رکھتی ہے۔
عجیب معاملہ ہے اس محبت کا بھی، کہ جتنی گہری ہو اتنی ہی غیر مرئی ہو جاتی ہے۔ ماں کی محبت آنکھوں سے بہہ نکلتی ہے، مگر باپ کی محبت پسِ پردہ رہ کر تقدیر کے فیصلوں میں شامل رہتی ہے۔ وہ ظاہر نہیں ہوتا، مگر ہر دکھ کے وقت ایک سایہ بن کر ساتھ چلتا ہے۔ وہ گرتی ہوئی دیوار کے سامنے اپنی پشت رکھ دیتا ہے اور کبھی بتاتا نہیں کہ چوٹ کس نے کھائی۔
باپ کی ہنسی میں بھی ایک وقار ہوتا ہے، اور اس کے غصے میں بھی ایک تربیت چھپی ہوتی ہے۔ وہ اولاد کو صرف جینے کا سلیقہ نہیں دیتا، بلکہ جینے کا حوصلہ بھی منتقل کرتا ہے۔ اس کے اصول سخت ضرور ہوتے ہیں، مگر انہی اصولوں کے اندر ایک ایسی نرمی پوشیدہ ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہے، جب انسان خود باپ کے مقام پر پہنچتا ہے۔
یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ انسان جب تک باپ کے سائے میں ہوتا ہے، اسے سایے کی قدر نہیں ہوتی۔ مگر جب وہ سایہ ماضی کے افق میں ڈھل جاتا ہے تو ہر دھوپ، ہر تھکن، ہر شکست اس کی غیر موجودگی کا نوحہ بن جاتی ہے۔ پھر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص جو لفظوں میں کم مگر دعا میں زیادہ تھا، دراصل اس کی پوری زندگی کا محور تھا۔
باپ کے جانے کے بعد صرف گھر خالی نہیں ہوتا، وقت کا مفہوم بھی ادھورا ہو جاتا ہے۔ دیواریں وہی رہتی ہیں، مگر ان میں گونجنے والی آوازیں بدل جاتی ہیں۔ وہ کہانیاں جو راتوں کو نیند سے پہلے سنائی جاتی تھیں، اندر کے بچے کو زندہ رکھتی تھیں، اور اسی بچے کے زندہ رہنے سے انسان انسان رہتا تھا۔ جس دن وہ کہانیاں خاموش ہو جائیں، انسان کے اندر سختی اور خود غرضی کے بت جاگ اٹھتے ہیں۔
باپ دراصل انسان کی اخلاقی سمت کا نام ہے۔ وہ سمت جب ٹوٹ جائے تو راستے بہت ہو جاتے ہیں مگر منزلیں گم ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے باپ کی موجودگی صرف ایک فرد کی موجودگی نہیں، ایک پوری فکری تہذیب کی بقا ہے۔
سلام ہو اُس مردِ آہن پر، جو اپنے دکھ کو مسکراہٹ کی زرہ پہنا کر اولاد کے لیے نرم زندگی تراشتا رہا۔ جو لفظوں سے نہیں، اپنے عمل سے محبت کی تفسیر لکھتا رہا۔ جو چپ رہا، مگر اس کی خاموشی میں صدیاں بولتی رہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ باپ کبھی مرتا نہیں، وہ صرف وقت کی کتاب میں ایک ایسا باب بن جاتا ہے جسے پڑھتے ہوئے ہر آنکھ نم اور ہر دل نرم ہو جاتا ہے۔
