قیدِ بے زنجیر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کا سب سے عظیم معجزہ انسان کا وجود نہیں، اس کا شعور ہے۔ یہی شعور اسے فرشتوں سے ممتاز اور حیوانوں سے برتر بناتا ہے، کیونکہ انسان کو صرف زندگی نہیں دی گئی، بلکہ زندگی کے انتخاب کی آزادی بھی عطا کی گئی ہے۔ تاریخ کے ہر جابر نے اسی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی۔ کسی نے تلوار سے، کسی نے تخت سے، کسی نے مذہب کی آڑ میں اور کسی نے سیاست کے نام پر۔ مگر ہر دور میں ایک گوشۂ دل ایسا باقی رہا جہاں انسان اپنے ضمیر کے ساتھ آزاد کھڑا تھا۔
اکیسویں صدی نے پہلی بار ایک ایسا جبر تخلیق کیا ہے جس کے لیے نہ قید خانوں کی ضرورت ہے، نہ ہتھکڑیوں کی اور نہ ہی کوڑوں کی۔ اس جبر کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان سے اس کی آزادی چھینتا بھی ہے اور اسے احساس تک نہیں ہونے دیتا کہ وہ غلام ہو چکا ہے۔ بلکہ اس کی ذہنی ساخت اس طرح تشکیل دی جاتی ہے کہ وہ اپنی غلامی کو ہی آزادی سمجھنے لگتا ہے۔
یہی ڈیجیٹل صارفیت کا سب سے مہلک فریب ہے۔
پرانا سرمایہ دار انسان کی ضروریات پوری کرتا تھا، آج کا سرمایہ دار انسان کی ضروریات پیدا کرتا ہے۔ پہلے بازار انسان کے انتظار میں ہوتے تھے، اب انسان بازار کے انتظار میں رہتا ہے۔ پہلے اشتہار مصنوعات بیچتے تھے، آج اشتہار شخصیتیں تراشتے ہیں۔ پہلے انسان چیزیں خریدتا تھا، آج چیزیں انسان کو خرید رہی ہیں۔
جدید الگورتھمز انسان کے دل و دماغ کے وہ راز جانتے ہیں جن سے خود انسان بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔ وہ اس کی تنہائی، خوف، محرومی، خواہش، کمزوری اور نفسیاتی خلاؤں کا مسلسل مطالعہ کرتے ہیں۔ پھر ایک خاموش منصوبہ بندی کے تحت پہلے اسے اس کی زندگی سے غیر مطمئن کیا جاتا ہے، پھر اس کے اندر مصنوعی خواہشات پیدا کی جاتی ہیں، اور آخر میں انہی خواہشات کا علاج کسی برانڈ، کسی ایپ یا کسی نئی خواہش کی صورت میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
سانحہ یہ نہیں کہ انسان خرید رہا ہے؛ سانحہ یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس کا اپنا ہے۔
یہ وہ نفسیاتی استعمار ہے جہاں زنجیریں دکھائی نہیں دیتیں، مگر انسان کے فیصلے، اس کی پسند، اس کی نفرت، اس کی رائے، حتیٰ کہ اس کے خواب تک پروگرام کیے جا رہے ہوتے ہیں۔
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نظام نے انسان کی قدر کا معیار ہی بدل دیا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب انسان کو اس کے کردار، علم، دیانت، حلم اور بصیرت سے پہچانا جاتا تھا۔ آج انسان کی قیمت اس کے فالوورز، لائیکس، ویوز، برانڈڈ لباس اور مصنوعی شہرت سے لگائی جاتی ہے۔ شخصیت کی جگہ پروفائل نے لے لی ہے، وقار کی جگہ وائرل ہونے نے، اور کردار کی جگہ امیج سازی نے۔
انسان “ہونے” سے نکل کر صرف “دکھائی دینے” کی کوشش میں مصروف ہو گیا ہے۔
جب شناخت کردار کے بجائے نمائش سے وابستہ ہو جائے تو دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ یہی خلا اضطراب، بے چینی، احساسِ کمتری اور مسلسل ذہنی تھکن کی صورت میں پوری نسل کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
یہ صرف معاشی استحصال نہیں، بلکہ شعور کی نوآبادیات ہے۔
ماضی میں سامراج زمینوں پر قبضہ کرتا تھا، آج ڈیجیٹل سامراج انسان کے ذہن پر قبضہ کر رہا ہے۔ پہلے قوموں کے وسائل لوٹے جاتے تھے، آج انسان کا وقت، توجہ، جذبات اور نجی معلومات لوٹی جا رہی ہیں۔ ہر کلک، ہر سرچ، ہر توقف، ہر پسند اور ہر تبصرہ ایک ایسا خام مال ہے جس سے مصنوعی ذہانت انسان کا نفسیاتی نقشہ تیار کرتی ہے، تاکہ اگلی بار وہ پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں اس کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی سروس کی قیمت ادا نہیں کر رہے تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ خود اس سروس کی اصل قیمت ہیں۔
یہ منڈی صرف اشیا نہیں بیچتی، یہ خواب بیچتی ہے، شناخت بیچتی ہے، احساسِ برتری بیچتی ہے، اور پھر انہی چیزوں کے بدلے انسان کا شعور خرید لیتی ہے۔
اس پورے عمل میں سب سے زیادہ نقصان ثقافت، زبان، روایت اور روحانیت کا ہوتا ہے۔
مقامی تہذیبیں آہستہ آہستہ عالمی منڈی کے شور میں گم ہو رہی ہیں۔ ہر وہ چیز جو گہری، خاموش، باوقار اور دیرپا ہے، غیر اہم بنا دی جاتی ہے، جبکہ ہر وہ چیز جو چونکائے، الجھائے اور فوری ردِعمل پیدا کرے، اسے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
رشتے بھی کنٹینٹ بن گئے ہیں، عبادت بھی کنٹینٹ بن گئی ہے، آنسو بھی کنٹینٹ ہیں اور مسکراہٹ بھی۔
زندگی جینے کے لیے نہیں، دکھانے کے لیے رہ گئی ہے۔
مگر مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں۔
آگ سے گھر بھی روشن ہوتا ہے اور شہر بھی جلتے ہیں؛ فیصلہ آگ نہیں، اسے استعمال کرنے والے ہاتھ کرتے ہیں۔ اسی طرح ٹیکنالوجی بھی علم، صحت، تحقیق، تعلیم اور انسانی ترقی کی عظیم نعمت بن سکتی ہے، بشرطیکہ انسان اس کا مالک رہے، غلام نہ بن جائے۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت ڈیجیٹل خواندگی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل بصیرت ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف موبائل چلانا نہیں، بلکہ موبائل کے ذریعے چلائے جانے سے بچنا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ شعور دینا ہوگا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز ضرورت نہیں ہوتی، ہر رجحان حقیقت نہیں ہوتا، ہر وائرل شے قابلِ تقلید نہیں ہوتی، اور ہر مقبول آواز درست نہیں ہوتی۔
انسان کی اصل عظمت اس کے ہاتھ میں موجود اسکرین سے نہیں، اس کے سینے میں موجود ضمیر سے پیدا ہوتی ہے۔
اگر ہم نے اپنے بچوں کو سوچنے کا ہنر نہ دیا تو آنے والی دنیا میں وہ معلومات کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی حکمت کی ایک بوند کو ترستے رہیں گے۔
یاد رکھیے!
تہذیبیں اس وقت تباہ نہیں ہوتیں جب ان کے شہر ویران ہوتے ہیں، بلکہ اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان کے انسان سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اور جس دن انسان نے اپنی آزادی کے بدلے اپنی سہولت کا سودا کر لیا، اسی دن وہ ایک ایسے قفس کا مکین بن جائے گا جس کی سلاخیں نظر نہیں آئیں گی، مگر جس کی قید نسلوں تک محسوس کی جائے گی۔ اس دن غلامی کا سب سے المناک منظر یہ ہوگا کہ قیدی اپنی زنجیروں پر فخر کر رہا ہوگا، اور اسے یقین ہوگا کہ وہ مکمل طور پر آزاد ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top