(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہر نارسسٹ ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا؛ وہ برسوں کی خاموش تربیت، غیر متوازن محبت، بےجا تعریف اور بےمحاسبہ اختیار کی فصل ہوتا ہے۔ یہ فصل صرف ماں نہیں بوتی، باپ، خاندان، معاشرہ، مدرسہ، میڈیا اور ہماری اجتماعی اقدار بھی اس کی آبیاری کرتی ہیں۔ اس لیے مسئلہ کسی ایک صنف کا نہیں، ایک پورے تربیتی نظام کا ہے۔
بچے کو اگر یہ سکھایا جائے کہ وہ ہمیشہ درست ہے، اس کی خواہش قانون ہے، اس کی انا احترام سے زیادہ قیمتی ہے، اور اس کی غلطی بھی دوسروں کی سازش ہے، تو وہ آہستہ آہستہ انسان نہیں، اپنے ہی بت کا پجاری بن جاتا ہے۔ پھر وہ محبت نہیں کرتا، ملکیت قائم کرتا ہے؛ رشتہ نہیں نبھاتا، اختیار چلاتا ہے؛ مکالمہ نہیں کرتا، فیصلے سناتا ہے۔
عاجزی وہ علم ہے جو تعریف سے نہیں، احتساب سے پیدا ہوتا ہے۔ جس بچے نے کبھی “مجھ سے غلطی ہوئی” کہنا نہیں سیکھا، وہ بڑا ہو کر کبھی “مجھے معاف کر دو” بھی نہیں کہہ پاتا۔ اور جو معافی کا ہنر نہیں جانتا، وہ محبت کا حق بھی پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔
انا ایک ایسا آئینہ ہے جس پر خود پسندی کی دھند جم جائے تو سامنے کھڑا ہر شخص بدصورت دکھائی دینے لگتا ہے۔ پھر وہ دوسروں کے لباس، چہرے، لہجے، خواب، پسند اور شخصیت میں عیب ہی عیب تلاش کرتا ہے، کیونکہ اسے دوسروں کو چھوٹا رکھ کر اپنی قامت بلند محسوس ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو انسان دوسروں کی عزت کم کرتا رہتا ہے، وہ اپنے باطن کی محرومی کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔
گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان کا دل تشکیل پاتا ہے۔ اگر وہاں محبت کے ساتھ حدود، شفقت کے ساتھ جواب دہی، اور اعتماد کے ساتھ انکسار نہ سکھایا جائے تو گھر آہستہ آہستہ کردار کی درسگاہ نہیں، انا کی سلطنت بن جاتا ہے۔ ایسی سلطنتوں میں حکم بہت ہوتے ہیں، سکون نہیں؛ خاموشی بہت ہوتی ہے، اطمینان نہیں؛ لوگ ساتھ رہتے ہیں مگر دل ایک دوسرے سے ہجرت کر جاتے ہیں۔
اولاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ ہر بحث جیت لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کو جیتنے کے قابل ہو۔ وہ اپنی رائے بھی رکھے اور دوسروں کی رائے کا احترام بھی کرے؛ اپنی خوبیوں پر شکر کرے اور اپنی خامیوں کا اعتراف بھی۔ یہی وہ توازن ہے جو انسان کو طاقتور بھی بناتا ہے اور محبوب بھی۔
یاد رکھیے، محبت کا سب سے خوبصورت وارث وہ نہیں جو خود کو سب سے بڑا سمجھے، بلکہ وہ ہے جس کی موجودگی میں دوسروں کی عزت، اعتماد اور مسکراہٹ محفوظ رہیں۔ کیونکہ گھر دیواروں سے نہیں، ان دلوں سے بنتے ہیں جہاں انا تخت سے اتر کر انسانیت کے قدموں میں بیٹھنا سیکھ لے۔
