خوش نصیبی کا راز: حالات نہیں، تعلقِ خدا کا نام

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان صدیوں سے خوش نصیبی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ کسی کے نزدیک خوش نصیبی دولت کا نام ہے، کسی کے نزدیک اقتدار، شہرت، آسائش اور دنیا کی آسانیاں۔ مگر جب ہم زندگی کے ان کرداروں کو دیکھتے ہیں جنہیں انسانیت سب سے زیادہ مقدس اور کامیاب مانتی ہے، تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ عظمت کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑے لوگ ہمیشہ آسان راستوں کے مسافر نہیں تھے۔
خوش نصیبی کا تعلق شاید ان راستوں سے نہیں جن پر پھول بچھے ہوں، بلکہ اس یقین سے ہے جو انسان کو کانٹوں پر بھی ثابت قدم رکھے۔
دنیا کی نظر میں آزمائش کبھی خوش بختی کی علامت نہیں ہوتی۔ جدائی، تنہائی، محرومی، الزام، مخالفت اور تکلیف انسان کو بدقسمتی کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں، مگر اہلِ معرفت جانتے ہیں کہ کبھی کبھی یہی آزمائشیں انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہیں جہاں دنیا کی کوئی دولت نہیں پہنچ سکتی۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کنویں کی تاریکی بھی خوش نصیبی کا آغاز ہو سکتی ہے، اگر ساتھ اللہ کی نگاہِ کرم ہو۔ بھائیوں کی جدائی، غلامی کا بازار، تہمت کی آزمائش اور قید کی تنہائی بظاہر مشکلات تھیں، مگر انہی راستوں نے انہیں عزت، حکمت اور اقتدار کی منزل تک پہنچایا۔
حضرت نوحؑ کی طویل دعوت، حضرت یونسؑ کی مچھلی کے پیٹ کی تنہائی، حضرت موسیٰؑ کا فرعون کے مقابل کھڑا ہونا، یہ سب ہمیں ایک راز سمجھاتے ہیں کہ اللہ کے مقرب بندوں کی خوش نصیبی آرام کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کی طاقت کا نام ہوتی ہے۔
اور پھر رحمتِ عالم ﷺ کی زندگی سامنے آتی ہے، جہاں خوش نصیبی اپنے کمال پر نظر آتی ہے۔ وہ ہستی جن پر ربِ کائنات درود بھیجتا ہے، وہی ہستی طائف کے پتھر بھی برداشت کرتی ہے۔ جس کے قدموں میں آسمان جھکتا ہے، وہی زمین پر دشمنوں کی اذیتیں سہتی ہے۔ جس کے لیے معراج کے دروازے کھلتے ہیں، وہی یتیمی، غربت اور مخالفت کے راستوں سے گزرتی ہے۔
یہاں انسان کو خوش نصیبی کا اصل مفہوم سمجھ آتا ہے۔
خوش نصیب وہ نہیں جس کی زندگی میں کبھی اندھیرا نہ آیا، بلکہ خوش نصیب وہ ہے جس کے اندر اندھیرے میں بھی روشنی باقی رہی۔
کربلا کا واقعہ بھی اسی راز کی ایک عظیم تفسیر ہے۔ دنیا کی نظر میں قربانی، جدائی اور شہادت ایک انتہائی دردناک منظر ہے، مگر روحانی نظر سے دیکھا جائے تو وہ حق، وفا اور اصول کی وہ بلندی ہے جہاں انسان اپنی جان دے کر بھی امر ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی بچا کر تاریخ سے مٹ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ قربانی دے کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کا انسان خوش نصیبی کو چیزوں میں تلاش کرتا ہے، کیفیتوں میں نہیں۔ وہ بڑا گھر چاہتا ہے مگر بڑا دل نہیں، زیادہ مال چاہتا ہے مگر زیادہ سکون نہیں، لمبی زندگی چاہتا ہے مگر بامقصد زندگی نہیں۔
اس نے سہولتوں کے چراغ تو بہت روشن کر لیے، مگر دل کے اندھیرے کم نہ کر سکا۔
ترقی اگر انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر آسائشیں دل کا اطمینان چھین لیں، اگر دولت انسان کو اپنے خالق سے غافل کر دے، تو ایسی ترقی دراصل ایک خوبصورت لباس میں چھپی ہوئی محرومی ہے۔
خوش نصیبی بینک کے اعداد میں نہیں، دل کے سکون میں ہے۔
خوش نصیبی محل کی وسعت میں نہیں، روح کی وسعت میں ہے۔
خوش نصیبی یہ نہیں کہ دنیا ہمیں کتنا دیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ پاتے ہیں اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خوش نصیب انسان وہ ہے جو کوشش بھی کرتا ہے اور شکر بھی کرتا ہے، دنیا میں رہتا بھی ہے مگر دنیا کو اپنے دل کا مالک نہیں بناتا۔ وہ دولت رکھتا ہے مگر دولت اسے نہیں رکھتی۔ وہ لوگوں میں رہتا ہے مگر اپنے رب سے تعلق نہیں کھوتا۔
زندگی کا کمال یہ نہیں کہ انسان کے راستے ہمیشہ ہموار ہوں، بلکہ یہ ہے کہ انسان کا دل ہر راستے پر اپنے رب کے ساتھ قائم رہے۔
کیونکہ اصل خوش نصیبی یہ نہیں کہ انسان کو کبھی آنسو نہ ملیں؛
اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ آنسو بھی آئیں تو دعا بن جائیں۔
اصل خوش نصیبی یہ نہیں کہ انسان کو دنیا جھک کر سلام کرے؛
اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ انسان کا دل اپنے رب کے سامنے جھکنے کا شرف پا لے۔
اور یہی وہ دولت ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر دولت فقیر نظر آتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top