دکھ کی دیمک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کے جسم پر لگنے والے زخم سب کو دکھائی دیتے ہیں، مگر روح پر اترنے والے زخم اکثر خاموش رہتے ہیں۔ جسم کا درد چیخ کر اپنی موجودگی کا اعلان کر دیتا ہے، مگر دل کا درد اکثر مسکرا کر بھی چھپایا جا سکتا ہے۔
اور یہی چھپ جانے والا دکھ کبھی کبھی انسان کے اندر ایک ایسی خاموش دیمک بن جاتا ہے جو باہر سے سب کچھ سلامت دکھاتی ہے، مگر اندر ہی اندر بنیادوں کو کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔
دکھ اگر آنکھوں سے بہہ جائے تو آنسو بن جاتا ہے، لفظوں میں ڈھل جائے تو فریاد، دعا میں اتر جائے تو عبادت، اور کسی مقصد میں بدل جائے تو قوت بن جاتا ہے۔ مگر جب دکھ دل کے کسی تاریک گوشے میں قید ہو جائے، جہاں نہ اظہار کی روشنی پہنچے نہ تسلی کی ہوا، تو وہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر کی لکڑی کو کھانے لگتا ہے۔
دیمک شور نہیں کرتی۔
یہ اس کی سب سے خطرناک صفت ہے۔
وہ نہ دروازہ توڑتی ہے، نہ دیوار گراتی ہے؛ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ دل کے اندر ٹھہرا ہوا دکھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ ایک دن میں انسان کو نہیں بدلتا، بلکہ چھوٹی چھوٹی جگہوں سے انسان کی خوشی، اعتماد، تعلق اور امید کو کم کرنے لگتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود بھی حیران ہوتا ہے کہ میرے اندر یہ ویرانی کہاں سے آ گئی؟
اصل میں کچھ دکھ وقت سے نہیں، توجہ سے ٹھیک ہوتے ہیں۔ کچھ زخم مرہم نہیں، اعتراف چاہتے ہیں۔ کچھ تکلیفیں یہ چاہتی ہیں کہ کوئی صرف اتنا کہہ دے: “میں جانتا ہوں کہ تم نے بہت برداشت کیا ہے۔”
مگر انسان کی ایک عجیب عادت ہے؛ وہ جسم کی تھکن کو تو آرام دے دیتا ہے، مگر دل کی تھکن کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ دوسروں کے سامنے مضبوط رہنے کی کوشش میں اپنے ہی اندر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔
ہر مضبوط دکھائی دینے والا انسان اندر سے مضبوط ہو، یہ ضروری نہیں۔
کچھ لوگ مسکراہٹ کو پردہ بنا لیتے ہیں، مصروفیت کو پناہ، خاموشی کو زبان۔ وہ چلتے پھرتے رہتے ہیں، ذمہ داریاں نبھاتے رہتے ہیں، مگر اندر کہیں کوئی پرانا دکھ اپنا گھر بنا چکا ہوتا ہے۔
دل بھی عجیب مکان ہے؛ یہاں رکھ دی گئی ہر چیز اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ محبت رکھی جائے تو خوشبو پھیلتی ہے، شکر رکھا جائے تو سکون، مگر اگر مسلسل شکوے، محرومیاں اور ناقابلِ بیان دکھ جمع ہوتے رہیں تو یہی دل کا موسم بدل دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی غمگین نہ ہو۔ غم انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ دکھ تو محبت کی قیمت بھی ہوتا ہے۔ جس دل نے محبت کی ہو، وہ کبھی نہ کبھی درد سے ضرور گزرتا ہے۔
مگر فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ دکھ کو مہمان بنا کر رکھتے ہیں، اور کچھ اسے گھر کا مالک بنا دیتے ہیں۔
دکھ کو دل میں جگہ دینا اور بات ہے، اسے دل پر حکومت دے دینا اور بات۔
سمجھ دار انسان اپنے زخموں کو دفن نہیں کرتا، انہیں سمجھتا ہے۔ وہ اپنے ماضی کے اندھیروں میں ہمیشہ کے لیے قید نہیں ہوتا، بلکہ ان اندھیروں سے سیکھ کر روشنی کا راستہ تلاش کرتا ہے۔
کیونکہ دل قبرستان نہیں کہ ہر درد کو دفن کرتا رہے؛ دل تو ایک باغ ہے، اسے وقتاً فوقتاً صاف کرنا پڑتا ہے تاکہ نئے موسم داخل ہو سکیں۔
کچھ معافیاں دوسروں کے لیے نہیں، اپنے دل کی آزادی کے لیے ہوتی ہیں۔ کچھ آنسو کمزوری نہیں، اندر جمع بوجھ کے نکلنے کا راستہ ہوتے ہیں۔ کچھ دعائیں مسائل بدلنے سے پہلے انسان کا اندر بدل دیتی ہیں۔
دکھ کو دیمک بننے سے روکنے کا راستہ یہی ہے کہ اسے شعور، محبت، دعا اور اظہار کی روشنی ملتی رہے۔
کیونکہ جو درد زبان پا لے، وہ اکثر شفا کی طرف پہلا قدم اٹھا لیتا ہے؛ مگر جو درد ہمیشہ خاموش رہے، وہ اندر ہی اندر انسان کی بنیادوں سے مکالمہ کرتا رہتا ہے۔
انسان کو اپنے دل کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ باہر کے طوفانوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اندر کا گھر مضبوط ہونا ضروری ہے۔
اور یاد رکھنا چاہیے:
دکھ زندگی کا حصہ ہے، مگر اسے اپنی پوری زندگی بننے دینا سب سے بڑا نقصان ہے۔
کیونکہ جو دیمک نظر نہیں آتی، وہی کبھی کبھی سب سے مضبوط دکھائی دینے والی لکڑی کو بھی اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top