تقدیر کے نام پر قتلِ شعور

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

سب سے خطرناک ظلم وہ نہیں جو تلوار کرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ذہنوں پر قبضہ کر لیتا ہے۔ جسموں کی زنجیریں ایک دن ٹوٹ جاتی ہیں، مگر جب شعور کو قید کر لیا جائے تو نسلیں غلام پیدا ہوتی ہیں اور غلام ہی مر جاتی ہیں۔
ستم گر کی پہلی خواہش یہ نہیں ہوتی کہ لوگ اس سے محبت کریں؛ اس کی اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کے ظلم کو تقدیر سمجھنے لگیں۔ وہ چاہتا ہے کہ آنکھوں میں آنسو تو ہوں مگر زبانوں پر سوال نہ ہو۔ ہاتھ زخمی ہوں مگر مٹھی بند نہ ہو۔ دل جلتے رہیں مگر لبوں پر صرف “یہ بھی اللہ کی مرضی ہے” کی تسبیح ہو، اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھے بغیر۔
جب دین، انسان کو بیدار کرنے کے بجائے سلانے کا ذریعہ بنا دیا جائے، تو مسجدیں آباد ہوتی ہیں مگر معاشرے ویران ہو جاتے ہیں۔ عبادتیں بڑھتی ہیں مگر انصاف کم ہو جاتا ہے۔ تسبیح کے دانے گھومتے رہتے ہیں مگر ظلم کے پہیے بھی پوری رفتار سے چلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں مذہب دلوں کی روشنی نہیں رہتا بلکہ ضمیر پر ڈالی جانے والی ایک دبیز چادر بن جاتا ہے۔
پھر محرومی کو قسمت کا دوسرا نام دے دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے پیچھے کسی کا لالچ، کسی کی ناانصافی اور کسی کی بے حسی کھڑی ہوتی ہے۔ ظلم کو آزمائش کہہ کر ظالم کے ہاتھ مضبوط کیے جاتے ہیں۔ حق کے لیے اٹھنے والی آواز کو فتنہ قرار دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ غلامی کو حکمت کا جامہ پہنا دیا جاتا ہے اور آزادی کی خواہش کو ناشکری کا نام دے دیا جاتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب الفاظ اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ صبر، بزدلی کا مترادف بنا دیا جاتا ہے؛ قناعت، استحصال برداشت کرنے کا دوسرا نام بن جاتی ہے؛ اور اطاعت، ہر باطل کے سامنے سر جھکانے کی دلیل بنا دی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقی صبر ظلم پر خاموشی نہیں، بلکہ حق پر ثابت قدمی کا نام ہے۔ حقیقی توکل ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ پوری جدوجہد کے بعد نتیجہ خدا پر چھوڑ دینا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ آسمانی تعلیمات انسان کو جھکانے نہیں، اٹھانے آئیں؛ زنجیریں مضبوط کرنے نہیں، توڑنے آئیں؛ خوف پیدا کرنے نہیں، خوف سے آزاد کرنے آئیں۔ ہر وہ صدا جو انسان کو اس کے حق، اس کی عزت اور اس کی آزادی سے محروم کر دے، خواہ کتنی ہی مقدس زبان میں کیوں نہ بولی جائے، وہ روشنی نہیں، دھند ہے۔
یاد رکھیے! جب کسی قوم سے سوال کرنے کا حوصلہ چھین لیا جائے تو اس سے مستقبل بھی چھین لیا جاتا ہے۔ جب اسے یہ یقین دلا دیا جائے کہ ہر ظلم پر خاموش رہنا ہی نیکی ہے، تو ظالم کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں رہتی؛ مظلوم خود اس کی سلطنت کے ستون بن جاتے ہیں۔
زندہ قومیں تقدیر پر ایمان رکھتی ہیں، مگر تقدیر کے نام پر ظلم سے سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ وہ آزمائش کو پہچانتی ہیں، مگر ظالم کو آزمائش کا نمائندہ نہیں مانتیں۔ وہ موت کے مقررہ وقت پر یقین رکھتی ہیں، مگر اس یقین کو قاتل کے لیے امان نامہ نہیں بننے دیتیں۔
دین اگر انسان کے اندر عدل، غیرت، سچائی اور حق گوئی کی آگ روشن نہ کرے تو وہ محض رسموں کا بوجھ رہ جاتا ہے۔ اور جو ایمان انسان کو باطل کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہ دے، وہ روح کی پرواز نہیں، فکر کی اسیری ہے۔
قوموں کی قبریں مٹی میں نہیں بنتیں؛ وہ اس دن بننا شروع ہوتی ہیں جب ان کے دل دھڑکتے رہتے ہیں مگر ضمیر خاموش ہو جاتا ہے، جب ان کی پیشانیاں سجدوں سے روشن ہوتی ہیں مگر ان کے ہاتھ مظلوم کا ہاتھ تھامنے سے خالی رہتے ہیں، اور جب وہ حق کی خاطر بولنے کے بجائے خاموشی کو تقدس کا لباس پہنا دیتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top