(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں ہر کتاب کا ایک کلائمیکس ہوتا ہے، مگر زندگی کا سب سے المناک کلائمیکس وہ نہیں جہاں کوئی کردار مر جاتا ہے؛ بلکہ وہ ہے جہاں ایک کردار زندہ رہتے ہوئے بھی متن سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
کچھ لوگ اپنی غلطیوں سے نہیں، اپنے نامکمل شعور سے ہارتے ہیں۔ انہیں زندگی ایک ایسی زبان میں دی جاتی ہے جس کا رسم الخط انہیں کبھی سکھایا ہی نہیں جاتا۔ وہ محبت مانگنے کا سلیقہ نہیں جانتے، اس لیے ضد میں بدل جاتے ہیں؛ درد بیان کرنے کا ہنر نہیں جانتے، اس لیے خاموشی اوڑھ لیتے ہیں؛ اور قبول کیے جانے کی خواہش انہیں ایسے فیصلوں تک لے جاتی ہے جنہیں دنیا صرف جرم کا نام دیتی ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے وجود کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں: “مجھے مت بچاؤ… صرف مجھے صحیح پڑھ لو۔”
مگر وقت کا قلم عدالت نہیں لگاتا۔ وہ اپیلیں نہیں سنتا، صرف صفحات پلٹتا ہے۔
زندگی کی سیاہی کا ایک عجیب مزاج ہے۔ وہ دلیلوں سے نہیں، لمحوں سے لکھتی ہے۔ ایک لمحہ اگر بے توجہی میں گزر جائے تو بعد کے ہزار اعتراف بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ اسی لیے بعض معذرتیں مرہم نہیں ہوتیں، صرف قبر کے کتبے پر کندہ الفاظ بن جاتی ہیں۔
پھر کہانی میں ایک مقام آتا ہے جہاں باقی کردار یکایک سمجھدار ہو جاتے ہیں۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ جس شخص کو وہ غرور کہتے رہے، وہ دراصل ٹوٹنے سے پہلے کی آخری دیوار تھی؛ جسے وہ سرد مہری سمجھتے رہے، وہ برسوں سے جمے ہوئے آنسو تھے؛ اور جسے وہ قصور کہتے رہے، وہ اکثر نامکمل تربیت، ادھوری محبت اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کا منطقی انجام تھا۔
مگر اس انکشاف کا المیہ یہ ہے کہ حقیقت ہمیشہ وقت پر نہیں آتی۔ وہ اکثر اختتام کے بعد پہنچتی ہے، جب سننے والا خاموشی کے اُس کنارے پر جا چکا ہوتا ہے جہاں الفاظ کی کوئی رسائی نہیں رہتی۔
شاید اسی لیے زندگی تجارت کی سب سے کامیاب شکل ہے۔ یہاں ہر چیز کی قیمت ہے، مگر قیمت ہمیشہ پہلے ادا کرنی پڑتی ہے۔ محبت بھی، توجہ بھی، اعتماد بھی، اور انسان بھی۔ بعد میں ادا کی جانے والی قیمت صرف پچھتاوا خریدتی ہے، انسان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تقدیر کا سب سے تلخ استعارہ “کلائمیکس” ہے۔ ہم اسے کہانی کا عروج سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ دراصل وہ مقام ہوتا ہے جہاں سچائی پہلی بار بولتی ہے، مگر بہت دیر سے؛ انصاف پہلی بار جاگتا ہے، مگر غلط وقت پر؛ اور محبت پہلی بار اپنا اعتراف کرتی ہے، مگر اُس شخص کے بغیر جسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
زندگی کا سب سے بڑا سانحہ موت نہیں؛ بلکہ وہ دیر سے بولا گیا سچ ہے، جو کسی کے حق میں تو لکھا جاتا ہے، مگر کبھی اس کی سماعت تک نہیں پہنچ پاتا۔
