(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ لوگ زندگی میں آ کر نہیں، بلکہ نہ آ کر ہمیشہ کے لیے یاد رہ جاتے ہیں۔
ان کی یاد کسی ملاقات کی خوشبو سے نہیں، بلکہ ایک خالی جگہ کی خاموشی سے جنم لیتی ہے۔
عجیب راز ہے کہ بعض ملاقاتیں ہاتھ ملانے سے نہیں، خالی کرسیوں سے مکمل ہوتی ہیں۔ وہاں کوئی سامنے بیٹھا نہیں ہوتا، مگر گفتگو جاری رہتی ہے۔ خاموشی اپنے اندر ہزاروں سوال چھپائے بولتی ہے، اور جواب کسی غیر مرئی آواز کی طرح دل کے دریچوں پر دستک دیتے رہتے ہیں۔
بس ایک شخص اپنی تمام تر جسمانی موجودگی سمیت وہاں سے غائب ہوتا ہے۔
تب پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ انتظار بھی ایک زندہ کردار ہے۔
وہ دروازے پر کھڑا رہتا ہے، موسموں کی سختیاں سہتا ہے، وقت کے ہاتھوں بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر امید کی انگلی آخری لمحے تک نہیں چھوڑتا۔ وہ جانتا ہے کہ شاید قدموں کی چاپ کبھی نہ آئے، پھر بھی دروازہ بند نہیں کرتا۔
مگر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کے لیے آنکھیں راستہ دیکھتی رہیں، ایک دن وہ خود راستوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ پھر ملاقاتیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں اور لوگ یادوں کے عجائب گھروں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔
اگر کبھی پھر ہماری ملاقات ہوئی تو شاید میں وہاں موجود نہ ہوں۔
میری جگہ چند ادھورے جملے ہوں گے، کچھ بےنام خوشبوئیں، ایک خاموش کمرہ اور وہ احساس جو کسی کے چلے جانے کے بعد بھی دیر تک دیواروں میں سانس لیتا رہتا ہے۔
تم آنا ضرور…
مگر اس بار مجھے تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اندر اس خلا کو محسوس کرنے کے لیے جو میری غیر موجودگی نے پیدا کیا ہوگا۔
تب تمہیں معلوم ہوگا کہ بعض لوگ رخصت نہیں ہوتے، وہ صرف آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں؛ جیسے سورج ڈوبتا نہیں، صرف ہماری سمت سے چھپ جاتا ہے۔
اور پھر شاید تم سمجھ سکو گے کہ ہر کہانی کا سب سے الم ناک باب موت نہیں ہوتا۔
کبھی سب سے بڑا المیہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کوئی شخص پوری زندگی تم تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، اپنی خاموشیوں میں تمہارا نام لکھتا رہتا ہے، اور تمہیں اس کی قدر اس وقت آتی ہے جب اس کی آواز نہیں، صرف اس کی غیر موجودگی باقی رہ جاتی ہے۔
تب ہماری ملاقات ضرور مکمل ہوگی…
مگر ایک ایسی تکمیل کے ساتھ جس میں کمی ہمیشہ زندہ رہے گی۔
ایک ایسی ملاقات، جہاں دو لوگ سامنے نہیں ہوں گے، مگر ایک دوسرے کے درمیان برسوں سے قائم فاصلے کا ماتم موجود ہوگا۔
کیونکہ بعض انسان چلے نہیں جاتے…
وہ بس ہماری زندگی کے ایک ایسے باب میں بدل جاتے ہیں جسے ہم ہر بار پڑھتے ہیں، مگر ہر بار ایک نئی کمی کے ساتھ۔
