(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ میں دنیا کو دیکھ رہا ہوں۔
بعد میں معلوم ہوا کہ شاید دنیا مجھے دیکھ رہی تھی۔
میں جن راستوں پر چلتا رہا، جن چہروں کو پہچانتا رہا، جن حقیقتوں کو آخری سچ سمجھتا رہا، وہ سب شاید ایک بڑے پردے کے نقش تھے۔ خوبصورت، منظم اور قابلِ قبول… مگر پردے کے پیچھے کیا تھا، اس سوال نے ایک دن میرے وجود میں ایسی ہلچل پیدا کی کہ میری پوری عمارتِ یقین لرزنے لگی۔
انسان عجیب مخلوق ہے۔
وہ سمندر کی گہرائیوں میں اترنے سے نہیں گھبراتا، ستاروں کی وسعتوں کو ناپنے کی کوشش کرتا ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنا پرچم گاڑ دیتا ہے، مگر اپنے اندر اترنے کے خیال سے کانپ اٹھتا ہے۔
کیونکہ باہر کی دنیا میں خطرات ہوتے ہیں،
مگر اندر کی دنیا میں حقیقتیں ہوتی ہیں۔
اور حقیقت ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔
میں نے بھی برسوں اپنے اندر ایک شہر آباد رکھا تھا۔
اس شہر میں منطق کی سڑکیں تھیں، تجربے کے چراغ تھے، یقین کی عمارتیں تھیں اور دلیل کے محافظ دروازوں پر کھڑے تھے۔
مجھے یقین تھا کہ ہر چیز کی ایک وجہ ہے۔
ہر سایے کے پیچھے کوئی جسم ہے۔
ہر آواز کے پیچھے کوئی منبع ہے۔
ہر سوال کے آخر میں ایک جواب انتظار کر رہا ہے۔
مگر پھر ایک دن مجھے محسوس ہوا کہ میرے شہر کی کچھ دیواروں پر ایسی دراڑیں نمودار ہو رہی ہیں جنہیں کوئی معمار پہچان نہیں سکتا تھا۔
وہ دراڑیں اینٹوں میں نہیں تھیں۔
وہ میرے یقین میں تھیں۔
ابتدا میں میں نے انہیں نظر انداز کیا۔
انسان ہمیشہ یہی کرتا ہے۔
وہ حقیقت کو بدلنے کے بجائے اپنے شعور کو سمجھاتا ہے کہ جو کچھ دیکھا گیا ہے، وہ دیکھا نہیں گیا۔
وہ اپنے دل کے آئینے پر دھند جما دیتا ہے تاکہ عکس صاف دکھائی نہ دے۔
مگر کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو دھند سے نہیں چھپتیں۔
وہ دھند کے اندر سے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ زندگی صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھتی ہے۔
چیزیں اپنی جگہ موجود تھیں، مگر ان کے معنی بدل رہے تھے۔
وہی راستے تھے، مگر منزل کا مفہوم بدل گیا تھا۔
وہی لوگ تھے، مگر ان کے چہروں کے پیچھے چھپی خاموشیاں زیادہ بلند ہو گئی تھیں۔
وہی آسمان تھا، مگر اب اس کی وسعت میں ایک سوال تیرتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
آخر ہم کون ہیں؟
اور یہ جو ہم “میں” کہتے ہیں، کیا واقعی ہمارا اپنا ہے؟
یا یہ بھی ایک عارضی لباس ہے جو وقت نے ہمیں پہنایا ہے؟
مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان اپنے جسم میں قید نہیں ہوتا، وہ اپنے تصورات میں قید ہوتا ہے۔
وہ جن چیزوں کو حقیقت سمجھتا ہے، اکثر وہی اس کی سب سے بڑی دیواریں بن جاتی ہیں۔
ہم اپنی چھوٹی سی دنیا کو کائنات سمجھ لیتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ کائنات ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔
میں نے اپنے اندر ایک آواز سنی۔
وہ کوئی چیخ نہیں تھی۔
وہ کوئی حکم نہیں تھا۔
وہ بس ایک مسلسل دستک تھی۔
ایسی دستک جو دروازے کو نہیں، انسان کے یقین کو توڑتی ہے۔
میں نے اس آواز کو دبانے کی کوشش کی۔
مصروفیت کے شور میں چھپانے کی کوشش کی۔
منطق کے پردوں میں لپیٹنے کی کوشش کی۔
مگر کچھ آوازیں باہر سے نہیں آتیں۔
وہ انسان کے اپنے وجود کے تہہ خانے میں پیدا ہوتی ہیں۔
اور تہہ خانوں کے دروازے بند کیے جا سکتے ہیں،
ان کے اندر موجود اندھیروں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
آخر ایک دن میں نے وہ دروازہ کھول دیا۔
وہ دروازہ جس کے بارے میں مجھے ہمیشہ خوف تھا۔
میں نے سوچا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی وحشت ہو گی۔
کوئی عفریت۔
کوئی نامعلوم طاقت۔
مگر وہاں جو ملا، وہ اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔
وہاں میں خود موجود تھا۔
میرا وہ چہرہ جسے میں نے دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں، بلکہ خود سے چھپانے کے لئے بنایا تھا۔
وہ سوال جو میں دوسروں سے پوچھتا رہا مگر خود سے کبھی نہ پوچھ سکا۔
وہ زخم جن پر میں نے کامیابیوں کے پھول رکھ دیے تھے۔
وہ خوف جنہیں میں نے عقل کا نام دے کر پال لیا تھا۔
تب مجھے معلوم ہوا کہ انسان کا سب سے بڑا سفر زمین سے آسمان تک نہیں ہوتا۔
وہ اپنے ظاہر سے اپنے باطن تک کا سفر ہوتا ہے۔
اور یہ سفر آسان نہیں۔
کیونکہ باہر کے دشمنوں سے انسان لڑ سکتا ہے،
مگر اپنے اندر کے آئینے سے نظریں نہیں چرا سکتا۔
اب مجھے خوف نہیں آتا۔
نہیں اس لئے نہیں کہ خوف ختم ہو گیا ہے۔
بلکہ اس لئے کہ میں نے جان لیا ہے:
خوف ہمیشہ اس دروازے کے باہر کھڑا رہتا ہے جس کے اندر ہماری اصل حقیقت ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
اور شاید زندگی کا آخری راز یہی ہے:
انسان جس عفریت سے عمر بھر بھاگتا ہے، اکثر وہی اس کے اندر چھپی ہوئی روشنی کا محافظ ہوتا ہے۔
