زندگی آئینہ نہیں، بازگشت ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بے سکونی کا سرچشمہ زمانہ ہے، حالانکہ بہت مرتبہ زمانہ صرف اس آواز کو واپس لوٹاتا ہے جو خود انسان نے اپنے باطن سے بلند کی ہوتی ہے۔ وجود کے قوانین جذبات کی زبان بھی سمجھتے ہیں۔ دل میں جو کیفیت مستقل بسیرا کر لے، وہی رفتہ رفتہ کردار بنتی ہے، کردار ماحول کو تشکیل دیتا ہے، اور پھر ماحول تقدیر کا چہرہ اوڑھ لیتا ہے۔
منفی سوچ صرف ایک خیال نہیں، شعور کی ایسی خاموش آب و ہوا ہے جس میں امید کے درخت سوکھنے لگتے ہیں۔ جو شخص ہر منظر میں اندھیرا تلاش کرتا ہے، وہ رفتہ رفتہ روشنی کی موجودگی پر بھی یقین کھو دیتا ہے۔ پھر مسئلہ دنیا نہیں رہتی، دنیا کو دیکھنے والی نگاہ بن جاتی ہے۔ جب نگاہ دھندلا جائے تو افق بھی دھندلا محسوس ہوتا ہے۔
زندگی کسی عدالت کی طرح فوری فیصلے نہیں سناتی، بلکہ ایک وادی کی طرح ہر صدا کو سنبھال کر رکھتی ہے اور مناسب وقت پر اسی کی بازگشت لوٹا دیتی ہے۔ اس لیے تلخی بانٹنے والا آخرکار تنہائی کا ذائقہ چکھتا ہے، اور دلوں میں وسعت پیدا کرنے والا اپنے لیے راستے کشادہ پاتا ہے۔ انسان دوسروں کے لیے جو فضا بناتا ہے، اکثر اسی میں اسے خود بھی سانس لینا پڑتا ہے۔
سب سے بڑی تبدیلی حالات کو بدلنے سے نہیں، اپنے باطن کی سمت درست کرنے سے جنم لیتی ہے۔ جب فکر میں اعتدال، زبان میں نرمی، نگاہ میں خیرخواہی اور دل میں وسعت آ جائے تو خارجی دنیا بھی آہستہ آہستہ نئی ترتیب اختیار کرنے لگتی ہے۔ کائنات شاید ہمارے ارادوں سے زیادہ ہماری کیفیت کا جواب دیتی ہے۔
زندگی کی تعمیر اینٹوں سے پہلے افکار سے ہوتی ہے۔ جو اپنے اندر امید، وقار اور خیر کا چراغ روشن کر لیتا ہے، وہ اندھیروں سے لڑنے نہیں نکلتا، بلکہ اس کی موجودگی ہی تاریکی کی دلیل کو کمزور کر دیتی ہے۔ انسان کا اصل معرکہ دنیا سے نہیں، اپنے باطن کی سمت سے ہوتا ہے؛ کیونکہ جب اندر کا موسم بدل جائے تو باہر کی بہت سی رتیں خود بخود بدلنے لگتی ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top