(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات میں ایک ایسی زبان بھی ہے جس کے لیے نہ ہونٹ درکار ہوتے ہیں، نہ آواز اور نہ ہی الفاظ۔ یہ زبان صرف دل جانتا ہے، اور اس کا ترجمہ صرف وہ ذات سمجھتی ہے جس نے دل کو دھڑکنا سکھایا۔ جب انسان کے اندر درد اپنی آخری حد کو چھو لیتا ہے تو دعا بولتی نہیں، بہنے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عقل خاموش اور روح مخاطب ہو جاتی ہے۔
آنسو کمزوری کی علامت نہیں، باطن کی صداقت کا اقرار ہیں۔ بہت سے دروازے دلیل سے نہیں کھلتے، مگر ایک سچا اشک ان پر ایسی دستک دیتا ہے جو صدیوں کی خاموشی توڑ دیتی ہے۔ انسان جب اپنے غرور کا بوجھ اتار کر اپنی بے بسی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی خاموشی بھی مناجات بن جاتی ہے۔ اس مقام پر زبان کی فصاحت نہیں، دل کی شکستگی قبولیت کا وسیلہ بنتی ہے۔
عجیب راز ہے کہ جو قطرہ آنکھ سے گرتا ہے، وہ زمین پر نہیں گرتا، پہلے انسان کے اندر جمے ہوئے پتھروں کو پگھلاتا ہے۔ وہ دل کو نرم کرتا ہے، نگاہ کو پاکیزہ کرتا ہے اور روح پر جمی ہوئی گرد کو دھو دیتا ہے۔ اسی لیے بعض لوگ ایک رات کے سچے گریے کے بعد وہ بن جاتے ہیں جو برسوں کی ظاہری کوشش بھی نہ بنا سکی۔
آنسو انسانوں کے درمیان بھی سب سے سچا تعارف ہیں۔ رنگ، زبان، قوم، مرتبہ اور عقیدہ سب اپنی اپنی حدوں میں بند رہتے ہیں، مگر درد جب آنکھ سے ٹپکتا ہے تو ہر دل اس کی گواہی دے دیتا ہے۔ شاید اسی لیے رحم کی بنیاد دلیل پر نہیں، احساس پر رکھی گئی ہے۔
روح کے سفر میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو کبھی اپنے آنسوؤں سے شرمندہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ جو آنکھ رونے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ دیکھنے کی صلاحیت بھی آہستہ آہستہ کھو بیٹھتی ہے۔ اور جو دل پگھلنا چھوڑ دے، وہ عبادت تو کر سکتا ہے، مگر قرب کا ذائقہ نہیں پا سکتا۔
انسان کی سب سے بلند دعا وہ نہیں جو زبان ادا کرتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے آنکھ خاموشی سے آسمان کے سپرد کر دیتی ہے۔ وہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، مگر رحمت کی ابتدا ہوتی ہے۔
