سکوت کے دردمند محرم

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کا سب سے گہرا المیہ یہ نہیں کہ انسان ایک دوسرے سے دور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خاموشیوں سے ناواقف ہیں۔ ہر وجود اپنے اندر ایک ایسی کائنات اٹھائے پھرتا ہے جس کے موسم، زلزلے، بہاریں اور ویرانیاں کسی اور کی نگاہ میں نہیں آتیں۔ جو دکھ زبان تک آ جائے، وہ آدھا ہلکا ہو جاتا ہے؛ اصل بوجھ وہ ہوتا ہے جو عمر بھر دل کے تہہ خانے میں سانس لیتا رہتا ہے۔
حساسیت محض نرم دلی کا نام نہیں، بلکہ یہ شعور کی وہ بلند ترین منزل ہے جہاں انسان اشیا کو ان کی صورت سے نہیں، ان کی محرومی سے پہچانتا ہے۔ وہ درخت کو صرف سایہ دیتے ہوئے نہیں دیکھتا، بلکہ اس سایے کی تھکن بھی محسوس کرتا ہے۔ وہ دریا کو صرف بہتے ہوئے نہیں دیکھتا، بلکہ اس سمندر کی پیاس بھی جان لیتا ہے جس تک پہنچنے کے لیے اسے ہزاروں سنگلاخ راستے طے کرنا پڑتے ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز روشنی نہیں ہوتی اور ہر خاموش شے مردہ نہیں ہوتی۔
اس دنیا میں سب سے زیادہ شور ان باتوں کا ہے جو کبھی کہی ہی نہیں گئیں۔ ان فیصلوں کا جو خوف کی نذر ہو گئے، ان محبتوں کا جو وقار کے پردے میں دفن ہو گئیں، ان معافیوں کا جو انا کی دہلیز پار نہ کر سکیں، اور ان آنسوؤں کا جنہیں پلکوں نے صرف اس لیے روک لیا کہ کہیں وقار مجروح نہ ہو جائے۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر یہ ان کہی صدائیں زمانے کی فضا میں معلق رہتی ہیں اور کسی ایسے دل کی تلاش کرتی ہیں جو انہیں سننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انسان کی روح عجیب امانت ہے۔ وہ ہر اس احساس کو محفوظ رکھتی ہے جسے دنیا غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔ ایک نظر کی لرزش، ایک ادھورا جملہ، ایک بے سبب خاموشی، ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ، ایک خط جو کبھی بھیجا نہ جا سکا، ایک دعا جو لبوں تک نہ آئی،،، یہ سب فنا نہیں ہوتے۔ یہ وجود کے اندر تہہ در تہہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور ایک دن انسان کی آنکھوں کی گہرائی میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔
بعض لوگ زندگی بھر بولتے رہتے ہیں، مگر کبھی اپنا حال نہیں کہتے۔ بعض تمام عمر مسکراتے رہتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک ایسا موسم برپا رہتا ہے جس کی خبر کسی تقویم میں درج نہیں ہوتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حساس دل دوسروں سے مختلف ہو جاتا ہے۔ وہ جواب دینے سے پہلے کیفیت کو سنتا ہے، رائے قائم کرنے سے پہلے زخم کو دیکھتا ہے، اور فیصلے صادر کرنے سے پہلے خاموشی کی زبان سیکھ لیتا ہے۔
شاید اسی لیے رحمت ہمیشہ آواز پر نہیں اترتی، کیفیت پر اترتی ہے۔ کائنات کے عظیم ترین فیصلے اکثر ان لمحوں میں ہوتے ہیں جب کوئی شخص دنیا کی نگاہ میں خاموش بیٹھا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر پوری ایک کائنات دعا بن کر لرز رہی ہوتی ہے۔
انسان کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنی خاموش روحوں کے لیے جائے امان بن سکتا ہے۔ وہ کتنے ایسے دکھ اپنے سینے میں جگہ دے سکتا ہے جن کا کوئی نام نہیں، کوئی گواہ نہیں، کوئی تاریخ نہیں۔
جب کوئی دل اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو وہ صرف انسانوں کا محرم نہیں رہتا، بلکہ خود کائنات اس پر اپنے سربستہ راز آشکار کرنے لگتی ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی خلا نہیں، تخلیق کی ابتدائی زبان ہے؛ درد سزا نہیں، ادراک کا دروازہ ہے؛ اور حساسیت کمزوری نہیں، بلکہ وہ نایاب بصیرت ہے جس کے بغیر نہ محبت مکمل ہوتی ہے، نہ معرفت، نہ انسان

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top