(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے بڑی فکری محرومی جہالت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی یقین کا وہ غرور ہوتا ہے جس کے بعد اسے کچھ نیا دکھائی ہی نہیں دیتا۔ ہم اکثر حقیقت کو تلاش نہیں کرتے، ہم صرف اپنی پہلے سے بنائی ہوئی حقیقت کے حق میں ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ ہم کسی شخص کے بارے میں فیصلہ کر لیتے ہیں، پھر اس کے ہر عمل کو اسی فیصلے کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ کسی خیال کو درست مان لیتے ہیں، پھر سوال کو اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ جواب ہماری پسند کا نہیں۔ کسی روایت کو سچ سمجھ لیتے ہیں، پھر یہ بھول جاتے ہیں کہ روایت کا قد ہمیشہ حقیقت سے بلند نہیں ہوتا۔ یوں آہستہ آہستہ ذہن سوچنے کے بجائے فیصلے سنانے لگتا ہے۔ اور جس دن ذہن نے ہر نئی بات کے آنے سے پہلے ہی اس کا انجام طے کر لیا، اسی دن اس کے اندر دریافت کی کھڑکیاں بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
زندہ ذہن وہ نہیں جو ہر بات مان لے۔ زندہ ذہن تو وہ ہے جو کسی بات کو صرف اس لیے رد بھی نہ کرے کہ وہ اس کے پرانے یقین سے مختلف ہے۔ وہ سوال سے گھبراتا نہیں۔ وہ اپنے ہی یقین کے سامنے بھی بیٹھ سکتا ہے۔ وہ یہ کہنے کی اخلاقی جرأت رکھتا ہے: “ممکن ہے میں غلط ہوں۔” یہ چھوٹا سا جملہ بظاہر کمزوری معلوم ہوتا ہے، مگر فکری زندگی میں شاید اس سے بڑی طاقت کوئی نہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی رائے کو آخری حقیقت سمجھ لیتا ہے، وہ علم کا دروازہ اپنے ہی ہاتھ سے بند کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ کتابیں پڑھتا ہے، مگر سیکھتا نہیں۔ لوگوں کو سنتا ہے، مگر سمجھتا نہیں۔ بحث کرتا ہے، مگر تلاش نہیں کرتا۔ سوال سنتا ہے، مگر جواب پہلے سے تیار رکھتا ہے۔ وہ معلومات کا مالک تو ہو سکتا ہے، مگر شعور کا مسافر نہیں رہتا۔
زندگی ہر روز ہمارے سامنے کچھ نیا رکھتی ہے، مگر ہمارا ذہن اکثر پرانے فیصلوں کی الماری کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر کچھ ایسی جگہ ہمیشہ خالی رکھے جہاں نئی سمجھ اتر سکے۔ اپنے یقین میں اتنی وسعت رکھو کہ سوال اس میں داخل ہو سکے۔ اپنی رائے میں اتنی نرمی رکھو کہ حقیقت اسے بدل سکے۔ اپنی عقل میں اتنی روشنی رکھو کہ اپنی غلطی بھی دکھائی دے۔ کیونکہ ذہن کی زندگی اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے؛ ذہن کی زندگی اس صلاحیت میں ہے کہ وہ جاننے کے بعد بھی دیکھ سکتا ہے۔
جو شخص ہر نئے تجربے کو پرانے فیصلے سے ناپتا ہے، وہ دراصل حال میں نہیں، اپنے ماضی میں رہتا ہے۔ اور جو شخص ہر صبح دنیا کو تھوڑا سا نئے پن کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، وہ عمر بڑھنے کے باوجود اندر سے بوڑھا نہیں ہوتا۔ شاید ذہنی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے پاس کوئی عقیدہ نہ ہو۔ بلکہ یہ ہے کہ اس کا عقیدہ اس کی آنکھوں پر پٹی نہ بن جائے۔ اپنے خیالات رکھو، مگر انہیں قیدخانہ مت بناؤ۔ اپنی رائے رکھو، مگر اسے حقیقت کا آخری دروازہ مت سمجھو۔ اپنے تجربات سے سیکھو، مگر انہیں آنے والے ہر تجربے کا فیصلہ کن معیار مت بنا دو۔
کیونکہ حقیقت ہر صبح ہمارے دروازے پر ایک نئے چہرے کے ساتھ آ سکتی ہے۔ اور اگر ہم نے کل ہی طے کر لیا ہو کہ حقیقت کیسی ہونی چاہیے، تو ممکن ہے حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہو۔۔ اور ہم اسے پہچان ہی نہ سکیں۔ زندہ رہنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر حیرت ابھی باقی ہو۔ جس دن کسی نئی بات پر دل میں یہ خیال بھی نہ آئے کہ “شاید اس میں میرے لیے کچھ ہے”، سمجھ لینا چاہیے کہ جسم ابھی چل رہا ہے، مگر ذہن نے سفر چھوڑ دیا ہے۔
