(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی اصل پہچان اکثر اس وقت نہیں ہوتی جب لوگ اسے دیکھ رہے ہوں، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ اب کوئی نہیں دیکھ رہا۔ لوگوں کے درمیان ہم سب اپنے اپنے کردار کے لباس میں رہتے ہیں۔ کوئی شرافت اوڑھ لیتا ہے، کوئی متانت، کوئی اخلاق اور کوئی دیانت داری۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نگاہیں ہم پر ہیں، اس لیے ہمارے ہاتھ محتاط رہتے ہیں، ہماری زبان ناپ تول کر بولتی ہے اور ہماری خواہشیں تہذیب کے پردے میں سانس لیتی ہیں۔ مگر تنہائی ایک عجیب آئینہ ہے۔ یہ انسان سے اس کا سماجی چہرہ اتار لیتی ہے۔ وہاں نہ تعریف کا خوف ہوتا ہے، نہ بدنامی کا اندیشہ، نہ کسی کے سامنے اچھا ثابت ہونے کی ضرورت۔ وہاں انسان اور اس کی خواہش آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لمحے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری بہت سی نیکیاں کردار کا حصہ تھیں یا صرف تماشائیوں کی موجودگی کا اثر۔
اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ لوگوں کے سامنے کتنا اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ جب کوئی آپ کو دیکھ نہ رہا ہو تو آپ کے ہاتھ کیا کرتے ہیں، آپ کی آنکھیں کہاں ٹھہرتی ہیں، آپ کی زبان کس لہجے میں بولتی ہے اور آپ کا دل کس چیز کی طرف لپکتا ہے۔ انسان دوسروں سے اپنے عیب چھپا سکتا ہے، مگر اپنی تنہائی سے نہیں۔ تنہائی میں نہ چہرہ جھوٹ بول سکتا ہے، نہ مسکراہٹ پردہ ڈال سکتی ہے۔ وہاں آدمی وہی رہ جاتا ہے جو حقیقت میں ہے۔
اسی لیے کردار کا سب سے بلند درجہ شاید یہ ہے کہ انسان کو نیکی کرنے کے لیے کسی نگاہ کی ضرورت نہ رہے اور برائی سے رکنے کے لیے کسی نگرانی کی حاجت نہ ہو۔ جس شخص کو ہر وقت یہ خوف ہو کہ کوئی دیکھ رہا ہے، وہ شاید معاشرے کا اچھا فرد ہو۔ لیکن جو شخص اس یقین کے باوجود اپنے آپ کو روک لے کہ کوئی نہیں دیکھ رہا، وہ اپنے باطن کا نگہبان ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاق، دکھاوے سے نکل کر کردار بن جاتا ہے۔
ہم اکثر اپنی عزت لوگوں کی نظروں میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ اصل عزت اس لمحے پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے ہی سامنے گرنے سے انکار کر دے۔ یاد رکھیے، دنیا کی آنکھ سے بچ جانا آسان ہے؛ اپنی اندر کی آنکھ سے بچنا ممکن نہیں۔ لوگ آپ کے ظاہر کو جانتے ہیں، آپ کا باطن آپ کو جانتا ہے۔ اور شاید انسان کی سب سے بڑی تنہائی وہ نہیں جب دنیا اسے چھوڑ دے، بلکہ وہ ہے جب وہ خود اپنے اصل چہرے سے نظریں چرانے لگے۔
اس لیے اپنے کردار کی حفاظت اس وقت کیجیے جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔ کیونکہ لوگوں کے سامنے اچھا ہونا ساکھ ہے، اور تنہائی میں اچھا رہنا کردار۔ اور آخرکار انسان کی اصل قیمت اس سے نہیں لگتی کہ دنیا نے اسے کیسا پایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی آنکھ بند تھی، تب وہ اپنے رب، اپنے ضمیر اور اپنے آپ کے سامنے کیسا تھا۔
