لفظ سے پہلے شعور

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی شخصیت کا اصل امتحان اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے علم کو کس موقع پر، کس لہجے میں، کتنی مقدار میں اور کس مصلحت کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ علم انسان کو الفاظ کا خزانہ دیتا ہے، مگر ہر خزانہ ہر وقت خرچ کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ کچھ باتیں جان لینا علم ہے، انہیں خوب صورت انداز میں بیان کرنا تربیت ہے، موقع کی نزاکت کو سمجھنا سلیقۂ عمل ہے اور یہ پہچان لینا کہ اس وقت خاموشی زیادہ بامعنی ہے، دانشمندی ہے۔
بعض لوگ سچ جانتے ہیں مگر سچ بولنے کا ہنر نہیں جانتے۔ وہ حقیقت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ سچ بھی تیر بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ بہت کچھ کہتے ہیں مگر ان کی بات میں وزن نہیں ہوتا، کیونکہ الفاظ کی کثرت نے مفہوم کی قدر گھٹا دی ہوتی ہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جانتے بہت ہیں، بولتے کم ہیں اور جب بولتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظوں نے مدتوں خاموش رہ کر اپنی قیمت بڑھائی ہو۔
اصل دانائی زبان کو روکنے میں نہیں بلکہ زبان پر اختیار رکھنے میں ہے۔ ہر حقیقت ہر شخص کے سامنے بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتی، ہر سچ ہر وقت کہنے کے قابل نہیں ہوتا اور ہر موقع گفتگو کا محتاج نہیں ہوتا۔ کبھی ایک جملہ رشتہ بچا لیتا ہے اور کبھی ایک جملہ برسوں کی محبت کو زخمی کر دیتا ہے۔ کبھی خاموشی کمزوری دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے نفس پر فتح ہوتی ہے۔
زندگی ہمیں آہستہ آہستہ یہ راز سکھاتی ہے کہ الفاظ صرف معنی نہیں پہنچاتے، انسان بھی پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا بات کرتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ میرے الفاظ سامنے والے کے دل تک کس صورت میں پہنچیں گے؟ علم بتاتا ہے کہ کیا درست ہے۔ تربیت سکھاتی ہے کہ درست بات کس طرح کہنی ہے۔ کردار بتاتا ہے کہ کہتے ہوئے ہماری نیت کیا ہے۔ اور دانائی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہ بات اس وقت کہنا بھی ضروری ہے یا نہیں۔
اسی مقام پر علم، اخلاق میں ڈھلتا ہے اور گفتگو، کردار بن جاتی ہے۔ بہت سے جھگڑے غلط بات سے نہیں، درست بات کے غلط وقت، غلط لہجے اور غلط مقدار سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے مہذب انسان ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، ہر اختلاف کو جنگ نہیں بناتا اور ہر خاموشی کو شکست نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ بعض مواقع پر جو بات زبان کہہ سکتی ہے، خاموشی اس سے کہیں زیادہ کہہ دیتی ہے۔
شاید انسانی پختگی کی سب سے خوب صورت علامت یہی ہے کہ انسان کو اپنے الفاظ پر اتنا اختیار حاصل ہوجائے کہ وہ اپنی زبان کی طاقت سے دوسروں کو زیر کرنے کے بجائے اپنے نفس کو زیر کرنے لگے۔ کیونکہ بولنے کی قدرت عام ہے، مگر یہ پہچان لینا کہ کب بولنا ہے، کیسے بولنا ہے، کتنا بولنا ہے اور کب خاموش رہ جانا ہے ،،یہی وہ شعور ہے جو علم کو حکمت اور شخصیت کو وقار عطا کرتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top