نیکی سے آگے، انسانیت تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہم نے تربیت کو بہت عرصے سے چند ظاہری پابندیوں کا نام دے رکھا ہے۔ ہم کسی کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگاتے ہیں کہ وہ کہاں جاتا ہے، کیا کھاتا پیتا ہے، کس محفل میں بیٹھتا ہے، کن چیزوں سے پرہیز کرتا ہے اور لوگوں کے سامنے کتنا مہذب دکھائی دیتا ہے۔ مگر انسان کی اصل تربیت شاید وہاں ظاہر نہیں ہوتی جہاں اسے دیکھا جا رہا ہو۔ وہ وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں اس کے رویّے کو دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔
آپ نے بہت سی برائیوں سے خود کو بچا لیا، یہ اچھی بات ہے؛ مگر کیا آپ کی زبان بھی دوسروں سے محفوظ ہے؟ آپ نے اپنے ہاتھ کو کسی غلط کام سے روک لیا، یہ قابلِ قدر ہے؛ مگر کیا آپ کے ہاتھ سے کبھی کسی کا حق تو نہیں چھینا گیا؟ آپ نے اپنی مجلسیں پاکیزہ رکھیں، مگر کیا آپ کی موجودگی بھی دوسروں کے لیے پاکیزہ تجربہ ہے؟ آپ عبادت میں جھک جاتے ہیں، مگر کیا آپ کا مزاج بھی کسی انسان کی عزت کے سامنے جھکنا جانتا ہے؟
یہیں آ کر تربیت کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ کیونکہ تہذیب صرف یہ نہیں کہ آپ کیا نہیں کرتے۔ تہذیب یہ بھی ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ کسی کمزور کے سامنے آپ کی آواز کتنی نرم ہو جاتی ہے، کسی ماتحت کے ساتھ آپ کا لہجہ کیسا ہوتا ہے، کسی اختلاف رکھنے والے کے لیے آپ کے دل میں کتنی گنجائش ہے، کسی ایسے شخص کے ساتھ آپ کا برتاؤ کیسا ہے جس سے آپ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں کردار اپنی اصل زبان بولتا ہے۔
بدتمیزی کرنے والا شخص اگر سو برائیوں سے بچ بھی جائے، تو اس کی پرہیزگاری کسی دوسرے انسان کے دل کو زخمی کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اور نرم لہجے میں کسی کو عزت دے دینا بظاہر معمولی سا عمل ہے، مگر بعض اوقات یہی معمولی عمل کسی انسان کے لیے پوری دنیا کی طرح بن جاتا ہے۔
تربیت دراصل اپنے نفس کو صرف “نہیں” کہنا نہیں؛ بلکہ اپنے وجود کو یہ سکھانا ہے کہ “دوسرے بھی میرے جیسے دل رکھتے ہیں۔” انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ انہیں بھی عزت چاہیے۔ انہیں بھی معافی درکار ہوتی ہے۔ انہیں بھی کبھی ایک نرم لفظ سے سہارا مل سکتا ہے۔
شاید اچھے اخلاق کی سب سے خوبصورت تعریف یہی ہو کہ آپ کے ساتھ رہنے والا انسان اپنے آپ کو چھوٹا، خوف زدہ یا بے وقعت محسوس نہ کرے۔ آپ کی گفتگو میں جگہ ہو، آپ کے اختلاف میں شائستگی ہو، آپ کی طاقت میں رحم ہو، آپ کے علم میں عاجزی ہو، آپ کی دینداری میں انسانیت ہو۔ کیونکہ انسان کی نیکی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس سے ملنے کے بعد لوگوں کے دل میں زندگی کے لیے تھوڑی سی نرمی بڑھ جائے۔
ہم اکثر اپنے کردار کو اپنے اعمال سے ناپتے ہیں، حالانکہ کردار کا ایک حصہ اُن دلوں میں بھی محفوظ ہوتا ہے جنہیں ہم چھو کر گزرے ہیں۔ کسی کے لیے آپ ایک خوبصورت یاد ہو سکتے ہیں، اور کسی کے لیے ایک ایسا زخم بھی جسے وہ برسوں بھول نہ سکے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اس لیے تربیت کا سب سے مشکل سبق شاید یہ نہیں کہ انسان دوسروں کے سامنے اچھا بننا سیکھے۔ اصل تربیت یہ ہے کہ انسان کے اندر اتنی روشنی پیدا ہو جائے کہ اس کے ساتھ تنہائی میں بھی کوئی انسان خود کو محفوظ محسوس کرے۔ کیونکہ اچھا انسان وہ نہیں جس کے بارے میں لوگ صرف یہ کہیں: “یہ شخص بہت سی برائیوں سے بچتا ہے۔” اچھا انسان وہ ہے جس کے بارے میں لوگ دل سے کہہ سکیں: “اس شخص نے کبھی میرے انسان ہونے کی توہین نہیں کی۔”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top