(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کا ایک عجیب المیہ ہے کہ انسان کی قدر کبھی کبھی اس کی خوبی سے نہیں، اس کی دستیابی سے ہونے لگتی ہے۔ آپ ہر وقت موجود ہوں، ہر آواز پر لبیک کہیں، ہر مشکل میں کندھا پیش کریں، ہر ضرورت کے وقت اپنے حصے کا سکون قربان کر دیں تو آہستہ آہستہ کچھ لوگ آپ کی محبت کو محبت نہیں سمجھتے، اسے سہولت سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن آپ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ آپ کو یاد نہیں کرتے، صرف آپ کی ضرورت کو یاد کرتے ہیں۔ آپ بیمار ہوں تو انہیں آپ کی خیریت سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کا کام کون کرے گا۔ آپ تھکے ہوں تو انہیں آپ کی تھکن دکھائی نہیں دیتی، صرف اپنی مشکل نظر آتی ہے۔ آپ خاموش ہو جائیں تو انہیں آپ کی خاموشی کا دکھ نہیں ہوتا، انہیں اپنی ضرورت کے پورا نہ ہونے کی پریشانی ہوتی ہے۔
یہیں انسان کو ایک نہایت تلخ حقیقت سمجھ آتی ہے: ہر ایک کے کام آنا عظمت نہیں، اگر اس کے نتیجے میں لوگ آپ کو صرف ایک ذریعہ سمجھنے لگیں۔ اس لیے کبھی کبھی “نہیں” کہنا بھی کردار ہوتا ہے۔ کبھی پیچھے ہٹ جانا بھی دانائی ہوتی ہے۔ کبھی اپنی مصروفیت کو ترجیح دینا بھی خود غرضی نہیں ہوتا۔ اور کبھی کسی کی ضرورت پوری نہ کرنا، اس شخص کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ اپنے وجود کو بچا لینا ہوتا ہے۔
دنیا عجیب حساب رکھتی ہے۔ جب تک آپ دیتے رہیں، آپ اچھے ہیں۔ جس دن آپ نے حد مقرر کی، آپ بدل گئے۔ حالانکہ آپ بدلے نہیں ہوتے، صرف یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب آپ کی نرمی ہر شخص کے لیے کھلی ہوئی کھڑکی نہیں رہے گی۔ شرافت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ہاتھ کو اپنے کندھے پر سوار ہونے دیا جائے۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی ذات کو مٹا کر دوسروں کی زندگی روشن کی جائے۔ اور انسانیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ اپنی روح کا چراغ ہر اس شخص کے حوالے کر دیں جو اندھیرے میں آپ کو دیکھ کر صرف اتنا سوچے کہ یہ روشنی میرے کام آ سکتی ہے۔
اپنے اندر کی خوبیوں کو محفوظ رکھیے، مگر ان کی چابیاں ہر شخص کو مت دیجیے۔ کچھ لوگ آپ کی خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، کچھ آپ کی معافی کو اجازت، کچھ آپ کی محبت کو حق اور کچھ آپ کی دستیابی کو اپنی ملکیت۔ ایسے لوگوں سے نفرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا کیجیے کہ اپنی جگہ واپس لے لیجیے۔ انہیں بتائیے نہیں، اپنے عمل سے سمجھا دیجیے کہ آپ مددگار ہیں، محتاج نہیں؛ مہربان ہیں، بے حد نہیں؛ دستیاب ہیں، مگر ہر وقت نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ ایک انسان ہیں، کسی کی سہولت کا مستقل متبادل نہیں۔
زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آنا چاہیے جب انسان دوسروں کے لیے مفید رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کے لیے محفوظ ہو جائے۔ کیونکہ جو شخص ہر ایک کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اکثر آخر میں خود سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور شاید زندگی کا یہ راز بہت دیر سے سمجھ آتا ہے کہ اپنی خوبیوں کو مٹانا حل نہیں، انہیں ہر ہاتھ کی دسترس سے نکال لینا اصل دانائی ہے۔
خود کو ایسا انسان بناؤ جس کی محبت قیمتی ہو، مگر مفت کی عادت نہ بنے؛ جس کی مدد نعمت ہو، مگر دوسروں کا حق نہ بن جائے؛ جس کی موجودگی سکون دے، مگر اس کی غیر موجودگی کسی کو اپنی سہولت چھن جانے کا شکوہ نہ بننے دے۔ ہر وقت کام آنے والا انسان آخرکار چیز بن جاتا ہے، مگر اپنی قدر پہچاننے والا انسان ہمیشہ انسان رہتا ہے۔
آخرکار زندگی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہر دروازہ کھلا رکھنا سخاوت نہیں ہوتی، کچھ دروازوں پر دستک سن کر بھی خاموش رہ جانا اپنے احترام کی حفاظت ہوتی ہے۔
