جب اپنا گھر بھی اپنا نہیں رہتا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

مالی تنگی صرف جیب کو خالی نہیں کرتی، کبھی کبھی انسان کے اندر سے اپنے ہونے کا احساس بھی کم کرنے لگتی ہے۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں آدمی دنیا بھر کی نظروں سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے، مگر جب وسائل ساتھ چھوڑنے لگیں تو یہی چار دیواری کبھی کبھی اس کے لیے ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے جہاں وہ موجود تو ہوتا ہے مگر اختیار کے ساتھ نہیں، ضرورت کے ساتھ۔ غربت کا سب سے بڑا دکھ شاید بھوک نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو اپنی کسی معمولی ضرورت کے لیے بھی اجازت، احسان یا مصلحت کا سہارا لینا پڑے۔ جس ہاتھ سے کبھی گھر کی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں، وہی ہاتھ جب خالی ہوجائے تو آدمی اپنی خواہشوں کو بھی مہمان بنا لیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے، سنتا ہے، برداشت کرتا ہے اور بہت سی باتیں دل میں رکھ لیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو، اس کی آواز بھی اکثر کمزور پڑ جاتی ہے۔
مالی آسودگی انسان کو صرف سہولت نہیں دیتی، اسے فیصلے کی آزادی بھی دیتی ہے۔ اس کے برعکس تنگ دستی ہر خواہش کے سامنے ایک سوال کھڑا کردیتی ہے: کیا یہ ضروری ہے؟ کیا اس کی گنجائش ہے؟ کیا اسے مؤخر کیا جاسکتا ہے؟ یوں آہستہ آہستہ انسان اپنے ہی گھر میں اپنی ضرورتوں کا حساب رکھنے لگتا ہے۔ کبھی بچوں کی خواہش دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے، کبھی شریکِ حیات کی ضرورت کو ٹال دیتا ہے اور کبھی اپنی ہی ضرورت کو غیر ضروری قرار دے دیتا ہے۔ باہر سے وہ گھر کا فرد ہوتا ہے مگر اندر سے اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر کی خوشیوں میں پورا شریک نہیں۔
لیکن مالی تنگی کی ایک اور، اس سے بھی زیادہ خاموش آزمائش ہے: عزتِ نفس۔ فقیری انسان کو ہمیشہ چھوٹا نہیں کرتی، مگر دوسروں کا رویہ اسے چھوٹا محسوس کرا سکتا ہے۔ بعض اوقات ضرورت مند انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اس چیز کی نہیں ہوتی جو وہ خرید نہیں سکتا، بلکہ اس اندازِ نظر کی ہوتی ہے جس سے لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ وہ سوالوں سے بچتا ہے، فرمائشوں سے گھبراتا ہے، تقریبات سے کتراتا ہے اور کبھی کبھی اپنوں سے بھی فاصلے بنانے لگتا ہے تاکہ اس کی محرومی کسی پر ظاہر نہ ہو۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب آدمی گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنی موجودگی کم کرنے لگتا ہے۔ وہ کم بولتا ہے، کم مانگتا ہے، کم توقع رکھتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں مالی تنگی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ انسان کی باطنی کیفیت بن جاتی ہے۔
مگر یہاں ایک حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے: گھر کا مالک وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ مال ہو، بلکہ وہ ہے جس کے دل میں سب کے لیے سب سے زیادہ وسعت ہو۔ تنگ دستی اگر انسان سے دولت چھین لے تو یہ لازماً اس کی قدر نہیں چھین سکتی۔ بہت سے عظیم انسان خالی جیب کے باوجود بھرپور کردار کے مالک رہے ہیں، اور بہت سے دولت مند اپنی ہی آسائشوں میں اجنبی بن گئے۔
اس لیے کسی ضرورت مند کو اس کے مال سے نہیں، اس کے انسان ہونے سے پہچانیے۔ گھر میں کسی کی مالی کمزوری کو اس کی بے اختیاری کا عنوان نہ بنائیے۔ جس شخص کے ہاتھ آج خالی ہیں، ممکن ہے اس کے دل میں پورے گھر کے لیے وہ محبت موجود ہو جو کسی خزانے میں نہیں ملتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس خیال کی اصل معنویت سامنے آتی ہے کہ گھر کی وسعت دیواروں سے نہیں، اُن دلوں سے متعین ہوتی ہے جو کسی کی تنگ دستی کو اُس کی قدر سے الگ رکھنا جانتے ہیں۔
مالی تنگی آدمی کو گھر میں مہمان تب بناتی ہے جب گھر والے اس کی جیب کو اس کی حیثیت کا پیمانہ بنا لیتے ہیں۔ ورنہ محبت، احترام اور اپنائیت باقی ہوں تو کم ترین وسائل والا شخص بھی اپنے گھر کا سب سے معتبر فرد رہتا ہے۔ کیونکہ گھر اینٹوں، دیواروں اور سامان سے نہیں بنتا؛ گھر اس احساس سے بنتا ہے کہ یہاں میری ضرورت پوچھے بغیر سمجھی جائے گی، میری خاموشی پڑھی جائے گی اور میری کمزوری مجھے میرے اپنے لوگوں میں اجنبی نہیں بنائے گی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top