(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی رشتے اکثر بڑے حادثات سے نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی خاموشیوں سے ٹوٹتے ہیں۔ ایک لفظ کا غلط مطلب، ایک رویّے کی غلط تشریح، ایک لمحے کی بے توجہی… اور پھر دل اپنے ہی انداز میں کہانیاں بنانے لگتا ہے۔ حقیقت کہیں اور کھڑی ہوتی ہے اور گمان کہیں اور سفر شروع کر دیتا ہے۔
غلط فہمی کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ یہ دل میں ایک ایسا پردہ ڈال دیتی ہے جس کے بعد انسان سامنے والے کی بات سننے کے بجائے اپنے بنائے ہوئے تصور کو سچ مان لیتا ہے۔ پھر عجیب المیہ یہ ہوتا ہے کہ جس شخص سے وضاحت درکار ہوتی ہے، اسی سے فاصلے پیدا کر لیے جاتے ہیں۔
حالانکہ غلط فہمی کا واحد علاج گفتگو ہے۔
ایک سچی، مخلص اور احترام سے بھرپور گفتگو۔
مگر انسان کی کمزوری دیکھیے کہ غلط فہمی پیدا ہوتے ہی وہ سب سے پہلے اسی راستے کو بند کر دیتا ہے جہاں سے روشنی آ سکتی ہے۔ وہ سوال کرنے کے بجائے فیصلہ کر لیتا ہے، سننے کے بجائے سوچ لیتا ہے، اور سمجھنے کے بجائے ناراض ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک جملہ برسوں کی دوری ختم کر دیتا ہے: “میں جاننا چاہتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔”
اور کبھی ایک خاموشی برسوں کے تعلق کو کمزور کر دیتی ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی یہ نہیں کہ ان میں کبھی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، کیونکہ جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلاف، کمزوریاں اور غلط اندازے بھی ہوں گے۔ اصل کمال یہ ہے کہ غلط فہمی کے لمحے میں انا کے دروازے بند نہ کیے جائیں بلکہ محبت اور شعور کے دروازے کھولے جائیں۔
یاد رکھیں!
خاموشی ہمیشہ وقار نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ ایک غلط فہمی کو مضبوط کرنے والی دیوار بن جاتی ہے۔
اور گفتگو ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہی تعلق بچانے والی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
جو لوگ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں وہ وضاحت مانگنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک غلط خیال کے ساتھ جینا، ایک سچی بات سن لینے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔
کتنی ہی محبتیں صرف اس لیے ختم ہو گئیں کہ کسی نے پوچھا نہیں، کسی نے بتایا نہیں، کسی نے سننے کی زحمت نہیں کی۔
کتنے ہی دل صرف اس لیے دور ہو گئے کہ دونوں طرف خاموشی تھی اور درمیان میں ایک غلط فہمی پل رہی تھی۔
بہتر یہ ہے کہ دل میں سوال رکھنے کے بجائے زبان پر لے آئیں، کیونکہ ممکن ہے جس بات نے آپ کو اندر سے توڑ دیا ہو، وہ صرف ایک غلط فہمی کا سایہ ہو۔
رشتے دلیلوں سے نہیں، دلوں کے درمیان کھلی گفتگو سے زندہ رہتے ہیں۔
اس لیے جب کبھی کوئی غلط فہمی جنم لے تو یاد رکھیے:
“خاموشی فاصلے بڑھاتی ہے، گفتگو فاصلے مٹاتی ہے۔
گمان رشتے توڑتا ہے، حقیقت رشتے جوڑتی ہے۔”
