ہجر کی جلن

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہجر ایک ایسی آگ ہے جو دل کی نازک پرتوں میں چھید کرتی ہوئی، روح کے نہاں خانوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے۔ یہ وہ خاموش آتش فشاں ہے جو بے آواز دہکتا ہے، مگر جب اس کی تپش اندرونی خلا کو چھوتی ہے، تو ہر لمس میں ایک نوحہ، ہر سانس میں ایک ناتمام دعا پوشیدہ ہو جاتی ہے۔ یہ جلن کسی سطحی تڑپ کا نام نہیں، بلکہ ایک گہری اور خاموش کائنات ہے، جہاں وقت کے پیمانے تحلیل ہو جاتے ہیں اور وجود کے سائے مدھم پڑ جاتے ہیں۔
یہ جدائی کی سوزش محض ایک اذیت نہیں، بلکہ وہ خاموش الہام ہے جو حقیقت کی پرتیں یوں الٹتی ہے جیسے کسی قدیم مخطوطے کے مدھم ہوتے حروف اچانک روشنی میں نکھر آئیں۔ یہ ایک نادیدہ شعلہ ہے، جو وجود کے باطن میں سلگتا رہتا ہے، ہر جذبے کو کندن بناتا ہے، اور ہر یقین کو ایک نئے امتحان سے گزارتا ہے۔
یہ ہجر ایک درویشانہ آگ ہے، جو ذات کے مندر میں چھپی ہوئی فراموش شدہ تحریروں کو ازسرِ نو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جیسے صدیوں پرانی دیواروں سے زوال پذیر پلستر گرنے لگے اور اس کے نیچے ایک ان دیکھی تحریر کے نقوش ابھر آئیں، ویسے ہی یہ جدائی انسان کے اندر چھپے خوابوں، سرابوں اور خوشنما دھوکے کی پرتیں ہٹا کر اسے ایک تلخ مگر ازلی حقیقت کے روبرو لا کھڑا کرتی ہے وہ حقیقت جو ہمیشہ وہاں تھی، مگر نگاہ کی گرفت سے باہر رہی۔
یہ ہجر کی جلن فقط یادوں کی راکھ نہیں، بلکہ ایک نورانی کرب ہے، جو وجود کو اندر ہی اندر پگھلا کر ایک نئے عرفان میں ڈھالتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب روح اپنی بھٹکی ہوئی روشنی کو پا لیتی ہے، جب ذات اپنی چھپی ہوئی معنویت سے آشنا ہوتی ہے، اور جب انسان اپنی ہی راکھ سے ایک نئی سچائی میں جنم لیتا ہے۔
یہ آگ انسان کے ہونے کے سب سے گہرے خلا میں سفر کرتی ہے، جہاں خواہشوں کی راکھ، یادوں کی چنگاریاں، اور نارسائی کے بوجھ تلے دبے خواب خاموشی سے سلگتے رہتے ہیں۔ ہجر کا المیہ یہ ہے کہ یہ دکھ محض جذباتی سطح پر محسوس نہیں ہوتا، بلکہ یہ پورے وجود کی تجدیدی تطہیر بن جاتا ہے۔ ہر جلن ایک زخم، ہر زخم ایک راز، اور ہر راز ایک روشنی کا دروازہ بن جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا سوز ہے، جو بیک وقت فنا بھی ہے اور بقا بھی۔ جیسے کوئی دریا کنارے کنارے بہتے بہتے اچانک بے کنار ہو جائے، یا جیسے کوئی دیا طوفان کے عین درمیان میں بھی لرزتے ہوئے روشنی دیتا رہے یہ جلن محض درد نہیں، بلکہ وہ سراغ ہے جو انسان کو اس کے حقیقی وجود، اس کی اصل حقیقت، اور اس کے مقدر کے دروازے تک پہنچا دیتا ہے۔
ہجر کی یہ سوزش ایک فنا ہوتی ہوئی شے کا مرثیہ نہیں، بلکہ ایک نئی پیدائش کی آہٹ ہے۔ یہ وہ تپش ہے جو کسی کھنڈر کے ملبے میں دبے قدیم چراغ کی مانند ہے، جو تب تک جلتا رہتا ہے جب تک کہ ایک نئی سحر کی امید پیدا نہ ہو جائے۔ یہ جدائی ایک عظیم الوہی آزمائش ہے، جو انسان کو ظاہری محبت کے سراب سے نکال کر ایک ماورائی عشق کے دریچے پر لاکھڑا کرتی ہے۔
یہ ہجر کی جلن درحقیقت وہ راستہ ہے، جو ایک عاشق کو مجازی محبت کی قید سے آزاد کر کے، حقیقتِ مطلق کے آستانے تک لے جاتا ہے۔ یہ آگ دل میں جلنے والی ایک عارضی تکلیف نہیں، بلکہ وہ ازلی شعور ہے، جو ہر خاکستر سے ایک نیا وجود تراشتا ہے، ہر بکھرنے سے ایک نئی پہچان ابھارتا ہے، اور ہر کھونے میں ایک نیا عرفان عطا کرتا ہے۔
یہ جدائی کا سفر ہے، مگر یہ وہ جدائی ہے جو اصل وصال کی راہ دکھاتی ہے۔ یہ بچھڑنے کی رات ہے، مگر اس رات میں چھپا ہوا وہ راز ہے، جو ہر روشنی سے زیادہ چمکتا ہے۔ یہ وہ جلن ہے، جو فنا کے دروازے پر کھڑے عاشق کو بقا کے راز میں داخل کر دیتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top