علم کی روشنی یا عقل کا غرور؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان نے جب کائنات کے رازوں کو کھوجنا شروع کیا تو سائنس اس کے ہاتھ میں ایک عظیم چراغ بن کر آئی۔ اس چراغ نے اندھیروں کو چاک کیا، بیماریوں سے جنگ کی، فاصلے سمیٹے اور فطرت کے کئی سربستہ راز آشکار کیے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں چراغ کو سورج سمجھ لیا جائے، جہاں ایک ذریعۂ معرفت کو خود مکمل معرفت کا مقام دے دیا جائے۔
آج کا ایک المیہ یہ ہے کہ کچھ ذہنوں نے سائنس کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک عقیدے کی طرح اختیار کر لیا ہے۔ وہ ہر اس حقیقت کو مشکوک سمجھتے ہیں جو تجربہ گاہ کی میز پر نہ رکھی جا سکے، حالانکہ خود سائنس کا سفر بھی ان مفروضوں، اصولوں اور بنیادوں سے شروع ہوتا ہے جنہیں کوئی خوردبین یا پیمانہ براہِ راست نہیں ناپ سکتا۔
سائنس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کائنات کے مظاہر کو کیسے سمجھا جائے، لیکن یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ وجود کی آخری حقیقت کیا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ستارے کیسے بنتے ہیں، جسم کیسے کام کرتا ہے، مادہ کن قوانین کے تحت حرکت کرتا ہے؛ مگر یہ سوال کہ یہ سب کچھ ہے ہی کیوں؟ اس سوال کا دائرہ کسی اور سطح کی سوچ کا محتاج ہے۔
ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ “صرف وہی حقیقت ہے جو سائنس سے ثابت ہو”، تو وہ اس دعوے کو خود کسی سائنسی تجربے سے ثابت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ سائنس جس منطق، مشاہدے اور عقل کو بنیاد بناتی ہے، وہ خود سائنس کے کسی تجربے کی پیداوار نہیں بلکہ علم کے وسیع تر سفر کی بنیادیں ہیں۔
محبت کو کسی ترازو پر رکھ کر وزن نہیں کیا جا سکتا، وفا کو کسی آلے سے ناپا نہیں جا سکتا، قربانی کی عظمت کو کسی کیمیائی عمل میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب حقیقتیں نہیں؟ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کے دروازے صرف ایک کھڑکی سے نہیں کھلتے۔
انسانی شعور کا کمال یہ ہے کہ وہ سوال کرتا ہے۔ مگر سوال کی وسعت کو ایک ہی دائرے میں قید کر دینا علم کی توسیع نہیں بلکہ فکر کی تحدید ہے۔ جب عقل اپنی حدوں کو پہچاننے کے بجائے اپنی حدوں کو ہی کائنات کا آخری کنارہ سمجھ لے تو وہاں سے تکبرِ علم جنم لیتا ہے۔
سائنس “کیسے” کے راز کھولتی ہے، مگر “کیوں” کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لیے انسان کو فلسفہ، شعور، اخلاق اور روحانی فکر کے میدانوں میں بھی سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایک ڈاکٹر موت کے لمحے میں جسم کے نظام کے رکنے کی وضاحت کر سکتا ہے، مگر زندگی کے معنی اور موت کے سوال کا جواب محض حیاتیاتی عمل سے مکمل نہیں ہوتا۔
حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو عاجزی سکھائے، نہ کہ غرور۔ جو جتنا کائنات کو جانتا ہے، اتنا ہی اس کی وسعت کے سامنے اپنی کم مائیگی محسوس کرتا ہے۔ سمندر کی چند لہروں کو سمجھ لینا سمندر کا مالک بن جانا نہیں ہوتا۔
لہٰذا مسئلہ سائنس نہیں، سائنس پرستی ہے؛ تحقیق نہیں، تحقیق کے نام پر تعصب ہے؛ علم نہیں، علم کی محدود تعریف ہے۔
سائنس ایک عظیم وسیلہ ہے، مگر حقیقت کا آخری دروازہ نہیں۔ عقل ایک قیمتی نعمت ہے، مگر کامل حاکم نہیں۔ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر راز کو فوراً اپنے پیمانوں میں قید کر دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کچھ رازوں کے سامنے ادب سے سر جھکا کر کہہ سکے:
“میں جانتا ہوں کہ میں بہت کچھ جان سکتا ہوں، مگر سب کچھ نہیں۔”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top