میاں بیوی کے ڈیجیٹل تنازعے کی تازہ رپورٹ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

چھ دنوں سے ایک عجیب انکشاف ہوا ہے۔ میری سنجیدہ اور اداس تحریروں پر تبصرے کرنے والی شادی شدہ خواتین کی تعداد اس تیزی سے بڑھ رہی ہے جیسے کسی پرانے ڈرامے کی آخری قسط اچانک ٹرینڈ کر جائے۔ پہلے مجھے لگا شاید مارک زکربرگ نے کوئی نیا الگورتھم جاری کیا ہے:
“غم زدہ تحریریں صرف اُن خواتین کو دکھاؤ جو شوہر کی بے حسی سے تنگ آ چکی ہوں۔”
مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ شادی دراصل عورت کی جذباتی RAM کو فوراً چونسٹھ گیگا بائٹ تک اپ گریڈ کر دیتی ہے۔ پھر ہر جملہ دل کے کسی خفیہ فولڈر میں صرف محفوظ نہیں ہوتا بلکہ اس کا بیک اپ بھی ہمیشہ کے لیے بن جاتا ہے۔
سنگل لوگ ابھی امید کے مفت پیکج پر چل رہے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں محبت کے اشعار پسند آتے ہیں۔ شادی شدہ لوگ حقیقت کے اقتباسات پڑھتے ہیں اور خاموشی سے “ری ایکٹ” کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
مرد بھی عجیب مخلوق ہے۔ صبح دفتر میں باس کی ہر بات پر “یس سر” کہتا ہے، شام گھر آ کر “جی بیگم” کہنے لگتا ہے، اور رات دوست کو فون کر کے آہستہ سے کہتا ہے، “یار! تو ٹھیک کہتا تھا۔”
یوں مرد کی پوری زندگی اپنی رائے رکھنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ اپنی اصل رائے اسے صرف خواب میں آتی ہے، اور وہاں بھی بیگم کی ایک کھانسی خواب کا سسٹم کریش کر دیتی ہے۔
عورت قدرت کا وہ شاہکار ہے جو ایک ہی جملے میں سوال بھی کر سکتی ہے، جواب بھی خود دے سکتی ہے، فیصلہ بھی سنا سکتی ہے اور آخر میں پوری معصومیت سے کہہ بھی سکتی ہے:
“میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں!”
شادی سے پہلے مرد فیکٹری سیٹنگ پر چل رہا ہوتا ہے۔ نکاح کے فوراً بعد نیا آپریٹنگ سسٹم انسٹال ہو جاتا ہے، اور پھر ہر چند دن بعد ایک تازہ اپ ڈیٹ آتا ہے۔
“یہ شرٹ اب مت پہنا کرو۔”
“وہ دوست مجھے شروع سے پسند نہیں تھا۔”
“تم آج اتنے خاموش کیوں ہو؟”
بیچارا مرد پوری زندگی Restart Required کی حالت میں رہتا ہے۔
مرد کی خاموشی صرف Airplane Mode ہوتی ہے، جبکہ عورت کی خاموشی ایسا Cyber Attack ہے جس کی اطلاع بعد میں ملتی ہے، نقصان پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔
ایک دوست سے پوچھا، “زندگی کیسی گزر رہی ہے؟”
بولا، “میں نے سنا تھا شادی کے بعد دو خاندان ایک ہو جاتے ہیں۔”
میں نے کہا، “پھر؟”
کہنے لگا، “ہو تو گئے ہیں… مگر دونوں نے مل کر مجھے بلاک کر دیا ہے۔”
عورت کی ایک حیران کن صلاحیت یہ بھی ہے کہ وہ صرف ایک لفظ “اچھا!” کہہ کر مرد کو پچھلے سات سال کی تمام غلطیاں یاد دلا سکتی ہے۔ سائنس ابھی تک یہ معلوم نہیں کر سکی کہ اس ایک لفظ میں کتنے ٹیرابائٹ کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔
اور اگر اس کے بعد مرد پوچھ بیٹھے، “کیا ہوا؟”
جواب آئے:
“کچھ نہیں۔”
تو سمجھ لیجیے کہ آپ کا اکاؤنٹ عارضی طور پر معطل ہو چکا ہے، بس نوٹیفکیشن ابھی جاری ہونا باقی ہے۔
ادھر مرد کی یادداشت بھی کمال ہے۔ سولہ سال پہلے دوست سے لیے ہوئے پچاس روپے یاد رہتے ہیں، مگر شادی کی سالگرہ ہر سال نئی معلوم ہوتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں عورت پیچیدہ ہے۔
میں اس سے اختلاف کرتا ہوں۔
عورت پیچیدہ نہیں، صرف Password Protected ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاس ورڈ ہر تیسرے دن بدل جاتا ہے، اور Hint میں ہمیشہ یہی لکھا ہوتا ہے:
“اگر اتنی بھی سمجھ نہیں تو رہنے دو!”
آج کی عورت واقعی ہر میدان میں اپنی صلاحیت منوا رہی ہے۔ وہ جہاز بھی اڑا رہی ہے، عدالت بھی چلا رہی ہے، کاروبار بھی سنبھال رہی ہے اور گھر بھی۔
البتہ ایک میدان ایسا ہے جہاں مرد آج تک اس کا مقابلہ نہیں کر سکا۔
صرف تین منٹ کی گفتگو میں پندرہ سال پرانا جھگڑا، کل والا اختلاف، آئندہ جمعے کا ممکنہ تنازع اور ایک فرضی مقدمہ… سب ایک ساتھ پیش کر دینا شاید صرف عورت ہی کا ہنر ہے۔
ادھر مرد اگر ننانوے ڈگری بخار میں مبتلا ہو جائے تو وصیت لکھنے بیٹھ جاتا ہے، جبکہ عورت ایک سو دو بخار میں بھی بچوں کا ٹفن بناتے ہوئے پوچھتی ہے:
“چائے میں چینی ایک چمچ ڈالوں یا آج بھی ڈائٹ پر ہو؟”
برسوں کے مشاہدے کے بعد میری رائے یہ بنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اعتماد زیادہ دیا ہے اور عورت کو یادداشت۔
اسی لیے مرد ہر بحث میں پورے یقین کے ساتھ غلط ہوتا ہے، اور عورت پوری تاریخ، حوالوں اور شواہد کے ساتھ درست ثابت ہو جاتی ہے۔
اگر دنیا میں صرف مرد ہوتے تو ہر چیز کہیں نہ کہیں موجود ہوتی مگر کسی کو ملتی نہیں۔
اور اگر صرف عورتیں ہوتیں تو ہر چیز اپنی جگہ ملتی، مگر ہر چیز پر ایک پرچی ضرور لگی ہوتی:
“اسے ہاتھ مت لگانا… میں نے ترتیب سے رکھا ہے!”
شادی شدہ مرد کی زندگی اُس پرانے چارجر جیسی ہے جو صرف ایک خاص زاویے پر رکھنے سے چارجنگ پکڑتا ہے؛ ذرا سا زاویہ بدلا نہیں کہ فوراً لکھا آ جاتا ہے:
Not Charging
شاید اسی کا نام ازدواجی زندگی ہے؛ جہاں ایک کم بولتا ہے، دوسرا کم بھولتا ہے، دونوں ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، مگر آخرکار رات کی ایک پیالی چائے سارا دن کا جھگڑا Auto Save کر کے اگلے دن کے لیے بند کر دیتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top