(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہر زمانہ اپنے احتجاج کی زبان خود ایجاد کرتا ہے۔ کبھی یہ زبان تلوار تھی، کبھی کتاب، کبھی خفیہ منشور، کبھی مسجد و بازار، اور اب ایک اسکرین پر ابھرتا ہوا ہیش ٹیگ۔ مگر تاریخ ایک عجیب اصول پر قائم ہے: آوازیں تاریخ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، مگر دروازہ ہمیشہ تنظیم، نظریے اور اداروں کے ہاتھ سے کھلتا ہے۔
آج کی نسل ایک ایسے عہد میں پیدا ہوئی ہے جہاں خبر واقعے سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے، اور ردِعمل فکر سے پہلے آ جاتا ہے۔ ایک میم حکومتوں کا مذاق اڑا سکتی ہے، ایک وائرل ویڈیو لاکھوں انسانوں کو سڑک پر لا سکتی ہے، اور ایک ہیش ٹیگ چند گھنٹوں میں پوری دنیا کو ایک ہی جملہ دہرانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ مگر یہی رفتار ایک المیہ بھی اپنے ساتھ لاتی ہے۔ جو چیز لمحوں میں جنم لیتی ہے، وہ اکثر لمحوں میں ہی تھک بھی جاتی ہے۔
اقتدار صرف طاقت کا نام نہیں، صبر کا نام بھی ہے۔ ریاستیں جذبات سے نہیں، ڈھانچوں سے چلتی ہیں۔ اسی لیے اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے قلعہ فتح کر لیا، جبکہ حقیقت میں وہ صرف اس کی دیواروں پر اپنی آواز کی بازگشت سن رہے ہوتے ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر کامیاب انقلاب سے پہلے ایک خاموش انقلاب آتا ہے؛ ذہنوں کا انقلاب۔ کتابیں لکھی جاتی ہیں، نظریات پختہ ہوتے ہیں، تربیت ہوتی ہے، تنظیم بنتی ہے، اختلاف کو نظم میں بدلا جاتا ہے، اور پھر کہیں جا کر سڑکیں بولتی ہیں۔ جب سڑکیں کتابوں سے آگے نکل جائیں اور کتابیں سڑکوں سے پیچھے رہ جائیں تو شور تو پیدا ہوتا ہے، مگر سمت پیدا نہیں ہوتی۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ طنز بیدار تو کر سکتا ہے، تعمیر نہیں کر سکتا۔ مذاق خوف کو توڑ دیتا ہے، مگر ادارے نہیں بناتا۔ قہقہہ اقتدار کی ہیبت کم کر دیتا ہے، مگر متبادل نظام تخلیق نہیں کرتا۔ کسی بھی معاشرے میں سب سے آسان کام یہ ثابت کرنا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہے، اور سب سے مشکل کام یہ دکھانا ہے کہ اس کی جگہ کیا آئے گا۔
ڈیجیٹل دنیا نے احتجاج کو جمہوری ضرور بنا دیا ہے، مگر قیادت کو غیر ضروری نہیں بنایا۔ ہجوم اکٹھا کرنا پہلے سے آسان ہے، مگر ہجوم کو مقصد، ضبط اور مستقل مزاجی دینا آج بھی اتنا ہی دشوار ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ الگورتھم جذبات کو بڑھا سکتا ہے، کردار کو نہیں۔ ٹرینڈ بیانیہ بنا سکتا ہے، مگر تہذیب اور ریاست نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا مفید ہے یا مضر۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے احتجاج کو ایک لمحاتی تماشہ بنا دیا ہے؟ کیا تبدیلی اب ایک وائرل ویڈیو کے دورانیے جتنی مختصر ہو گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہر تحریک کا انجام بھی اسی ویڈیو کی طرح ہوگا؛ چند لمحے لاکھوں نظروں میں، پھر اگلے رجحان کی آمد کے ساتھ فراموش۔
قدرت کا ایک اصول ہے کہ چنگاری جنگل کو جلا سکتی ہے، مگر شہر تعمیر نہیں کر سکتی۔ تعمیر کے لیے نقشہ، معمار، اینٹ، وقت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ یہی اصول سیاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہیش ٹیگ آگ لگا سکتا ہے، مگر آئین نہیں لکھ سکتا۔ میم اقتدار کو شرمندہ کر سکتی ہے، مگر اداروں کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔
شاید آنے والے زمانے میں انقلاب کی تعریف بدل جائے، مگر تاریخ کا قانون شاید کبھی نہیں بدلے گا: جذبات دروازہ کھولتے ہیں، مگر مستقبل ہمیشہ نظم، فکر اور کردار کے ہاتھ سے لکھا جاتا ہے۔
اسی لیے ہر نسل کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ صرف شور کی وارث بننا چاہتی ہے یا شعور کی۔ کیونکہ شور دور تک سنائی دیتا ہے، مگر شعور ہی وہ قوت ہے جو صدیوں تک سنائی دیتا رہتا ہے۔
