عقیدت کا اندھیرا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اندھی عقیدت شعور کی وہ زنجیر ہے جو انسان اپنے ہاتھوں سے پہنتا ہے، انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ غلطی کر جاتا ہے، بلکہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنی غلطی کو مقدس بنا لیتا ہے۔
اندھی عقیدت وہ ذہنی کیفیت ہے جہاں انسان حقیقت کو اپنی خواہش کے تابع کر دیتا ہے، جہاں آنکھیں دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور دل فیصلہ کرنے لگتا ہے۔ پھر انسان سچ کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ سچ ہے، بلکہ اس لیے رد کر دیتا ہے کہ وہ اس کے عقیدے کے محل میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔
یہ ایک عجیب نفسیاتی بیماری ہے جس میں انسان اپنے محبوب تصور کو بچانے کے لیے اپنی عقل کو قربان کر دیتا ہے۔ وہ سوالوں کو گستاخی، تحقیق کو بغاوت اور اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگتا ہے۔
اندھی عقیدت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ برائی کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اسے تقدس کا لباس پہنا دیتی ہے۔
پھر پتھر صرف پتھر نہیں رہتے، ان میں دیوتاؤں کا تصور تراش لیا جاتا ہے؛
پھر انسان صرف انسان نہیں رہتے، ان کے گرد تقدس کی ایسی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ ان کے اعمال کا احتساب ممکن نہیں رہتا۔
تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظالم پیدا ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے ظالموں کے لیے تالیاں بجائیں، ان کے قدموں میں دلیلیں رکھیں اور اپنی خاموشی سے ظلم کو طاقت دی۔
اندھی عقیدت ظالم کو طاقت سے نہیں، پیروکاروں کی بےسوچی محبت سے بڑا بناتی ہے۔
یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنا چہرہ نہیں، صرف اپنی خواہش کا عکس دیکھتا ہے۔ وہ کردار نہیں دیکھتا، صرف شہرت دیکھتا ہے؛ وہ سچ نہیں سنتا، صرف وہی آواز سنتا ہے جو اس کے یقین کی تصدیق کرے۔
یاد رکھنا چاہیے:جس عقیدت کو سوال سے خوف آنے لگے، وہ عقیدت نہیں، ایک ذہنی غلامی ہے۔
عقل اور عقیدت کا رشتہ دشمنی کا نہیں، توازن کا ہے۔ عقل عقیدت کو اندھا ہونے سے بچاتی ہے، اور سچی عقیدت عقل کو تکبر سے محفوظ رکھتی ہے۔ مگر جب عقیدت عقل کا گلا گھونٹ دے تو وہاں روحانیت نہیں رہتی، صرف ہجوم رہ جاتا ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے فتنوں نے ہمیشہ انسان کے اسی کمزور پہلو کو استعمال کیا ہے۔ کسی نے نسل کے نام پر، کسی نے قوم کے نام پر، کسی نے مذہب کے نام پر اور کسی نے شخصیت پرستی کے نام پر انسانوں سے سوچنے کی صلاحیت چھین لی۔
کیونکہ جو انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے، وہ صرف دوسروں کے فیصلے نہیں مانتا، بلکہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت بھی دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔
اصل عظمت کسی انسان کو فرشتہ بنا دینے میں نہیں، بلکہ انسان کو انسان سمجھتے ہوئے اس کے اچھے اور برے میں فرق کرنے میں ہے۔
یاد رکھیں،اندھی عقیدت آنکھوں پر پٹی نہیں باندھتی، یہ انسان کو اس پٹی سے محبت کرنا سکھا دیتی ہے۔
اور جس دن انسان اپنی زنجیروں کو زیور سمجھنے لگے، اسی دن آزادی کا آخری چراغ بجھ جاتا ہے۔
شعور زندہ رہے تو انسان پتھروں میں بھی حقیقت تلاش کرتا ہے،
اور شعور مر جائے تو انسان زندہ انسانوں میں بھی خدا تراش لیتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top