(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زمین صرف مٹی، پانی اور پتھروں کا مجموعہ نہیں؛ یہ احساسات کی ایک بستی بھی ہے۔ اس کے حسن کا تعلق صرف پہاڑوں کی بلندی، دریاؤں کی روانی یا باغوں کی سرسبزی سے نہیں، بلکہ اُن ننھی مخلوقات سے بھی ہے جو خاموشی سے زندگی کے حسن کی گواہی دیتی ہیں۔
تتلی اُنہی گواہیوں میں سے ایک ہے۔
وہ قدرت کا ایک ایسا خط ہے جو رنگوں کی زبان میں لکھا گیا ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات صرف بقا کا نام نہیں، لطافت کا بھی نام ہے۔ مگر جس دنیا میں تتلیاں کم ہونے لگیں، وہاں صرف ایک مخلوق نہیں جاتی؛ وہاں انسان کے اندر کا ایک نرم گوشہ بھی ماند پڑنے لگتا ہے۔
تتلیوں کے بغیر زمین، زمین تو رہ سکتی ہے، مگر زندگی کی وہ مسکراہٹ کھو دیتی ہے جو اسے خوبصورت بناتی ہے۔
تتلیاں پھولوں پر بیٹھتی ہیں، مگر اصل میں وہ انسان کے دل پر دستک دیتی ہیں۔ ایک بچہ جب تتلی کے پیچھے بھاگتا ہے تو وہ صرف ایک رنگین پرند نما وجود کا تعاقب نہیں کر رہا ہوتا، وہ حیرت، معصومیت اور خوشی کے اُس خزانے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے جو انسان کو انسان رکھتا ہے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر اپنی دنیا سے حیرت کے بہت سے دروازے بند کر دیے ہیں۔ ہم نے رفتار تو حاصل کر لی، مگر ٹھہر کر دیکھنے کی صلاحیت کھو دی۔ ہم نے پیداوار بڑھا لی، مگر پھولوں کے لیے جگہ کم کر دی۔ ہم نے شور پیدا کر لیا، مگر فطرت کی خاموش موسیقی سننے والے کان کم ہوتے گئے۔
تتلیوں کا غائب ہونا صرف ماحول کا مسئلہ نہیں، یہ تہذیب کے مزاج کا مسئلہ بھی ہے۔
جس معاشرے میں کمزور، نازک اور بے زبان چیزوں کے لیے جگہ کم ہو جائے، وہاں آہستہ آہستہ انسانوں کے لیے بھی نرمی کم ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ جو دل ایک چھوٹے سے پر کو ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتا، وہی دل کسی آنکھ کے آنسو کی قدر کرنا بھی جانتا ہے۔
تتلی ہمیں سکھاتی ہے کہ خوبصورتی کا تعلق طاقت سے نہیں ہوتا۔ وہ نہ بلند آواز رکھتی ہے، نہ کوئی دفاعی ہتھیار، نہ کوئی اقتدار؛ پھر بھی باغ کی رونق اس کے وجود سے مکمل ہوتی ہے۔ شاید یہی کائنات کا ایک گہرا راز ہے کہ بعض اوقات سب سے کمزور دکھائی دینے والی چیزیں ہی زندگی کے سب سے بڑے معنی سنبھالے ہوتی ہیں۔
ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں بچے تتلیوں کی کہانیاں کتابوں میں پڑھیں گے، مگر انہیں کھلی فضا میں دیکھ نہیں سکیں گے۔ جہاں پھول صرف تصویروں میں ہوں گے، خوشبو صرف یادوں میں، اور بارش کی خوشی صرف پرانی نسلوں کے قصوں میں۔
یہ صرف قدرت کا نقصان نہیں ہوگا، یہ انسانی تخیل کا نقصان ہوگا۔
کیونکہ جو آنکھ رنگوں سے محروم ہو جائے، وہ آہستہ آہستہ خوابوں سے بھی محروم ہونے لگتی ہے۔
تتلیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زندگی کا مقصد صرف بڑا ہونا نہیں، خوبصورت ہونا بھی ہے۔ درخت کا سایہ، پرندے کی آواز، پھول کی خوشبو اور تتلی کا رقص—یہ سب کائنات کے وہ خاموش تحفے ہیں جو انسان کو بتاتے ہیں کہ وجود صرف ضرورتوں سے نہیں، نعمتوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
ہم نے اگر اپنی زمین کو صرف وسائل کا ذخیرہ سمجھ لیا تو ایک دن یہ ہماری ملکیت تو ہوگی، مگر ہماری پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ گھر وہی ہوتا ہے جہاں دل کو سکون ملے، جہاں نگاہ کو حسن ملے، جہاں روح کو تازگی ملے۔
تتلیوں کو بچانا دراصل اپنے اندر کے اُس انسان کو بچانا ہے جو ابھی بھی کسی خوبصورت منظر پر رک جاتا ہے، کسی پھول کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہے، کسی پرندے کی آواز میں صبح تلاش کر لیتا ہے۔
کیونکہ جس دنیا میں تتلیاں نہیں رہتیں، وہاں شاید سب کچھ موجود رہتا ہے، مگر زندگی کا نازک سا جادو کہیں کھو جاتا ہے۔
اور شاید انسان کو سب سے زیادہ اسی جادو کی ضرورت ہے۔
