(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ لوگ معاشرے میں چراغ لے کر آتے ہیں، مگر اندھیروں کو ان کی روشنی پسند نہیں آتی۔ کچھ قلم صرف کہانیاں نہیں لکھتے، وہ وقت کے چہرے سے نقاب اتارتے ہیں۔ وہ لفظوں سے زخم نہیں دیتے، بلکہ اُن زخموں کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں معاشرہ خوبصورت پردوں کے پیچھے چھپانا چاہتا ہے۔
ایسے ہی لوگ منٹو ہوتے ہیں۔
منٹو صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ اُس بے خوف ضمیر کا نام ہے جو تہذیب کے جھوٹے لباس کے نیچے چھپے ہوئے سچ کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ آنکھ جو ملبے میں بھی انسان کو تلاش کرتی ہے، وہ قلم جو شور میں بھی خاموش چیخ سن لیتا ہے۔
لیکن ہر دور میں کچھ معاشرے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آئینے سے ڈر جاتے ہیں۔
انہیں اپنا چہرہ دیکھنے سے خوف آتا ہے، اس لیے وہ آئینہ توڑنے لگتے ہیں۔ انہیں اپنی بیماری کا علاج نہیں چاہیے ہوتا، صرف بیماری کی تشخیص کرنے والے سے شکایت ہوتی ہے۔ وہ زخم سے نہیں، زخم دکھانے والے ہاتھ سے ناراض ہوتے ہیں۔
وہ قوم جو اپنے منٹو سے ڈر گئی، دراصل اپنے ہی ضمیر سے خوف زدہ ہو گئی۔
کیونکہ منٹو سوال کرتا ہے: کیا ہم واقعی اتنے مہذب ہیں جتنا دعویٰ کرتے ہیں؟ کیا ہمارے لباس کے نیچے ہماری روح بھی اتنی ہی پاکیزہ ہے؟ کیا ہماری زبانوں پر اخلاق اور ہمارے اعمال میں ظلم کا تضاد موجود نہیں؟
منٹو کا جرم شاید یہی تھا کہ وہ انسان کو فرشتہ بنا کر پیش نہیں کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ انسان کے اندر روشنی بھی ہے اور اندھیرا بھی، فرشتے کی خواہش بھی ہے اور حیوان کی کمزوری بھی۔ وہ دکھاتا تھا کہ تہذیب صرف خوبصورت عمارتوں، بڑے دعووں اور بلند نعروں کا نام نہیں؛ تہذیب تو اُس لمحے ظاہر ہوتی ہے جب طاقتور کمزور کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی سچ آئینہ نہیں، نشتر بن جاتا ہے۔ وہ اُن حصوں کو چھوتا ہے جہاں برسوں سے پیپ جمع ہو۔ پھر انسان علاج کرنے کے بجائے آئینے پر الزام لگا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اکثر پیغمبرانہ آوازوں، مصلحین، مفکروں اور ادیبوں کو اپنے عہد کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ نئی روشنی ہمیشہ پرانے اندھیروں کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔
جو معاشرہ اپنے منٹو کو خاموش کر دیتا ہے، وہ اپنے اندر کے سوالوں کو دفن کر دیتا ہے۔ پھر وہاں ادب صرف تفریح رہ جاتا ہے، فکر نہیں؛ شاعری صرف الفاظ رہ جاتی ہے، روح نہیں؛ اور علم صرف معلومات رہ جاتا ہے، بصیرت نہیں۔
منٹو ہمیں بے حیائی نہیں دکھاتا، وہ بے حسی دکھاتا ہے۔ وہ گندگی پیدا نہیں کرتا، وہ پہلے سے موجود گندگی پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ معاشرے کو خراب نہیں کرتا، وہ خراب معاشرے کی تصویر سامنے رکھتا ہے۔
آئینہ کبھی چہرے پر داغ نہیں لگاتا۔
لیکن داغ دیکھنے کا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا۔
زندہ قومیں اپنے منٹو کو سزا نہیں دیتیں، انہیں سنتی ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ تنقید دشمنی نہیں، اصلاح کا دروازہ ہے۔ جو قوم اپنے زخموں کا اعتراف کر لیتی ہے، وہ شفا کی طرف بڑھتی ہے؛ اور جو اپنے زخم چھپاتی رہتی ہے، وہ اندر ہی اندر گلنے لگتی ہے۔
منٹو سے خوف دراصل سچ سے خوف ہے۔ سچ سے خوف دراصل خود سے خوف ہے۔ اور خود سے خوف زدہ انسان کبھی مکمل انسان نہیں بن سکتا۔
ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم مزید خوبصورت پردے تیار کریں؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر کے اندھیروں کو پہچانیں۔ کیونکہ اندھیرا اس وقت ختم نہیں ہوتا جب ہم چراغ کو برا کہیں، بلکہ اس وقت ختم ہوتا ہے جب ہم چراغ جلانے کا حوصلہ پیدا کریں۔
ہر قوم کو اپنے منٹو کی ضرورت ہوتی ہے؛ ایسے منٹو کی جو اسے اس کی کمزوریوں کا احساس دلائے، اس کے زخم دکھائے، اور اسے یاد دلائے کہ انسان بننے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
کیونکہ جس قوم کے پاس بے خوف قلم نہ رہے، وہاں ظلم خاموشی سے پروان چڑھتا ہے۔
اور جس قوم کو اپنے آئینے سے محبت نہ رہے، ایک دن وہ اپنا چہرہ ہی بھول جاتی ہے۔
منٹو سے ڈرنے والی قوم دراصل منٹو سے نہیں، اپنی حقیقت سے ڈرتی ہے۔
