قوسِ قزح کے وارث

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ لوگ زمانے میں صرف زندگی گزارنے کے لیے نہیں آتے، وہ زندگی کے معنی بچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ ایسے موسموں میں جنم لیتے ہیں جب فضا میں گرد زیادہ ہو، جب آوازوں میں سختی بڑھ جائے، جب انسان کے اندر کا نرم گوشہ آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگے۔ ایسے لوگ پھر رنگوں کے امین بن جاتے ہیں۔
وہ قوسِ قزح کے وارث ہوتے ہیں۔
قوسِ قزح ہمیشہ بارش کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ شاید قدرت کا یہ ایک گہرا راز ہے کہ رنگ اکثر طوفان کے گزرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ بادل جب اپنا بوجھ زمین پر اتار دیتے ہیں، آنسو جب مٹی کو چھو لیتے ہیں، تب آسمان اپنے دامن میں چھپے رنگ ظاہر کرتا ہے۔
انسانی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
دکھ، آزمائشیں اور محرومیاں اگر انسان کے دل کو پتھر نہ بنا دیں تو وہی اسے زیادہ گہرا، زیادہ نرم اور زیادہ روشن بنا سکتی ہیں۔ کچھ لوگ مشکلات سے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ انہی تجربات سے دوسروں کے لیے روشنی کا سبب بن جاتے ہیں۔
قوسِ قزح کے وارث وہ ہیں جو دنیا کو صرف جیسا ہے ویسا قبول نہیں کرتے، بلکہ جیسا ہونا چاہیے ویسا بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ ایک تلخ لفظ کسی کے اندر برسوں کی خزاں پیدا کر سکتا ہے، اور ایک مہربان جملہ کسی اجڑے ہوئے دل میں بہار لا سکتا ہے۔ اس لیے وہ زبان کو ہتھیار نہیں، مرہم بناتے ہیں؛ اختلاف کو دیوار نہیں، مکالمے کا دروازہ بناتے ہیں۔
رنگ صرف آنکھوں کو خوش نہیں کرتے، وہ روح کو وسعت دیتے ہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص ایک ہی رنگ دیکھنے پر مجبور کر دیا جائے، وہاں زندگی بے رونق ہو جاتی ہے۔ حسن کا راز تنوع میں ہے۔ پھولوں کا باغ اس لیے خوبصورت نہیں کہ ہر پھول ایک جیسا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہر پھول اپنی الگ خوشبو رکھتا ہے۔
قوسِ قزح ہمیں سکھاتی ہے کہ مختلف رنگ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوتے؛ وہ مل کر آسمان کی خوبصورتی مکمل کرتے ہیں۔
مگر آج انسان نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے۔ مختلف سوچ رکھنے والا اجنبی سمجھا جانے لگا، مختلف راستہ اختیار کرنے والا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ یوں رنگوں کی دنیا میں یک رنگی کا جبر بڑھنے لگا۔
قوسِ قزح کے وارث وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ انسان کی قدر اس کی مماثلت میں نہیں، اس کی انفرادیت میں ہے۔ وہ دوسروں کو بدلنے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر دل کے اندر ایک الگ موسم آباد ہے۔
یہ لوگ شور کے زمانے میں خاموش خوبصورتی کو تلاش کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ دنیا صرف بڑے کارناموں سے نہیں بدلتی؛ کبھی ایک مسکراہٹ، ایک معافی، ایک انصاف بھرا فیصلہ، ایک بے غرض مدد بھی تاریخ کے رخ پر نرم سا اثر چھوڑ جاتی ہے۔
قوسِ قزح کے وارث دراصل امید کے محافظ ہوتے ہیں۔
وہ اندھی رات کو یہ نہیں کہتے کہ صبح نہیں آئے گی؛ وہ اندھیرے میں ایک چھوٹا سا چراغ جلا دیتے ہیں۔ وہ خزاں کو دیکھ کر باغ سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ بہار کے امکان پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ دنیا کی سختیوں سے گزر کر بھی اپنے اندر کی نرمی محفوظ رکھتے ہیں۔
کیونکہ آسان حالات میں اچھا رہنا کوئی کمال نہیں؛ اصل عظمت تو یہ ہے کہ انسان تلخیوں کے درمیان بھی مٹھاس بانٹ سکے، ناانصافیوں کے بیچ بھی انصاف کا دامن تھامے رکھے، اور بے رنگ موسموں میں بھی رنگوں کا خواب دیکھتا رہے۔
ہمیں ایسی نسلوں کی ضرورت ہے جو صرف بلند عمارتیں نہ بنائیں بلکہ خوبصورت معاشرے بھی تعمیر کریں؛ جو کامیابی کو صرف دولت اور شہرت میں نہ ناپیں بلکہ اس بات سے بھی پہچانیں کہ ان کے وجود سے کتنے دلوں میں سکون پیدا ہوا۔
کیونکہ دنیا کو ہمیشہ طاقتور لوگوں نے نہیں بچایا، بعض اوقات اُن نرم دل لوگوں نے بچایا ہے جنہوں نے مشکل ترین اوقات میں بھی انسان ہونے کا حق ادا کیا۔
قوسِ قزح کے وارث وہی ہیں جو جانتے ہیں کہ رنگ باہر کے آسمان میں نہیں، پہلے انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔
اور جس دن انسان کے اندر محبت، رحم، برداشت اور حسن کے رنگ زندہ رہیں گے، اُس دن دنیا کے آسمان پر امید کی قوسِ قزح ضرور نمودار ہوتی رہے گی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top