پاک تنہائی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

تنہائی اُس وقت عبادت بن جاتی ہے جب وہ ہجوم سے فرار نہیں، اپنے باطن کی طرف سفر ہو۔ ہر اکیلا انسان تنہا نہیں ہوتا، اور ہر مجمع آباد نہیں ہوتا۔ بعض دل بازاروں کے درمیان بھی ویران رہتے ہیں، اور بعض حجرے ایسی آبادیوں سے بھر جاتے ہیں جہاں فرشتوں کی خاموشیاں بھی ذکر کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فاصلے طے کر کے نہیں آتا، وہ کیفیتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس کی قربت کا راستہ قدموں سے نہیں، قلب کی تطہیر سے کھلتا ہے۔ دل ایک آئینہ ہے؛ اگر اس پر انا کی گرد، حسد کا دھواں، حرص کی نمی، نفرت کی میل اور خواہشات کی دھند جم جائے تو اس میں حقیقت کا آفتاب منعکس نہیں ہوتا۔ مگر جب یہی آئینہ مسلسل محاسبۂ نفس، اخلاص اور محبت سے صیقل ہو جائے تو وہ روشنی کو روکنے کے بجائے اس کا مظہر بن جاتا ہے۔
انسان کا سب سے بڑا بت پتھر کا نہیں، “میں” کا ہوتا ہے۔ جب تک یہ بت سلامت رہتا ہے، سجدے بھی اپنے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ جس دن یہ “میں” ٹوٹتی ہے، اسی دن بندہ اپنی ذات کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ فنا کے بعد ہی بقا کا دروازہ کھلتا ہے، اور خالی ہونے کے بعد ہی دل اس قابل بنتا ہے کہ اس میں رحمت کی وسعت سما سکے۔
عشقِ مصطفیٰ ﷺ دل کو صرف جذبات نہیں دیتا، وہ اس کے مزاج کو بدل دیتا ہے۔ پھر عبادت رسم نہیں رہتی، کردار بن جاتی ہے؛ ذکر آواز نہیں رہتا، سانسوں کی خوشبو بن جاتا ہے؛ اور تنہائی اداسی نہیں رہتی، ملاقات کی ساعت بن جاتی ہے۔
تاریخ کے بڑے نام کتابوں سے پیدا نہیں ہوئے، خلوتوں سے پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے باطن کو بدلا تھا۔ ان کی اصل کرامت الفاظ نہیں تھے، بلکہ وہ پاکیزہ تنہائی تھی جس میں انہوں نے اپنے نفس کی آواز کو خاموش اور اپنے رب کی طرف سے آنے والی ہدایت کو نمایاں کر لیا تھا۔ جب باطن پاک ہو جائے تو انسان نام سے نہیں، نور سے پہچانا جاتا ہے۔
معرفت علم کی کثرت کا انعام نہیں، طہارتِ قلب کا ثمر ہے۔ ہر جاننے والا عارف نہیں ہوتا، لیکن ہر عارف اپنے دل کو اللہ کے لیے خالی ضرور کر چکا ہوتا ہے۔ رب تعالیٰ عقل سے پہلے نیت کو دیکھتا ہے، زبان سے پہلے دل کو، اور ظاہر سے پہلے باطن کو۔
یاد رکھیے، پاکیزگی صرف جسم یا لباس کی صفت نہیں، تنہائی کی بھی ایک طہارت ہوتی ہے۔ انسان لوگوں کے سامنے جیسا دکھائی دیتا ہے، وہ اس کی شہرت ہوتی ہے؛ مگر وہ اپنی تنہائی میں جیسا ہوتا ہے، وہی اس کی حقیقت ہوتی ہے۔ اگر خلوت گناہوں سے نہیں، خدا کی یاد سے آباد ہو؛ اگر دل خودنمائی سے نہیں، اخلاص سے روشن ہو؛ اور اگر روح خواہشات کی اسیری سے نکل کر محبتِ الٰہی میں سانس لینے لگے، تو پھر وہ تنہائی، تنہائی نہیں رہتی، وہ رب کی قربت کا آستانہ بن جاتی ہے۔
معرفت کا پہلا دروازہ علم نہیں، پاک تنہائی ہے؛ کیونکہ جو شخص اپنی خلوت کو پاکیزہ کر لیتا ہے، اس کی جلوت بھی نور بن جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top