محبت کا انکار

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان جب اپنے آپ کو “کامل” سمجھنے کے زعم میں مبتلا ہوتا ہے تو دراصل وہ اپنی سب سے قدیم اور سب سے سچی کمزوری سے نظریں چرا رہا ہوتا ہے۔ کمال کا یہ تصور اکثر ایک تھکے ہوئے دل کی آخری پناہ گاہ بن جاتا ہے، جہاں وہ محبت کی طلب کو کمزوری کہہ کر دفن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شعور کی بلندی پر پہنچ کر انسان یہ گمان کر لیتا ہے کہ اب اسے کسی اور دل کی حرارت کی ضرورت نہیں رہی، کہ اب وہ خود اپنے لیے کافی ہے۔ مگر یہ “کافی ہونا” اکثر ایک خشک کنویں کی طرح ہوتا ہے: گہرا، خاموش اور بظاہر پُر اسرار، لیکن پیاس بجھانے سے قاصر۔
محبت سے انکار دراصل بے نیازی نہیں، ایک خوف ہے؛
وہ خوف جو پہلی بار ٹوٹنے کے بعد دل نے اپنے گرد حصار کی صورت اوڑھ لیا تھا۔ یہ وہ زخم ہے جو بھر تو جاتا ہے، مگر اپنی یاد میں احتیاط چھوڑ جاتا ہے۔ انسان پھر فلسفے تراشتا ہے، نظریے گھڑتا ہے، اور خود کو قائل کرنے لگتا ہے کہ تنہائی ہی اصل دانائی ہے کہ کسی کی محتاجی نہ ہونا ہی اصل آزادی ہے۔ حالانکہ یہ آزادی نہیں ایک خود ساختہ جلاوطنی ہے جہاں روح اپنے ہی وجود سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ یہ “خود مکمل لوگ” دراصل ایسے چراغ ہیں جو تیز ہوا سے ڈر کر شیشے کے قفس میں بند ہو گئے ہوں۔ باہر کی آندھی سے تو بچ گئے، مگر اندر ہی اندر آکسیجن کی کمی نے شعلے کو مدھم کر دیا۔ وہ کہتے ہیں ہمیں محبت کی ضرورت نہیں مگر ان کی راتیں گواہ ہیں کہ خاموشی میں سب سے اونچی آواز کسی کی یاد ہی کی ہوتی ہے۔ وہ خلا جسے وہ حکمت اور ضبط کے الفاظ سے ڈھانپتے ہیں اصل میں وہی جگہ ہے جہاں کبھی کسی کے لمس، کسی کی توجہ، کسی کے “تم” نے بسیرا کیا تھا۔
محبت کوئی ایسی چیز نہیں جو کمال کے بعد فالتو ہو جائے۔ یہ تو وہ بنیاد ہے جس پر کمال کا خواب کھڑا کیا جاتا ہے۔ جیسے سانس کے بعد یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اب ہوا کی ضرورت نہیں رہی ویسے ہی شعور کے بعد یہ کہنا کہ دل اب بے نیاز ہے، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ انسان آخری سانس تک کسی نہ کسی صورت میں محبت کا طلبگار رہتا ہے کبھی رشتے میں، کبھی یاد میں، کبھی دعا میں، اور کبھی کسی انجانی اداسی میں۔
جو لوگ محبت سے مکر جاتے ہیں، وہ دراصل اس کا راستہ نہیں بدلتے، صرف اس کا نام بدل دیتے ہیں۔ وہی پیاس کبھی تخلیق بن کر ظاہر ہوتی ہے، کبھی تنہائی کے تقدس میں ڈھل جاتی ہے، اور کبھی خود شناسی کے خوشنما پردے میں چھپ جاتی ہے۔ مگر پیاس، پیاس ہی رہتی ہے۔ اسے جتنا نظرانداز کیا جائے، اتنی ہی ضدی ہو جاتی ہے۔
آخرکار انسان کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ اپنے تمام فلسفوں، تمام دفاعی دیواروں اور تمام انا کے بوجھ کے باوجود کسی ایک دل کے سامنے تھک کر بیٹھ سکے۔ جہاں وہ یہ اعتراف کر سکے کہ دانائی کے سب دعوے اپنی جگہ مگر روح اب بھی چاہتی ہے کہ کوئی اسے سمجھے، سنے، اور بنا کسی شرط کے قبول کر لے۔ محبت سے انکار جب دلیلوں کی تہذیب اوڑھ کر لفظوں کی طوالت میں پناہ لیتا ہے، تو وہ خود اس سچ کا اعتراف بن جاتا ہے جو روح کے لیے سب سے زیادہ ناگزیر ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top