(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تاریخ نے بادشاہ بہت دیکھے ہیں، فاتح بہت دیکھے ہیں، اور سلطنتوں کے عروج و زوال کے بے شمار تماشے بھی دیکھے ہیں۔ کسی نے لشکروں کے بل پر دنیا فتح کی، کسی نے خزانوں سے اپنی عظمت کے مینار کھڑے کیے، کسی نے خوف کو حکومت کا ستون بنایا اور کسی نے رعایا کو اپنی ذات کی ملکیت سمجھ لیا۔
مگر تاریخ کے اس تمام شور و غوغا کے درمیان ایک ایسی ریاست بھی طلوع ہوئی جس نے انسانی سیاست کے معنی ہی بدل دیے۔
وہاں ایک نبی ﷺ حاکم بھی تھا اور معلم بھی؛ سپہ سالار بھی تھا اور قاضی بھی؛ منتظم بھی تھا اور مصلح بھی۔۔مگر ان تمام مناصب کے باوجود اس کی ذات میں اقتدار کا غرور پیدا نہ ہوا۔
وہ مدینہ تھا۔
اور اس مدینے میں ایک ایسی سیاست نے جنم لیا جس کا بنیادی سوال یہ نہیں تھا کہ حاکم کتنا طاقتور ہے؟
بلکہ یہ تھا کہ اس طاقت کے سامنے کمزور کتنا محفوظ ہے؟
یہی وہ نقطہ ہے جہاں سیاستِ نبوی ﷺ دنیا کے تمام مروجہ سیاسی فلسفوں سے جدا ہو کر ایک عالمگیر اخلاقی انقلاب بن جاتی ہے۔
سیاست کا پہلا سوال: اقتدار کس کا ہے؟
جدید سیاست میں اقتدار کو عموماً اختیار، قوت، اکثریت، منصب، جماعت یا ریاستی طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے؛ مگر قرآن نے اسلامی حکمرانی کی بنیاد ایک یکسر مختلف لفظ پر رکھی: امانت۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الاَمٰنٰتِ اِلٰى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ
(النساء: 58)
“بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔”
غور کیجیے! قرآن نے اقتدار کو سب سے پہلے امانت کہا اور اس کے فوراً بعد عدل کا ذکر کیا۔ گویا اسلامی سیاست کا پہلا دستور یہ ہے:
منصب تمہاری ملکیت نہیں، تمہارے پاس رکھی ہوئی امانت ہے؛ اور اس امانت کا پہلا حق دار تمہارا اقتدار نہیں، عدل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو نہایت دوٹوک انداز میں بیان فرماتے ہوئے حکمران کو اپنی رعایا کا نگہبان اور اس نگہبانی کے بارے میں جواب دہ قرار دیا۔ جب حضرت ابوذر غفاریؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے منصب کی خواہش ظاہر کی، تو آپ ﷺ نے انہیں یاد دلایا کہ اقتدار ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ باعثِ ندامت و رسوائی بن سکتا ہے—سوائے اس شخص کے جو اس کا حق ادا کرے۔
یہاں سیاست، روحانیت اور اخلاق سے جدا نہیں رہتی۔ جس دن حاکم یہ بھول جاتا ہے کہ اسے اقتدار ملا نہیں بلکہ سونپا گیا ہے، اسی دن سیاست خدمت کے درجے سے گر کر سلطنتِ نفس بن جاتی ہے۔
مدینہ نے صرف ریاست قائم نہیں کی، بلکہ اس ریاست کو چلانے والا صاحبِ کردار انسان تراشا
رسول اللہ ﷺ کی مدنی سیاست کا کمال صرف یہ نہیں تھا کہ آپ ﷺ نے ایک ریاست قائم کی؛ اصل کمال یہ تھا کہ آپ ﷺ نے متصادم قبائل اور مختلف معاشرتی پس منظر رکھنے والے انسانوں کو ایک ذمہ دار اور مربوط اجتماعی نظم میں ڈھال دیا۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں محض حکومت قائم نہیں ہوئی؛ ایک تاریخی اجتماعی عہد وجود میں آیا۔
جسے جدید علمی روایت میں “میثاقِ مدینہ ” کہا جاتا ہے، اس میں مختلف گروہوں کے باہمی تعلقات، مدنی ذمہ داریوں اور اجتماعی دفاع کے اصول مرتب ہوئے۔ جدید عالمگیر محققین بھی اس دستاویز کو انسانی تاریخ کے پہلے تحریری آئین اور مدنی معاشرے کی تشکیل کے اہم ترین شاہکار میں شمار کرتے ہیں۔
اس معاہداتی نظم کا ایک نہایت معنی خیز پہلو یہ تھا کہ غیر مسلم اور یہودی گروہوں کے مذہبی و معاشرتی تشخص کو تسلیم کیا گیا۔ میثاق کا زریں اصول تھا: “یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔”
ایک ایسے دور میں جب قبائلی عصبیت ہی انسان کی سیاسی حیثیت کا واحد پیمانہ تھی، نبوی سیاست نے یہ ثابت کیا کہ ریاست کا استحکام جبر یا یک رنگی سے نہیں، بلکہ عہد، انصاف اور تنوع کے احترام سے پیدا ہوتا ہے۔
عصرِ حاضر کے لیے یہاں ایک واضح سبق ہے: ریاست اپنے شہریوں سے ان کی شناخت چھین کر نہیں، بلکہ انہیں قانون، تحفظ اور مساوی انصاف دے کر مضبوط ہوتی ہے۔
شوریٰ: حاکم کی عظمت، دوسروں کو سننا ہے
قرآن نے اہلِ ایمان کی اجتماعی زندگی کا اساسی وصف یہ بیان فرمایا:
وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ
(الشوریٰ: 38)
“اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔”
اور خود رسول اللہ ﷺ کو بھی ہدایت فرمائی:
وَشَاوِرۡهُمۡ فِی الۡاَمۡرِ (اور معاملات میں ان سے مشورہ کرو۔)
یہاں ایک لطیف سیاسی حکمت پوشیدہ ہے۔ جو شخص اپنے منصب کی وجاہت کے باعث دوسروں کو سننا اپنی توہین سمجھتا ہے، وہ دراصل اقتدار کی روح سے ناواقف ہے۔
رسول اللہ ﷺ، جو مقامِ رسالت پر فائز تھے، اپنے اصحاب سے مشورہ فرماتے تھے۔ غزوۂ بدر میں مقامِ جنگ پر رائے سنی گئی، احد میں شباب کی اجتماعی خواہش کو ترجیح دی گئی، اور غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ کی تکنیکی تجویز کو بخوشی قبول کیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ نبوی قیادت نے وحی کے مقام کو شوریٰ کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا؛ جہاں وحیِ الٰہی کا حتمی حکم نہ ہوتا، وہاں انسانی تدبر، تجربہ اور اجتماعی عقل کو کامل احترام دیا گیا۔
قرآن کا اصولِ شوریٰ محض ایک پارلیمانی تکنیک نہیں، اجتماعی عقل کا اخلاقی احترام ہے۔
آج کا حکمران اگر صرف خوشامدیوں کے حصار میں رہتا ہے، تو وہ اپنے گرد مشیروں کا حلقہ نہیں بلکہ حقیقت سے فاصلہ پیدا کر رہا ہوتا ہے۔ ایک ایسا دربار جہاں ہر زبان صرف ’’جی حضور‘‘ کہنا جانتی ہو، وہاں کی خاموشی سے زیادہ خطرناک وہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ‘سب کچھ درست ہے۔’
عدل: دوست اور دشمن کے لیے ایک ہی ترازو
نبوی سیاست کا سب سے روشن ستون عدلِ بلا امتیاز ہے۔
قرآنِ کریم کا صریح حکم ہے:
اِعۡدِلُوۡا ؕ هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى
(المائدہ: 8)
“عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
اور مزید فرمایا:
وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل ترک کر دو۔”
یہاں نبوی سیاست اپنے اوج کو پہنچتی ہے: عدل اس وقت تک عدل بنتا ہی نہیں جب تک وہ مخالف کے لیے بھی وہی نہ ہو جو اپنے کے لیے ہے۔
اپنے آدمی کے لیے رعایت اور مخالف کے لیے انتقام، عدل نہیں بلکہ سیاسی تعصب ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے قانون کی حکمرانی کو عمل سے قائم کیا۔ فتحِ مکہ کے قریب جب ایک بااثر قبیلے کی خاتون کے لیے سزا معاف کرنے کی سفارش کی گئی، تو آپ ﷺ نے تاریخی خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ پچھلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی طاقتور جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا، اور جب کوئی کمزور جرم کرتا تو اس پر حد نافذ کر دی جاتی۔
یہ حدیث جدید ریاست کے لیے ایک شفاف آئینہ ہے:
جس ملک میں قانون کمزور کے لیے لوہا اور طاقتور کے لیے موم بن جائے، وہاں قانون کی کتابیں تو باقی رہ جاتی ہیں مگر قانون کی روح مر جاتی ہے۔
قانون کا وقار، حاکم کے اقتدار سے بلند
یا اخلاقیات سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکمران کو رعایا پر مسلط مالک نہیں بلکہ “راعی” (نگہبان) قرار دیا۔
یہ ایک ایسا فکری موڑ ہے جو تہذیبوں کی سمت بدل دیتا ہے:
بادشاہ کہتا ہے: “لوگ میرے لیے ہیں۔”
سیاستِ نبوی ﷺ کہتی ہے: “میں لوگوں کے لیے ہوں۔”
بادشاہ رعایا سے محض وفاداری طلب کرتا ہے، جبکہ نبوی سیاست حاکم سے شہریوں کے حقوق کی ادائیگی کا حساب مانگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار کو غلبے کا نام دینے کی بجائے امانت و مسئولیت قرار دیا گیا۔
مخالف اور دشمن کا فرق: حدیبیہ کا سیاسی تدبر
آج کی سیاسی دنیا میں اختلافِ رائے کو فوراً دشمنی اور غداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سیاسی شکست کو ذاتی ذلت اور تنقید کو ریاست کے خلاف سازش سمجھ لیا جاتا ہے۔
نبوی سیاست کا مزاج اس سے بالکل الگ تھا۔ مخالف ہونا اور دشمن ہونا دو مختلف حقائق ہیں۔
صلحِ حدیبیہ نبوی بصیرت اور حکمتِ عملی کا وہ لازوال باب ہے جس کے سامنے دنیا کی دور اندیش سیاست بھی ہیچ نظر آتی ہے۔ ظاہری طور پر ایسی شرائط سامنے آئیں جو صحابہؓ کے لیے سخت اور یکطرفہ تھیں؛ حتیٰ کہ معاہدے کے الفاظ تک پر لچک دکھائی گئی۔ مگر بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ جسے کچھ نگاہیں وقت کی پسپائی سمجھ رہی تھیں، وہ دراصل فتحِ مبین کا پیش خیمہ تھا۔
قرآن نے اسی صلح کو فرمایا:
اِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحًا مُّبِيۡنًا
“بے شک ہم نے آپ کو ایک روشن فتح عطا کر دی۔”
یہاں سے سیاست کا ایک زبردست اصول جنم لیتا ہے:
جو قیادت صرف اگلے انتخاب کو دیکھتی ہے وہ نعرے تراشتی ہے؛ اور جو قیادت اگلی نسلوں کو دیکھتی ہے وہ تاریخ رقم کرتی ہے۔
معاہدہ: کاغذ کا ٹکڑا نہیں، کردار کی ساکھ
دنیوی سیاست میں معاہدات طاقت کا توازن بدلتے ہی توڑ دیے جاتے ہیں، مگر نبوی اخلاقیات میں معاہدے کی پابندی کو ایقان اور ایمان کا حصہ بنایا گیا۔
قرآن کا فرمان ہے:
وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ ۖ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡئُوۡلًا
(الاسراء: 34)
“اور عہد کو پورا کرو، یقیناً عہد کے بارے میں بازپرس ہو گی۔”
حدیبیہ کے فوراً بعد جب ابو جندلؓ زنجیروں میں جکڑے ہوئے دہائی دیتے پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں واپس کیا۔ یہ واقعہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ نبوی سیاست میں ریاست کا وعدہ اور اس کے دستخط کی ساکھ، جذباتی و عارضی مفادات سے کہیں بلند تر ہوتی ہے۔
معاشی عدالت: انسان معاشی عدد نہیں، امانت ہے
اگر سیاست کا مقصد صرف سرحدیں، فوج اور خزانے بڑھانا ہوتا تو مدنی ریاست کا تصور نامکمل رہتا۔ نبوی حکمرانی کے مرکز میں انسان تھا۔
حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے ہوئے آپ ﷺ نے معاشی تقسیم کا زریں قاعدہ بیان فرمایا کہ مالداروں سے زکوٰۃ لی جائے اور ان کے غریبوں میں لوٹا دی جائے۔
ریاست کی کامرانی اس کے خزانوں کے حجم سے نہیں، بلکہ اس کے غریب ترین شہری کے معیارِ زندگی سے ماپی جاتی ہے۔ اگر شہر میں فلک بوس عمارتیں ہوں مگر گلیوں میں بھوک ننگ کا رقص ہو، تو اعداد و شمار کی خوشحالی ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں۔
انتظامیہ ایک عبادت: آسانیاں بانٹنا، دشواریاں نہیں
نبوی ریاست کوئی محض نظریہ نہ تھی بلکہ اس میں مالیات، دفاع، قضا اور سفارت کاری کا ایک فعال عملی نظام موجود تھا۔
جب آپ ﷺ نے حضرت معاذؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یمن کا منتظم بنا کر بھیجا تو ہدایت فرمائی:
يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا
“آسانی پیدا کرو، مشقت میں نہ ڈالو؛ خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔”
یہ جملہ کسی بھی مہذب ریاست کی بیوروکریسی اور ریاستی مشینری کا اولین منشور ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کا بنیادی کام شہری کو خوفزدہ کرنا نہیں، بلکہ اس کی زندگی کو محفوظ اور آسان بنانا ہے۔
جنگ کی اخلاقیات: طاقت اور رحم کا توازن
سیاستِ نبوی ﷺ نے جنگ جیسے سفاک عمل کو بھی اخلاقی قوانین کا پابند بنایا۔ دشمن کی فصلیں تباہ کرنا، عورتوں، بچوں، راہبوں اور غیر جانبدار شہریوں کو قتل کرنا سخت ممنوع قرار دیا گیا۔
قرآن جہاں ظلم کے خلاف قیام کا حکم دیتا ہے، وہاں صلح کے ہاتھ کو لبیک کہنے کی ہدایت بھی کرتا ہے:
وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَهَا
(الانفال: 61)
“اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ۔”
یہاں طاقت اور امن ایک دوسرے کے حریف نہیں رہتے؛ بلکہ طاقت امن کی محافظ بن جاتی ہے اور امن طاقت کو بے لگام ہونے سے روکتا ہے۔
فتحِ مکہ: اقتدار کے عروج پر اخلاق کی فتح
پھر تاریخ کا وہ عظمت ساز لمحات سے بھرا دن آتا ہے جب مکہ فتح ہوتا ہے۔
وہی مکہ جس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے، انہیں بے وطن کیا تھا اور مسلسل جنگیں مسلط کی تھیں۔ آج اقتدار اور انتقام کے تمام اختیارات رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک میں تھے۔
یہاں ایک دنیاوی فاتح اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرق تاریخ کے سامنے آ گیا۔ آپ ﷺ نے تمام مظالم کے جواب میں اعلان فرمایا:
لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ ؕ اِذۡهَبُوۡا فَاَنۡتُمُ الطُّلَقَآءُ
“آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ جاؤ، تم سب آزاد ہو۔”
اقتدار کا اصل امتحان کمزوری میں نہیں، بلکہ بدلہ لینے کی کامل قدرت کے وقت ہوتا ہے۔ فتحِ مکہ محض جغرافئیے کی تسخیر نہ تھی، وہ انسان کے اپنے نفس اور انتقام پر اخلاق کی حتمی فتح تھی۔
عصرِ حاضر کا سیاسی بحران: ادارے نہیں، کردار!
آج دنیا آئین، جمہوریت، الیکشن، اداروں اور معاشی ماڈلز کی بات کرتی ہے۔ یہ سب بلاشبہ ضروری ہیں، مگر ان کے پسِ منظر میں ایک بنیادی سوال سسکی لے رہا ہے:
ان اداروں اور آئین کو چلانے والے انسانوں کا اخلاقی وجود کیسا ہے؟
کیونکہ:
بہترین آئین بھی بددیانت ہاتھوں میں جا کر مفلوج ہو جاتا ہے۔
مضبوط ادارے بھی مفاد پرستوں کی زد میں آ کر کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔
اور شاندار جمہوری ڈھانچہ بھی اگر اخلاقی شعور سے خالی ہو تو وہ محض اقتدار پر قبضے کا کاغذی کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔
سیاستِ نبوی ﷺ ہمیں سب سے پہلے ایک اخلاقی انسان بناتی ہے۔ ایسا انسان جو منصب ملنے پر متکبر نہ ہو، اختلاف پر انتقام نہ لے، شکست پر اصول نہ بیچے، اور فتح پر انسانیت نہ بھولے۔
نتیجہ: مدینہ ایک بند باب نہیں، ایک زندہ شعور ہے
مدینہ صرف تاریخ کا ایک سنہری صفحہ نہیں؛ مدینہ ایک سرمئی اخلاقی معیار ہے۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ:
سیاست اگر اخلاق سے عاری ہو تو وہ محض درندگی اور طاقت کا کھیل ہے۔
سیاست میں اگر اخلاق داخل ہو جائے تو وہ عبادت اور خدمت بن جاتی ہے۔
ریاست محض سرحدوں کی لکیروں کا نام نہیں، عدل کے جغرافئیے کا نام ہے۔
آج کی دنیا اگر اقتدار کی کھینچ تان، بے اصولی اور اخلاقی زوال سے نجات چاہتی ہے، تو اسے نئے سیاسی تجربات سے پہلے اس بظاہر سادہ مگر ابدی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا:
اگر محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھ میں آج کی دنیا کا اقتدار ہوتا، تو وہ اس اقتدار سے اپنے لیے کیا حاصل کرتے؟
جواب اتنا ہی روشن ہے جتنا مدینہ کا سورج: کچھ بھی نہیں۔
وہ اس اقتدار کو بلا تاخیر اس کے اصل مالک کی طرف لوٹا دیتے—انسان کی بے لوث خدمت، عدلِ مطلق کے قیام اور ربِ کریم کی رضا کی طرف۔
یہی سیاستِ نبوی ﷺ کا وہ منشورِ اعظم ہے، جسے دنیا نے ابھی تک پوری طرح پڑھا نہیں!
