جب پردہ اٹھتا ہے تو کردار بولتا ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کا سب سے محفوظ جھوٹ وہ ہوتا ہے جو وہ دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے بولتا ہے۔
ہم اپنی شخصیت کے گرد ایک ایسا خوب صورت پردہ تان لیتے ہیں جس پر شرافت، دیانت، اصول اور کردار کے نقش بنے ہوتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ہمیں پردہ اتنا پسند آنے لگتا ہے کہ ہم اسے اپنا چہرہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دنیا ہمیں وہی سمجھتی ہے جو ہم دکھاتے ہیں، اور ہم بھی خود کو وہی سمجھنے لگتے ہیں جو دنیا دیکھتی ہے۔
مگر کردار آئینہ نہیں کہ صرف چہرہ دکھا دے؛ کردار تو وہ لمحہ ہے جب آدمی کے ہاتھ میں اختیار ہو اور اسے کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔
اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش مجمع میں نیکی کرنا نہیں، تنہائی میں اپنے نفس کو روک لینا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی نگاہ میں اچھا بننا کبھی کبھی ضرورت ہوتا ہے، مگر خدا کی نگاہ میں اچھا رہنا اندر کی تربیت ہے۔
بعض لوگ اپنی سچائی کے اتنے بلند دعوے کرتے ہیں کہ اگر ان کے عمل کا ایک دن ان کے الفاظ کے سامنے لا کھڑا کیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کو پہچاننے سے انکار کر دیں۔
منافقت ہمیشہ دو چہروں کے ساتھ نہیں آتی؛ کبھی وہ ایک ہی چہرے پر اتنی تہیں چڑھا دیتی ہے کہ آدمی کو اپنا اصل چہرہ یاد نہیں رہتا۔
انسان کا اصل قد اس وقت معلوم ہوتا ہے جب اس کے پاس جھوٹ بول کر فائدہ اٹھانے کا موقع ہو، کسی کمزور کو دبا کر راستہ بنانے کی قدرت ہو، کسی بے خبر کا حق ہڑپ کرنے کا امکان ہو اور پھر بھی وہ اپنے ہاتھ کو روک لے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کردار، کردار ہونے لگتا ہے۔
ورنہ دیانت داری کے بہت سے دعوے صرف اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی ایسا موقع نہیں آیا ہوتا جس میں بے ایمانی فائدہ مند ہو۔
کسی شخص کو اس وقت ایماندار کہنا آسان ہے جب ایمانداری اس کے مفاد میں ہو۔ اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں سچ بولنے سے نقصان ہو، خاموش رہنے سے فائدہ، اور خیانت کرنے سے راستہ آسان ہو۔
وہاں انسان کا چہرہ نہیں، اس کا باطن فیصلہ کرتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ ہم دوسروں کے ظاہر سے فوراً متاثر ہو جاتے ہیں، مگر اپنے باطن کے اندھیروں کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر لیتے ہیں۔ دوسرے کی لغزش ہمیں کردار دکھائی دیتی ہے اور اپنی لغزش ہمیں مجبوری۔
ہم دوسروں کے عیبوں کو ثبوت کہتے ہیں اور اپنے عیبوں کو حالات۔
یہی خود فریبی کی وہ باریک لکیر ہے جہاں انسان گناہ سے زیادہ اپنے جواز کا عادی ہو جاتا ہے۔
پردہ انسان کو دوسروں سے چھپا سکتا ہے، اپنے رب سے نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر، انسان کے اندر ایک ایسی خاموش عدالت بھی قائم رہتی ہے جہاں گواہ بھی وہی ہوتا ہے، ملزم بھی وہی اور فیصلہ سنانے والا بھی وہی۔
اسی لیے کچھ لوگ دنیا میں بہت عزت کے ساتھ چلتے ہیں مگر تنہائی میں اپنی ہی نظروں سے بچتے پھرتے ہیں۔
اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس دکھانے کو بہت کم ہوتا ہے، مگر چھپانے کو کچھ نہیں ہوتا۔
یہی لوگ دراصل امین ہوتے ہیں۔
کردار کی خوشبو اشتہار نہیں مانگتی۔ جس پھول میں خوشبو ہو، اسے اپنی خوشبو کا تعارف نہیں کرانا پڑتا۔ جو شخص بار بار اپنی دیانت کا اعلان کرے، اسے سننے سے پہلے اس کے مفادات دیکھو؛ کیونکہ کبھی کبھی زبان وہی چیز ثابت کرنے میں مصروف ہوتی ہے جسے عمل مسلسل جھٹلا رہا ہوتا ہے۔
اور جب زندگی کسی دن پردہ اچانک کھینچ دیتی ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے کردار تعمیر کیا تھا یا صرف شخصیت کی سجاوٹ کی تھی۔
اس لمحے کوئی تقریر کام نہیں آتی، کوئی لقب گواہی نہیں دیتا، کوئی شہرت پردہ نہیں بن سکتی۔
پھر انسان وہی رہ جاتا ہے جو اس نے تنہائی میں اپنے ساتھ کیا تھا۔
اس لیے اپنی نیکی کو لوگوں کی آنکھوں کا محتاج نہ بناؤ۔ ایسا کردار پیدا کرو جو تعریف کے بغیر بھی قائم رہے، نگرانی کے بغیر بھی پاک رہے، اور نقصان کے باوجود سچ کا دامن نہ چھوڑے۔
کیونکہ اصل دیانت وہ نہیں جو پکڑے جانے کے خوف سے زندہ رہے؛
اصل دیانت وہ ہے جو پکڑے جانے کی ضرورت ہی ختم کر دے۔
آخرکار ہر پردہ ایک دن اترتا ہے۔
اور جب پردہ اترتا ہے تو انسان کی صورت نہیں کھلتی۔۔
اس کا کردار کھلتا ہے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top