(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں ہوتی کہ اس کے پاس کم ہے؛ اصل محرومی یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ پاس ہے، اس میں اسے کافی نظر نہیں آتا۔
کثرت کا نشہ انسان کو چیزوں کا محتاج نہیں بناتا، مزید کا محتاج بنا دیتا ہے۔ پھر رزق، ضرورت پوری کرنے کا وسیلہ نہیں رہتا؛ دوسروں سے آگے نکلنے کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ قناعت اسے غربت دکھائی دیتی ہے اور برکت ایک ایسا لفظ، جس کا مفہوم اس کے حساب کی کتاب میں کہیں درج نہیں ہوتا۔ حالانکہ برکت کا تعلق مقدار سے نہیں، معنی سے ہے؛ ایک لقمہ بھوک مٹا دے تو نعمت ہے، اور ایک دسترخوان دل کو شکر سکھا دے تو برکت۔
غلامی ہمیشہ ہاتھوں میں بیڑی نہیں ڈالتی۔ کبھی وہ آدمی کے اندر اتنی گہری اتر جاتی ہے کہ وہ اپنے ہی قفس کو گھر سمجھنے لگتا ہے۔ پھر زنجیروں کی ضرورت نہیں رہتی؛ آدمی اپنی نگرانی خود کرنے لگتا ہے، اپنے سوال خود دفن کرتا ہے اور اپنے خوابوں کے گرد خود دیواریں اٹھا لیتا ہے۔ سب سے خوفناک غلامی وہ ہے جس میں انسان کو آزادی کی یاد بھی نہ رہے۔
اور معاشرے کا چہرہ بھی ایک دن میں مسخ نہیں ہوتا۔ پہلے آئینے دھندلے پڑتے ہیں، پھر چہرے اجنبی ہونے لگتے ہیں، پھر آدمی اپنی ہی صورت سے نظریں چرانا سیکھ لیتا ہے۔ جب اخلاق پیچھے ہٹتا ہے تو تہذیب صرف لباس بدلتی ہے؛ اندر سے انسان وہی رہتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو اور دل میں رحم نہ ہو۔ پھر دشمنی بھی شائستہ زبان بولنے لگتی ہے، مفاد مسکرا کر ہاتھ ملاتا ہے اور ظلم اپنے لیے مہذب نام تلاش کر لیتا ہے۔
مگر ایک ماں کبھی کبھی پوری تہذیب سے زیادہ جانتی ہے۔
وہ کہتی تھی: ہر عطا کو فوراً نعمت مت سمجھ لینا؛ کچھ عطائیں تمہیں بلند کرنے آتی ہیں اور کچھ تمہیں پرکھنے۔ فرق چیز میں نہیں، تمہارے باطن میں پیدا ہونے والے اثر میں ہے۔ جو نعمت تمہیں شکر، سخاوت اور تواضع دے، وہ رحمت ہے؛ اور جو عطا تمہیں تکبر، غفلت اور دوسروں سے بے نیازی سکھا دے، اس پر خوش ہونے سے پہلے اپنے دل کا حساب ضرور کر لینا۔
ایسی مائیں فقیر ہو کر بھی دولت مند ہوتی ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل ملکیت اس کے گھر میں نہیں، اس کے دل میں رکھی ہوئی وسعت میں ہے۔
وہ اپنی اولاد کی خطائیں گننے کے بجائے انہیں بھولنے کا ہنر سیکھتی ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ماں کی محبت، رب کی رحمت کا ایک مدھم سا عکس بن جاتی ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ معاف کیسے کرنا ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ کس کس بات پر ناراض ہوئی تھی۔
رزق کم ہو تو بھی شکوہ نہ کرنا، شاید یہی اصل امیری ہے۔ کیونکہ شکر آدمی کو اس چیز کا بھی مالک بنا دیتا ہے جو ابھی اس کے پاس کم ہے۔ جس دل میں شکر اتر جائے، وہاں سادہ روٹی بھی دسترخوانِ نعمت بن جاتی ہے؛ اور جس دل سے شکر اٹھ جائے، وہاں شاہی ضیافت بھی بھوک نہیں مٹاتی۔
اور شاید سخاوت کی سب سے خوب صورت صورت وہ ہے جس میں انسان اپنی خوشی کا ایک حصہ ان لوگوں تک پہنچا دے جن کے حصے میں خوشی کم آئی ہے۔ کسی ایسے شخص کا خیال کر لینا جو معاشرے کے حاشیے پر رہ گیا ہو، کسی تھکے ہوئے انسان کا بوجھ چند قدم اٹھا لینا، کسی خاموش دکھ کو بغیر سوال کیے سن لینا یہ سب صدقات ہیں، اگرچہ ان پر کسی رسید کی مہر نہیں لگتی۔
زندگی کا کمال یہ نہیں کہ ہم کتنے لوگوں سے آگے نکلے؛ کمال یہ ہے کہ ہماری وجہ سے کتنے لوگ اپنے اندھیرے سے ایک قدم باہر آ سکے۔
اس لیے اپنے رویّوں سے لوگوں کے اندر قبرستان نہ بساؤ۔ ایک سخت لفظ کبھی کبھی برسوں تک آدمی کے اندر دفن رہتا ہے، اور ایک محبت بھرا جملہ کبھی کبھی پوری عمر کا سہارا بن جاتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ سامنے والا کس جنگ سے گزر کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ہر زرد چہرہ بیمار نہیں ہوتا؛ کچھ چہرے صرف اپنے حصے کا غم خاموشی سے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
ہر سوال کو عزت دو۔
کیونکہ سوال صرف جواب کا طالب نہیں ہوتا؛ کبھی وہ ایک ایسے دل کی آخری دستک ہوتا ہے جو ابھی تک دنیا پر اعتماد کرنا چاہتا ہے۔ سوالوں کے دروازے بند کر دیے جائیں تو ایک دن آدمی جواب نہیں، پچھتاوے تلاش کرتا ہے۔
اور اگر زندگی واقعی خوب صورت بنانی ہے تو ہر موسم میں محبت کاشت کرو۔ خواب بوؤ، امید اگاؤ، آسانی بانٹو، معافی کے درخت لگاؤ۔ کیونکہ دنیا کو ہماری ذہانت سے زیادہ ہمارے دل کی کشادگی کی ضرورت ہے۔
آخرکار انسان اپنے ساتھ نہ دولت لے جاتا ہے، نہ منصب، نہ شہرت۔ قبر کے دروازے پر سب کثرتیں باہر رہ جاتی ہیں؛ اندر صرف وہی چیز اترتی ہے جو انسان نے اپنے کردار میں کمائی ہوتی ہے۔
شاید زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنا جمع کیا؟
بلکہ یہ ہے:
ہم نے اپنے وجود سے کتنی ویرانی کم کی؟
اگر ہماری موجودگی سے کسی کا خوف کم ہوا، کسی کی آنکھ میں امید آئی، کسی بھوکے نے پیٹ بھرا، کسی شکستہ دل نے دوبارہ خواب دیکھا، کسی خطاکار کو معافی ملی اور کسی تنہا شخص کو یہ احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں تو سمجھو ہم نے زندگی کو صرف گزارا نہیں، اسے معنی بھی دیا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں فقیری، امیری سے آگے نکل جاتی ہے؛ جہاں رزق مقدار سے آزاد ہو کر برکت بن جاتا ہے؛ جہاں محبت احساس نہیں رہتی، کردار بن جاتی ہے۔
