(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ کم جانتا ہے؛ المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی جتنا جانتا ہے، اتنا محسوس نہیں کرتا۔
علم اگر دل سے بے خبر ہو جائے تو ذہانت پیدا ہوتی ہے، دانائی نہیں۔ اور احساس اگر عقل سے محروم ہو جائے تو محبت کے نام پر ایسی آندھیاں اٹھ سکتی ہیں جو جسے بچانے نکلیں، اسی کو زخمی کر دیں۔ انسان کی تکمیل کسی ایک قوت کی فتح میں نہیں؛ اس کی تکمیل اس مقام پر ہے جہاں سوچنے والا ذہن اور محسوس کرنے والا دل ایک ہی سمت دیکھنے لگیں۔
محض عقل دنیا کو سمجھ سکتی ہے، مگر ہر بار اس کے درد کو نہیں۔ محض دل دنیا کا درد محسوس کر سکتا ہے، مگر ہر بار اس کا علاج نہیں جانتا۔ عقل راستہ دکھاتی ہے اور احساس بتاتا ہے کہ اس راستے پر چلتے ہوئے کس کا ہاتھ چھوٹ سکتا ہے۔
شاید اسی لیے کچھ لوگ بہت ذہین ہوتے ہوئے بھی دل سے چھوٹے رہ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ کم الفاظ جانتے ہوئے بھی انسان کو اس کی پوری معنویت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔
حقیقی شعور وہ نہیں جو ہر بات کا جواب جانتا ہو؛ حقیقی شعور وہ ہے جو یہ بھی جانتا ہو کہ کب جواب سے زیادہ کسی کے دکھ کو سمجھنا ضروری ہے۔
دنیا نے عقل کو اکثر فتح کا ہتھیار بنایا، حالانکہ عقل کا بلند ترین مصرف فتح نہیں، فہم ہے۔ ایسی فہم جو مخالف کو مٹانے سے پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کرے، اختلاف کو دشمنی بننے سے روکے، اور اپنے درست ہونے کے یقین میں بھی دوسرے انسان کی حرمت محفوظ رکھے۔
دل کی موجودگی عقل کو نرم کرتی ہے، اور عقل کی موجودگی دل کو سمت دیتی ہے۔
ایک کے بغیر دوسری ادھوری ہے۔
دل کہتا ہے: درد ہے۔
عقل پوچھتی ہے: کیوں ہے؟
دل کہتا ہے: اسے سہارا دو۔
عقل سوچتی ہے: کیسے دو؟
دل انسان کو انسان تک لے جاتا ہے، عقل اسے وہاں درست طریقے سے پہنچنے کا ہنر دیتی ہے۔
اسی امتزاج سے وہ اخلاق پیدا ہوتا ہے جو قانون سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔
قانون کہتا ہے: حق ادا کرو۔
ضمیر کہتا ہے: حق ادا کرتے ہوئے دل بھی نہ توڑو۔
قانون ظلم سے روکتا ہے؛ شعور آدمی کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ کسی کے حق میں ظلم کا امکان بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔
کتنے بڑے المیے ہماری دنیا میں اس لیے جنم لیتے ہیں کہ انسان کے پاس دلیل تو ہوتی ہے، مگر درد کا ادراک نہیں ہوتا۔ وہ اپنی بات ثابت کر دیتا ہے، مگر سامنے والے کو توڑ دیتا ہے۔ وہ بحث جیت لیتا ہے، مگر انسان ہار جاتا ہے۔
ایسی فتح شکست سے زیادہ خطرناک ہے۔
اور محبت بھی صرف دل کا معاملہ نہیں۔ محبت کو عقل کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ ایثار خود کو مٹانے لگتا ہے، وفا غلامی بن سکتی ہے، اور ہمدردی کبھی کبھی غلطی کو پالنے لگتی ہے۔ سچی محبت آنکھیں بند نہیں کرتی؛ آنکھیں کھول کر بھی دل کو زندہ رکھتی ہے۔
اسی طرح عقل کا کمال جذبات کو قتل کرنا نہیں، انہیں تہذیب دینا ہے۔
پتھر بے حس ہوتا ہے، انسان نہیں۔
مگر انسان ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر احساس کے ہاتھ میں اپنی لگام دے دی جائے۔
احساس کو شعور مل جائے تو وہ رحم بنتا ہے؛ شعور کو احساس مل جائے تو وہ حکمت بن جاتا ہے۔
شاید انسان کی سب سے بلند تربیت یہی ہے کہ وہ کسی کے آنسو دیکھ کر صرف نم نہ ہو، بلکہ یہ بھی سوچے کہ وہ آنسو دوبارہ نہ آئیں، اس کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
تب دل محض دھڑکتا نہیں، سمجھتا ہے۔
اور دماغ محض سوچتا نہیں، ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض ذی شعور مخلوق نہیں رہتا؛ وہ صاحبِ شعور انسان بنتا ہے۔
کیونکہ دنیا کو ایسے ذہنوں کی کمی نہیں جو حساب لگا سکیں؛ دنیا کو ایسے دلوں کی ضرورت ہے جو حساب لگاتے ہوئے انسان کو حساب سے باہر نہ ہونے دیں۔
اور شاید آنے والی صدیوں کے لیے سب سے ضروری انسان وہی ہوگا جو نہ صرف یہ پوچھ سکے کہ “کیا درست ہے؟” بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی پوچھے:
“اس درست بات کو درست طریقے سے کہنے سے کہیں کسی انسان کا دل تو نہیں ٹوٹے گا؟”
یہ سوال جہاں پیدا ہو جائے، وہاں عقل میں دل کی روشنی اتر آتی ہے۔
اور جب عقل روشن ہو اور دل زندہ، تو انسان صرف دنیا کو سمجھتا نہیں۔۔
دنیا کے لیے قابلِ فہم، قابلِ اعتماد اور قابلِ محبت بھی ہو جاتا ہے۔
