جب وقت عدالت بن جائے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ مقدمے عدالتوں میں نہیں چلتے، وہ وقت کے سینے پر چلتے ہیں۔
وہاں نہ کوئی وکیل ہوتا ہے، نہ گواہوں کی قطار، نہ دلیلوں کا شور۔
وہاں صرف انسان کا کردار کھڑا ہوتا ہے، اور سامنے وقت کی وہ آنکھ ہوتی ہے جو چہرہ نہیں، نیت پڑھتی ہے۔
زندگی میں ایک مرحلہ ایسا ضرور آتا ہے جب انسان کو اپنے ہی لوگوں کی عدالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
کسی نے آدھی حقیقت بیان کی ہوتی ہے، کسی نے پوری کہانی گھڑ دی ہوتی ہے، اور کسی نے خاموش رہ کر جھوٹ کو سچ ہونے کا موقع دیا ہوتا ہے۔
پھر فیصلے ہونے لگتے ہیں۔
لوگ دلیل نہیں دیکھتے، تاثر دیکھتے ہیں۔
حقیقت نہیں تلاش کرتے، اپنی پسند کا مجرم تلاش کرتے ہیں۔
مگر انسان کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ لوگوں کی رائے عارضی ہوتی ہے، وقت کی گواہی دائمی۔
کسی کے ہاتھ میں آپ کے خلاف قلم آ جائے تو ضروری نہیں کہ وہ تاریخ کا مؤرخ بھی بن جائے۔
کاغذ پر لکھی ہوئی ہر بات حقیقت نہیں ہوتی؛ بعض اوقات قلم صرف لکھنے والے کے اندر کا اندھیرا کاغذ پر منتقل کر رہا ہوتا ہے۔
الفاظ سیاہی سے لکھے جا سکتے ہیں،
مگر کردار وقت سے لکھا جاتا ہے۔
اور وقت کی تحریر عجیب ہوتی ہے۔
وہ جلدی نہیں کرتا، مگر کچھ بھولتا بھی نہیں۔
وہ آج کے شور کو کل کی خاموشی میں رکھ کر دیکھتا ہے، پھر فیصلہ کرتا ہے کہ کس آواز میں حقیقت تھی اور کس آواز میں صرف ہجوم کا غرور۔
اس لیے اگر کبھی آپ کو بغیر سنے مجرم بنا دیا جائے تو اپنے اندر قیامت برپا نہ کیجیے۔
ہر الزام کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
کچھ الزامات ایسے ہوتے ہیں جنہیں جواب نہیں، وقت شکست دیتا ہے۔
آپ صرف اپنے کردار کی حفاظت کیجیے۔
کیونکہ جب انسان سچ پر قائم ہو تو وضاحتیں اس کے قد کو بڑھاتی نہیں، صرف اس کے صبر کو تھکاتی ہیں۔
جو شخص ہر زبان کو جواب دینے نکلے،
وہ آخرکار اپنی ہی آواز میں گم ہو جاتا ہے۔
کبھی خاموش رہنا بھی ایک بلند ترین بیان ہوتا ہے۔
خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے پاس جواب نہیں؛
کبھی خاموشی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جواب اتنا سچا ہے کہ اسے وقت کے علاوہ کسی سامع کی ضرورت نہیں۔
سچ شور نہیں کرتا،
وہ انتظار کرتا ہے۔
اور انتظار سچ کی سب سے خاموش طاقت ہے۔
جھوٹ کو اپنی بقا کے لیے مسلسل بولنا پڑتا ہے۔
سچ ایک مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور پھر خاموش رہ کر بھی زندہ رہتا ہے۔
جھوٹ کو اپنی بقا کے لیے مسلسل بولنا پڑتا ہے۔
سچ ایک مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور پھر خاموش رہ کر بھی زندہ رہتا ہے۔
جھوٹ کو سہارا چاہیے،
سچ کو صرف وقت چاہیے۔
جھوٹ اپنے لیے گواہ خریدتا ہے،
سچ اپنے لیے نسلیں پیدا کرتا ہے۔
اسی لیے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز سے خوف زدہ نہ ہوں۔
کچھ آوازیں صرف اس لیے بلند ہوتی ہیں کہ حقیقت کی خاموشی انہیں بہت بھاری لگ رہی ہوتی ہے۔
چراغ کو بجھانے کے لیے پھونک ہمیشہ اندھیرے کی طرف سے آتی ہے۔
مگر چراغ کا کام ہوا سے بحث کرنا نہیں،
اپنی لو کو قائم رکھنا ہے۔
آپ بھی اپنی لو بچائیے۔
لوگ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، یہ ان کی زبان کا معاملہ ہے؛
آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، یہ آپ کے کردار کا۔
اسی مقام پر انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
جس نے آپ کو دکھ دیا، اگر آپ نے بھی اسے وہی دکھ لوٹا دیا تو فرق صرف اتنا رہ جائے گا کہ کردار بدل گئے، روش ایک ہی رہی۔
بدلہ انسان کو اپنے مخالف جیسا بنا دیتا ہے؛
درگزر اسے اپنے آپ جیسا رہنے دیتا ہے۔
اس لیے ہر جنگ جیتنا ضروری نہیں۔
کچھ جنگوں سے باوقار طریقے سے گزر جانا ہی فتح ہوتی ہے۔
اور کچھ لوگوں کو جواب نہ دینا ان کے لیے سب سے بڑا جواب ہوتا ہے، کیونکہ بعض لوگ آپ کی وضاحت نہیں چاہتے؛ وہ صرف آپ کا اضطراب دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہیں اپنا اضطراب مت دیجیے۔
اپنے سکون کی چابی ان ہاتھوں میں مت دیجیے جو آپ کی بےچینی کے سوداگر ہیں۔
زندگی میں ایسے لوگ بھی ملیں گے جو آپ کی خاموشی کو شکست سمجھیں گے۔
انہیں سمجھنے دیجیے۔
درخت جب پھل سے بھر جاتا ہے تو شاخیں جھک جاتی ہیں؛ ہر جھکی ہوئی شاخ کمزور نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی انسان کا جھک جانا اس کے ٹوٹنے کی علامت نہیں،
اس کے اندر پھلنے کی علامت ہوتا ہے۔
اور پھر ایک دن وہی وقت آتا ہے جس کا انسان کو انتظار بھی نہیں رہتا۔
چہرے وہی ہوتے ہیں، مگر معنی بدل چکے ہوتے ہیں۔
جنہیں یقین تھا کہ آپ گر چکے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ آپ خاموشی سے اپنی جگہ قائم ہیں۔
جنہوں نے آپ کے کردار پر سوال اٹھائے تھے، ان کے اپنے سوالات لوگوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔
اور تب انسان کو سمجھ آتا ہے کہ قدرت نے اس کے لیے بحث نہیں کی تھی؛
قدرت نے صرف وقت کو آگے بڑھایا تھا۔
وقت کسی کا طرف دار نہیں ہوتا،
مگر سچ کے خلاف بھی نہیں ہوتا۔
وہ ہر چہرے سے پردہ ایک ہی دن نہیں اٹھاتا۔
کبھی برس لگتے ہیں، کبھی دہائیاں، مگر آخرکار کردار اپنی اصل زبان میں بولنے لگتا ہے۔
اسی لیے اپنے خلاف لکھی ہوئی کسی سطر کو اپنی تقدیر مت سمجھ لیجیے۔
کسی کے قلم کی لکھی ہوئی بات آپ کی حقیقت نہیں؛
آپ کی حقیقت وہ ہے جو آپ کا کردار مسلسل لکھ رہا ہے۔
دنیا آپ کو لفظوں سے پہچان سکتی ہے،
مگر وقت آپ کو اعمال سے پہچانے گا۔
دنیا آپ کی صفائی سن سکتی ہے،
مگر وقت آپ کی زندگی پڑھے گا۔
دنیا آپ پر الزام رکھ سکتی ہے،
مگر وقت دیکھے گا کہ الزام کے نیچے آپ کا کردار دبا تھا یا الزام خود۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے دل میں ایک عجیب سا اطمینان اترتا محسوس ہوتا ہے۔
کہنے کو کچھ نہیں رہتا۔
ثابت کرنے کو کچھ نہیں رہتا۔
صرف زندگی باقی رہتی ہے اور زندگی سے زیادہ معتبر کوئی گواہ نہیں۔
سچ کو وکیل کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے؛
اس کا سب سے بڑا وکیل وقت ہے،
اس کا سب سے معتبر گواہ کردار ہے، اور اس کا آخری فیصلہ حقیقت خود لکھتی ہے۔
لہٰذا اگر کبھی آپ کو کسی ایسی عدالت میں کھڑا کر دیا جائے جہاں منصف ہی مدعی ہو اور گواہی بھی اسی کی ہو ، تو گھبرائیے نہیں؛ کچھ فیصلے عدالتیں نہیں وقت سناٹا ہے۔
بس اپنے دامن کو دیکھ لیجیے۔
اگر وہاں آپ کا ضمیر مطمئن ہے تو دنیا کے فیصلوں سے خوف کیسا؟
جس شخص کا ضمیر اس کے حق میں گواہی دے رہا ہو،
اسے دنیا کی گواہیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
وقت کو آنے دیجیے۔
وہ شور کو خاموش کرے گا، نقابوں کو بوجھل کرے گا، لفظوں کو بےنقاب کرے گا، اور کردار کو اس کی اصل جگہ پر لا کھڑا کرے گا۔
پھر شاید آپ کو کسی کے سامنے کچھ کہنے کی ضرورت نہ رہے۔
کیونکہ بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان نہیں بولتی۔۔
زمانہ بولتا ہے۔
اور جب زمانہ بولتا ہے
تو صدیوں تک خاموشی بھی اسے سنتی رہتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top