قُرب آخر کرب میں کیسے ڈھلتا ہے؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ وہ محبت کو جتنا مضبوط کرنا چاہتا ہے، اُتنا ہی اسے اپنے قبضے میں لینے لگتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے قربت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا ہر لمحہ اُس کی دسترس میں رہے؛
اُس کے وقت پر بھی حق ہو، اُس کی خاموشی پر بھی، اُس کی مصروفیات پر بھی، حتیٰ کہ اُس کے تنہائی کے چند لمحوں پر بھی۔
مگر محبت…
محبت ملکیت برداشت نہیں کرتی۔
ہر رشتہ ابتدا میں ایک نرم روشنی کی طرح جنم لیتا ہے۔
دو لوگ ایک دوسرے میں سکون ڈھونڈتے ہیں، اپنی ادھوری تھکنوں کے لیے پناہ تلاش کرتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے گرد اپنی عادتوں، خواہشوں اور توقعات کی دیواریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔
یہیں سے المیہ شروع ہوتا ہے۔
کیونکہ انسان محبت کرتے کرتے انجانے میں دوسرے کی آزادی کھانے لگتا ہے۔
وہ سوالوں کو فکر کا نام دیتا ہے، نگرانی کو محبت کہتا ہے، اور مسلسل موجود رہنے کی خواہش کو وفا سمجھ بیٹھتا ہے۔
پھر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ پرندوں کو پنجرے میں رکھ کر اُن کی آواز تو سنی جا سکتی ہے، اُن کی پرواز نہیں دیکھی جا سکتی۔
قُرب کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
پانی اگر حد سے بڑھ جائے تو زندگی نہیں دیتا، ڈبونے لگتا ہے۔
دھوپ اگر مسلسل رہے تو روشنی نہیں رہتی، صحرا بن جاتی ہے۔
اور محبت…
محبت اگر سانس لینے کی جگہ نہ چھوڑے تو آہستہ آہستہ روح پر بوجھ بننے لگتی ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنے ہی عزیز کی موجودگی میں تھکن محسوس کرنے لگتا ہے۔
اُسے خاموشی بھی جواب دہی لگتی ہے، مصروفیت بھی بےوفائی محسوس ہوتی ہے، اور تنہائی کی خواہش بھی جرم دکھائی دینے لگتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں قُرب، کرب میں ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ تبدیلی محسوس ہی نہیں کرتے۔
وہ سمجھتے ہیں رشتہ ابھی قائم ہے کیونکہ بات چیت ہو رہی ہے، ساتھ وقت گزر رہا ہے، روزمرہ زندگی چل رہی ہے۔
حالاں کہ حقیقت میں روحیں بہت پہلے ایک دوسرے سے فاصلے پر جا چکی ہوتی ہیں۔
انسان کو سمجھنا چاہیے کہ محبت کا مقصد کسی کو اپنے گرد باندھ لینا نہیں، بلکہ اُسے اس قدر محفوظ احساس دینا ہے کہ وہ آزادی کے باوجود لوٹ کر آئے۔
جو محبت ہر وقت یقین مانگے،
وہ اندر سے کمزور ہوتی ہے۔
جو رشتہ ہر لمحہ وضاحت چاہے،
وہ اعتماد کھو چکا ہوتا ہے۔
اور جہاں انسان اپنی اصل طبیعت چھپا کر صرف تعلق بچانے کے لیے جینے لگے، وہاں محبت آہستہ آہستہ اپنی روح کھونے لگتی ہے۔
یاد رکھو…
رشتے شور سے نہیں مرتے،
وہ مسلسل دباؤ، خاموش گھٹن اور بےنام تھکن سے مر جاتے ہیں۔
کچھ لوگ چھوڑ کر نہیں جاتے،
بس اندر سے چلے جاتے ہیں۔
اور یہ ہجرت دنیا کی سب سے خاموش، سب سے خطرناک جدائی ہوتی ہے۔
اس لیے محبت کو گرفت مت بناؤ۔
اُسے ہوا کی طرح رکھو؛
محسوس ہو، مگر قید نہ کرے۔
ساتھ ہو، مگر گھٹن نہ بنے۔
قریب ہو، مگر دوسرے کی ذات کا احترام باقی رکھے۔
کیونکہ ہر وہ قربت جو آزادی چھین لے،
آخرکار کرب میں ڈھل جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top