زندگی اور اس کے باطنی اصول

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان جب زندگی کے معنی دریافت کرنے نکلتا ہے تو سب سے پہلے اسی مغالطے میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ شاید زندگی کسی ضابطے، کسی فارمولے یا کسی حساب میں سمائی جا سکتی ہے۔ حالانکہ زندگی نہ تو حساب کا مسئلہ ہے اور نہ ہی محض تجربے کا حاصل؛ وہ ایک ہم آہنگی ہے انسان اور فطرت کے درمیان، شعور اور کائنات کے درمیان۔
فطرت کا مزاج عطا ہے، مگر یہ عطا مطالبے سے مشروط نہیں۔ وہ کسی کی فریاد پر نہیں جھکتی، بلکہ قربت پر مہربان ہوتی ہے۔ جب انسان اس سے دور ہوتا ہے تو وہ سزا نہیں دیتی، احتجاج نہیں کرتی، صرف خاموش ہو جاتی ہے۔ اور یہ خاموشی بسا اوقات سب سے بلیغ خطاب بن جاتی ہے کیونکہ اس میں شکایت نہیں حقیقت بولتی ہے۔
یہ بات تاریخِ فطرت سے ثابت ہے کہ حسن کو جمود سے کوئی نسبت نہیں۔ جو شے حرکت سے محروم ہو جائے، وہ حسن کے دائرے سے خارج ہو جاتی ہے۔ اسی لیے فطرت میں ہر حسین شے متحرک ہے بادل، دریا، موسم، حتیٰ کہ روشنی بھی۔ تتلی اگر کسی ایک پھول کی پابند ہو جائے تو اس کی پرواز ختم ہو جاتی ہے، اور پرواز کے بغیر حسن محض ایک نقش رہ جاتا ہے۔
روشنی کے بارے میں انسان کی غلط فہمی بھی کم دل چسپ نہیں۔ وہ اسے باہر تلاش کرتا ہے، حالانکہ فطرت نے جگنو کے ذریعے یہ سبق بہت پہلے دے دیا تھا کہ روشنی کا تعلق منبع سے ہے، ماحول سے نہیں۔ جس کے اندر چراغ روشن ہو، اسے اندھیروں کی کثرت بھی محدود نہیں کر سکتی۔
خوشبو کی مثال اس باب میں خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ خوشبو نہ ذخیرہ کی جا سکتی ہے، نہ محفوظ۔ اس کا وجود بکھرنے میں ہے۔ زندگی بھی اسی اصول کی پابند ہے۔ جو اسے سمیٹنے پر اصرار کرے وہ اس کی روح کھو دیتا ہے؛ اور جو اسے بانٹنے کا حوصلہ رکھے، وہی دراصل اس کا امین ٹھہرتا ہے۔
فطرت ان لوگوں سے ہم کلام ہوتی ہے جن کے حواس بیدار ہوں۔ بچے کی ہنسی انہیں سطحی مسرت نہیں لگتی بلکہ تخلیق کی پہلی اور بے ساختہ صدا محسوس ہوتی ہے۔ پرندوں کے نغمے محض آوازیں نہیں رہتے بلکہ ایک مسلسل اور خاموش ذکر میں بدل جاتے ہیں۔ پہاڑوں کی خاموشی انہیں کمزوری نہیں، وقار کا اعلیٰ نمونہ دکھائی دیتی ہے اور بارش محض موسم نہیں، رحمت کی علامت بن جاتی ہے۔
زندگی میں خوشحالی کا آنا جانا انسان کے اختیار میں نہیں، مگر خوابوں کو زندہ رکھنا اس کی ذمہ داری ضرور ہے۔ خواب وہ واحد سرمایہ ہیں جو انسان کو حالات کی غلامی سے بچاتے ہیں۔ جس دن انسان خواب دیکھنے سے دست بردار ہو جائے، اسی دن وہ زندگی کے باطنی مفہوم سے محروم ہو جاتا ہے اگرچہ ظاہری وجود برقرار رہے۔
بلندی کا تصور بھی اکثر غلط فہمی کا شکار رہا ہے۔ انسان اسے بلندی پر پہنچنے میں تلاش کرتا ہے حالانکہ اصل بلندی انکسار سے حاصل ہوتی ہے۔ مگر یہ انکسار ہر طاقت کے سامنے نہیں، صرف اس حقیقت کے آگے ہے جو انسان کو اس کی حد سے آشنا کرے۔ غرور قامت کو اونچا کرتا ہے مگر بصیرت کو محدود؛ عاجزی قامت جھکا دیتی ہے، مگر نظر کو وسعت بخشتی ہے۔
دھیان کے بغیر نہ علم حکمت بنتا ہے اور نہ عبادت معنی پاتی ہے۔ جب توجہ منتشر ہو جائے تو علم محض معلومات رہ جاتا ہے، اور عبادت محض رسم۔ لیکن جب دھیان بیدار ہو جائے تو کائنات سوال نہیں رہتی جواب بن جاتی ہے اور آسمان محض منظر نہیں، مخاطب ہو جاتا ہے۔
سب سے بڑا اخلاقی زوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان ہر شے کو نفع و نقصان کے ترازو میں تولنے لگتا ہے۔ جب قدر کا معیار صرف مال و زر ٹھہر جائے تو محبت لین دین بن جاتی ہے، رشتے معاہدے، اور خوشی ایک عارضی سہولت۔ اس مرحلے پر زندگی اپنی روح کھو دیتی ہے مگر انسان اس نقصان کو ترقی کا نام دیتا ہے۔
حالانکہ زندگی کا اصل جمال ایک نہایت سادہ عمل میں مضمر ہے کہ اپنا حق خوشی سے چھوڑ دینا اور مسکرا دینا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان فطرت سے دوبارہ ہم آہنگ ہو جاتا ہے، اور فطرت اپنی قدیم روایت کے مطابق ایسے لوگوں کو کبھی محروم نہیں رکھتی۔
یہ کسی ایک فرد کی سرگزشت نہیں بلکہ ایک دائمی اصول کی یاد دہانی ہے۔ جو اسے سمجھ لے اس کے لیے زندگی مسئلہ نہیں رہتی اور جو اسے نظر انداز کرے وہ ساری عمر حل تلاش کرتا رہتا ہے بغیر یہ جانے کہ سوال ہی غلط تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top