پُلِ صراطِ آرزو

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی پوری زندگی دراصل دو کناروں کے درمیان معلق ایک سفر ہے۔ ایک کنارے پر خواہش کھڑی ہوتی ہے۔ آنکھوں میں خواب، دل میں طلب اور روح میں ایک انجانی پیاس لیے ہوئے۔ اور دوسرے کنارے پر حاصل ہوتا ہے جو ہمیشہ ویسا نہیں نکلتا جیسا انسان نے سوچا ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو باریک لرزتا ہوا اور آزمائشوں سے بھرا راستہ ہے حقیقت میں وہی پلِ صراط ہے۔ یہ پل صرف آخرت میں نہیں بلکہ انسان ہر روز اس پر چلتا ہے۔
کوئی اپنی محبتوں کے ساتھ اس پل پر چل رہا ہے۔ کوئی عزت و شہرت کی آرزو میں۔ کوئی رزق کی جستجو میں اور کوئی اپنے ہی وجود کی تلاش میں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اسے محض زندگی سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے نیچے بھڑکتی ہوئی محرومیوں شکستوں حسرتوں اور ادھورے پن کی آگ کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔
خواہش ہمیشہ روشن ہوتی ہے۔ وہ انسان کو جینے پر آمادہ رکھتی ہے۔ انسان اگر خواہش سے خالی ہو جائے تو اندر سے مر جاتا ہے۔ مگر ہر خواہش کا حاصل تک پہنچ جانا ضروری نہیں ہوتا اور یہی مقام انسان کے شعور کی اصل آزمائش بنتا ہے۔
بعض اوقات انسان برسوں جس چیز کو اپنی نجات سمجھتا ہے جب وہی چیز اسے مل جاتی ہے تو اس کی روح کے اندر ایک عجیب سا سناٹا اتر آتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ حاصل ہمیشہ سکون نہیں دیتا۔ کبھی کبھی حاصل خواہش کے جنازے پر رکھا ہوا آخری پھول بھی ہوتا ہے۔
انسان کی سب سے بڑی بےچارگی یہ نہیں کہ اسے کچھ نہ ملے بلکہ یہ ہے کہ اسے سب کچھ مل جائے اور پھر بھی اندر خلا باقی رہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ادراک جنم لیتا ہے۔
لیکن ادراک ہر شخص کا نصیب نہیں ہوتا۔ ادراک انہی لوگوں کو ہوتا ہے جن کے ضمیر میں ابھی زندگی کی کوئی رمق باقی ہو۔ جو اپنی روح کے شور کو سن سکتے ہوں اور جو ہجوم میں رہ کر بھی اپنے اندر کے ویرانے سے واقف ہوں۔
بہت سے لوگ خسارے میں ہوتے ہیں مگر انہیں خبر تک نہیں ہوتی کہ وہ لٹ چکے ہیں۔ وہ اپنی مصنوعی مسکراہٹوں وقتی کامیابیوں اور عارضی آسائشوں کو زندگی کا کمال سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ اصل خسارہ دولت یا تعلقات کا نہیں ہوتا بلکہ اصل خسارہ انسان کے اندر انسان کے مر جانے کا ہوتا ہے۔
اور المیہ یہ ہے کہ جب ضمیر مر جائے تو پھر خسارہ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ جس دن انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے اپنی سچائی کھو دی ہے اپنے خوابوں کی حرمت کھو دی ہے اور اپنی روح کی روشنی کھو دی ہے اسی دن اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ خسارہ دراصل کیا ہوتا ہے۔
یہ شعور اذیت دیتا ہے۔ بہت شدید اذیت۔ کیونکہ نادان آدمی سکون سے سو جاتا ہے مگر باخبر روحیں ساری عمر جاگتی رہتی ہیں۔
جو لوگ اپنے اندر کے ٹوٹنے کی آواز سن لیتے ہیں وہ دنیا کی ہر رونق کے باوجود اداس رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ زندگی دراصل اپنے ضمیر کو زندہ رکھنے کا فن ہے۔
خواہش اور حاصل کے درمیان چلتے ہوئے بہت سے لوگ گر جاتے ہیں۔ کچھ حرص میں گر جاتے ہیں کچھ انا میں کچھ مصلحتوں میں اور کچھ اپنی ہی خواہشات کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
مگر چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زخمی قدموں کے باوجود اس پل کو پار کر جاتے ہیں کیونکہ ان کے اندر سچ باقی رہتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان کا اصل مقام اس کی کامیابیاں نہیں بلکہ اس کا شعور ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان سب کچھ کھو کر بھی اپنی روح نہ کھوئے۔ کیونکہ آخرکار دنیا ان لوگوں کو نہیں یاد رکھتی جنہوں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا بلکہ دنیا ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے خسارہ سمجھ لیا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top