(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تمہید
انسانی وجود کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ظاہری آسائشوں کو ہی اپنی بقا اور خوشی کا ضامن سمجھ بیٹھتا ہے۔ ایک ایسا دور جہاں مادی ترقی اپنے عروج پر ہے، جہاں انسان نے آرام و آسائش کے تمام سامان فراہم کر لیے ہیں، وہاں اضطراب، مایوسی اور باطنی انتشار کی شرح میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ تسبیح کے دانوں کی گردش اور اوراد و وظائف کے تسلسل کے باوجود دلوں کی بے چینی ایک ایسا سلگتا ہوا سوال ہے جو ہر حساس ذہن کو جھنجھوڑتا ہے۔ آخر ذکر کے باوجود یہ اطمینان کہاں کھو گیا؟
اس گرہ کو کھولنے کے لیے ہمیں انسانی وجود کی اصل حقیقت، یعنی روح، اور قرآن کی تین بنیادی اصطلاحات؛اطمینان، سکون اور سکینت کے باہمی ربط کو سمجھنا ہو گا۔
روح کی حقیقت اور باطنی اضطراب کا سبب
جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ انسان اصل میں کیا ہے، ہم اس کی بے چینی کا علاج نہیں کر سکتے۔ انسان محض گوشت، پوست اور ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دو متضاد عناصر کا مرکب ہے: ایک اس کا مادی جسم جو مٹی سے بنا ہے، اور دوسری اس کی روح جو عالمِ بالا سے آئی ہے۔
قرآنِ کریم روح کی حقیقت کو ایک انتہائی جامع اور محیر العقول آیت میں یوں بیان فرماتا ہے:
اور یہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے” (الإسراء: ۸۵)۔
یہ آیتِ مبارکہ انسانی وجود کا سب سے بڑا فلسفہ وا کرتی ہے۔ روح کوئی مادی شے نہیں بلکہ ‘امرِ ربی’ یعنی خدا کا حکم ہے۔ جسم کی حقیقت یہ ہے کہ وہ روح کے دم سے جاندار ہے؛ جب تک روح اس قفسِ عنصری میں موجود ہے، انسان چلتا پھرتا اور زندگی کی بساط پر دوڑتا نظر آتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ روح اس جسم کو چھوڑتی ہے، وہ جاندار انسان چند لمحوں میں ایک بے جان لاش میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہاں سے یہ نکتہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ انسان کے اندر موجود بے چینی، بے سکونی اور تڑپ دراصل جسم کی نہیں بلکہ روح کی ہوتی ہے۔ جسم تو صرف ایک آلہ ہے۔ جب روح تڑپتی ہے، تو جسمانی قویٰ، دل اور دماغ سب تڑپ اٹھتے ہیں۔
مادی و عقلی مثالیں
بجلی گھر کی مثال:
اس کی مثال یوں ہے جیسے کسی عالی شان محل میں ایک خوبصورت برقی فانوس لگا ہو، لیکن اگر پیچھے بجلی کے گھر سے کرنٹ کا بہاؤ منقطع یا کمزور ہو جائے، تو فانوس کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو، وہ ٹمٹمانے لگتا ہے یا اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ انسان کا جسم وہ فانوس ہے اور روح وہ الٰہیاتی کرنٹ ہے۔ جب تک روح کو اس کا مطلوبہ مرکز میسر نہیں ہوتا، پورا وجود تڑپتا رہتا ہے۔
سونے کے برتن میں مچھلی کی مثال: صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی مچھلی کو دریا کے پانی سے نکال کر ایک سونے کے برتن میں رکھ دیا جائے، جس میں قیمتی ہیرے جواہرات جڑے ہوں، تو کیا وہ مچھلی سکون پائے گی؟ ہرگز نہیں! وہ سونے کے تشت میں بھی تڑپے گی کیونکہ اس کی بقا اور سکون کا سامان سونا نہیں بلکہ پانی ہے۔ بالکل اسی طرح، روح چونکہ عالمِ امر سے آئی ہے، اس لیے اسے دنیا کے مادی باغات، عالی شان بنگلے اور مال و دولت سکون نہیں دے سکتے؛ وہ مادی آسائشوں کے امبار میں بھی تڑپتی ہے۔
روح اور جسم کے اسی گہرے الٰہیاتی اور حیاتیاتی ربط کو کائنات کے سب سے کامل انسان، ہادیِ برحق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت جامع حدیثِ مبارکہ میں یوں واشگاف فرمایا ہے:
”أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ”
ترجمہ: “ہوشیار رہو! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے” (صحیح بخاری ،حدیث 52 )۔
اس فرمانِ نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ باطنی اضطراب دراصل دل اور روح کے بیمار ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب دل امرِ ربی سے غافل ہو جائے تو انسان کو دنیا کی کوئی مادی دوا، کوئی عیاشی اور کوئی مال و دولت سکون نہیں دے سکتی۔ بعثت سے قبل خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مادی آسائشوں (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تجارتی مال و دولت) کے باوجود غارِ حرا کی تنہائیوں میں تشریف لے جانا اور وہاں کئی کئی راتیں عبادت میں گزارنا اس بات کی زندہ ترین مثال ہے کہ انسانی روح مادی دنیا سے مطمئن نہیں ہوتی، اسے صرف اور صرف امرِ ربی کی تڑپ ہوتی ہے۔
سیدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی عہد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے روح کے اسی فطرتی تقاضے اور پیاس کو ایک خوبصورت تمثیل کے ذریعے اپنی شاہکار تصنیف ‘اسلامی اصول کی فلاسفی’ میں یوں بیان فرمایا ہے:
”روح میں ایک فطرتی کشش خدا کی طرف پائے جاتی ہے جیسے بچہ میں ایک فطرتی کشش ماں کی طرف ہوتی ہے۔ سو حقیقی راحت اور سچی خوشی جو دل کو مل سکتی ہے وہ اسی سچی محبت سے مل سکتی ہے اور اسی محبت کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں ذکرِ الٰہی ہے۔ پس اِسی سرّ کی طرف اشارہ فرما کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ یعنی ہوشیار رہو کہ خدا کی محبت اور اس کی یاد ہی سے دلوں کو آرام اور اطمینان مل سکتا ہے اور باقی سب چیزیں فانی اور لایعن اور موجبِ کدورت ہیں۔”
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰، صفحہ ۳۶۵-۳۶۶)
چونکہ روح خدا کا حکم ہے، اس لیے اس کی غذا اور اس کا اطمینان بھی صرف اور صرف حکمِ خدا کی تعمیل اور پیروی میں پوشیدہ ہے۔ جب روح اپنے اصل مرکز کے ساتھ جڑ کر پرسکون ہو جاتی ہے، تو اس کی تسکین پورے جسم میں سرایت کر جاتی ہے دل کو قرار آ جاتا ہے، دماغ فکری انتشار سے آزاد ہو جاتا ہے، اور انسان کے تمام قویٰ و اعصاب ایک پروقار تسکین کے تابع ہو جاتے ہیں۔
اطمینانِ ابراہیمی اور سکون کا قرآنی فلسفہ
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روح کو یہ اطمینان کیسے ملتا ہے؟ کیا محض زبان سے خدا کا نام لے لینا ہی وہ ذکر ہے جو روح کی غذا ہے؟ اس کے لیے ہمیں تاریخِ نبوت کے اس جلیل القد مقتدا کی بارگاہ میں چلنا ہوگا جنہیں کائنات ‘خلیل اللہ’ کے متبحر لقب سے جانتی ہے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اور خدا کی فرمانبرداری کس پائے کی ہوگی؟ جنہوں نے کلمہء حق کی پاداش میں نمرود کی دہکتی آگ کو گلزار بنا دیا، جنہوں نے حکمِ ربی پر اپنے شیر خوار بچے اور زوجہ کو بے آب و گیاہ وادی میں تنہا چھوڑ دیا۔ تمام آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد جب اللہ نے انہیں ‘خلیل’ یعنی سب سے گہرا دوست چن لیا، تو اس مقامِ قرب پر پہنچ کر بھی خلیلِ خدا بارگاہِ الٰہی میں ایک سوال رکھ دیتے ہیں:
اور جب ابراہیم نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ فرماتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: کیا تمہارا ایمان نہیں ہے؟ عرض کیا: کیوں نہیں! ایمان تو ہے لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن ہو جائے” (البقرہ: ۲۶۰)۔
اللہ تعالیٰ نے خلیل اللہ کے اس تقاضے پر ان کے ایمان پر شک نہیں کیا، بلکہ انہیں چار پرندوں کا مشاہدہ کرایا۔ یہاں سے قرآنی الٰہیات کا ایک عظیم فکری نکتہ جنم لیتا ہے: ایمان غیب پر بن دیکھے یقین لانے کا نام ہے، لیکن ‘اطمینان’ اس سے اگلا درجہ ہے جہاں روح مشاہدہء حق، معرفت اور الٰہیاتی احکام کی عملی و عینی تفہیم کی پیاسی ہوتی ہے۔
اسی سچے ذکر اور حقیقی اطمینان کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ ذکرِ الٰہی سے وہ ذکر مراد نہیں ہے جو عام لوگ زبانوں پر جاری رکھتے ہیں بلکہ ذکرِ الٰہی سے مراد یہ ہے کہ اِس طرح پر خدا تعالیٰ کی یاد دل میں گھر کر جاوے کہ اس کا دل خدا ہی کا ہو جاوے اور کوئی حرکت اور سکون خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ جب انسان اس حالت کو پہنچتا ہے تو وہ ایک سچے مومن کی زندگی پاتا ہے اور الٰہی تسلی اور سکینت اس کے دل پر نازل ہوتی ہے۔”
(ملفوظات، جلد چہارم، صفحہ ۳۱۰۔ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
سکون کا قرآنی فلسفہ
اور حدودِ الٰہی
اطمینان اگر باطنی و روحانی کیفیت کا نام ہے، تو سکون کا تعلق خارجی، سماجی اور حیاتیاتی توازن سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اس طرح وضع کیا ہے کہ انسان کے لیے سکون کے کچھ مادی اور روحانی مراکز مقرر فرما دیے ہیں اور ان کے گرد ایک حد قائم کر دی ہے:
ازواجی رشتہ اور حدودِ شرعی: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا”
ترجمہ: “اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو” (الروم: ۲۱)۔ اللہ نے حلال میاں بیوی کے رشتے کو سکون کا الٰہیاتی ذریعہ بنایا۔ شرعی حدود کے اندر جو رشتہ قائم ہوتا ہے، وہ روح کو قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب انسان حدِ شرع کو پھلانگ کر غیر شرعی طریقوں اور حرام کاری کی وادی میں قدم رکھتا ہے، تو وہاں بظاہر وقتی لذت یا ہیجان تو ہو سکتا ہے، مگر اس کا انجام صرف اور صرف بے سکونی، پشیمانی، ندامت اور ذہنی انتشار ہے۔ اللہ نے واضح کر دیا کہ حدود کے باہر صرف اندھیرا ہے؛ اسی لیے حد کے اندر کیے گئے ہر عمل کو عبادت کا درجہ حاصل ہے، اور حد سے باہر عمل گناہ اور بے سکونی کا پیش خیمہ ہے۔
شرعی حدود اور نبوی اسلوب: مادی دنیا میں بظاہر بڑے بڑے بادشاہ محلوں میں ریشمی بستروں پر بھی بے خوابی اور اضطراب کا شکار رہتے ہیں، لیکن حلال کی حدود میں رہنے والوں کو خدا وہ آفاقی قرار دیتا ہے جس کی مثال تاریخِ اسلام میں ملتی ہے۔ جب دنیا بھر کی فکری و سیاسی ذمہ داریوں کے باعث سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اعصاب پر تھکن یا اضطراب کا اثر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دنیاوی تفریح کی طرف مائل نہیں ہوتے تھے، بلکہ نماز اور ذکرِ الٰہی سے اپنی روح اور جسم کو تسکین دیتے۔ آپ اپنے مؤذنِ خاص حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے محبت اور اشتیاق سے فرمایا کرتے تھے:
”يَا بِلَالُ أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا”
ترجمہ: “اے بلال! اٹھو اور نماز کے ذریعے ہمیں راحت (سکون) پہنچاؤ” (سنن ابو داؤد)۔
یہی اسلوبِ زندگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا؛ وہ دن بھر حلال رزق کی تلاش میں مشقت اٹھاتے، میدانِ جہاد میں سرخرو ہوتے، مگر جیسے ہی رات کی تاریکی چھاتی، وہ اپنے گھروں کی شرعی حدود میں اپنے بستروں کو چھوڑ کر خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے۔ قرآنِ کریم نے ان کے اسی باطنی اور جسمانی سکون کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا: “تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ” یعنی ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (السجدہ: ۱۶)۔ وہ مادی طور پر غریب ہونے کے باوجود دنیا کے پرسکون ترین انسان تھے کیونکہ ان کی روح حلال کی حدود میں پرواز کرتی تھی۔
لیل و نہار کا توازن: فرمایا: “هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا”
ترجمہ:” وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو دیکھنے کے لیے روشن بنایا تاکہ فضل تلاش کرو” (یونس: ۶۷)۔ کائنات کے اس مادی نظام میں رات کو سکون کے لیے وقف کرنا فطرت کی پیروی ہے۔ جو لوگ مادی دوڑ میں اس خدائی نظام کو الٹ دیتے ہیں، ان کی روح اور اعصاب کبھی سکون نہیں پا سکتے۔
گھروں کی حرمت: فرمایا: “وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا” یعنی اور اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے جائے سکون بنایا (النحل: ۸۰)۔ آج کا انسان سکون کی تلاش میں گھر سے باہر تفریح گاہوں اور بیرونی دنیا میں بھٹک رہا ہے، حالانکہ خدا کا قانون کہتا ہے کہ حقیقی سکون تمہاری چاردیواری کے اندر، تمہارے حلال رشتوں کے درمیان چھپا ہے۔
سکینت کا نزول اور انا کی قربانی
انسانی نفس اور روح کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان خود کو سو فیصد حق پر محسوس کرے اور پھر بھی امن، صلح اور رضائے الٰہی کے لیے اسے جھکنے یا پیچھے ہٹنے کا حکم دیا جائے۔ ہماری مادی انا چیخ اٹھتی ہے کہ “جب ہم حق پر ہیں، تو پیچھے کیوں ہٹیں؟” لیکن قرآنی دانش ہمیں صلح و امن کے لیے انا کی قربانی دینے کا درس دیتی ہے، اور اسی قربانی کے صلے میں خدا دلوں پر سکینت یعنی اطمینانِ خاص نازل فرماتا ہے۔
صلحِ حدیبیہ کا عظیم الشان نمونہ
اس کی سب سے بڑی اور روشن تاریخی مثال صلحِ حدیبیہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے تشریف لائے۔ صحابہ کے دلوں میں شوقِ زیارت کا طوفان تھا، وہ ہر لحاظ سے حق پر تھے اور مکہ کے مشرکین صریحاً ظلم پر تھے۔ مکہ والوں نے یہ سخت شرط رکھی کہ اس سال آپ عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں اور اگلے سال آئیں۔ بظاہر یہ شرائط انتہائی دب کر مانی جا رہی تھیں، یہاں تک کہ جلیل القد صحابہ کے دل بھی اس مصلحت پر تڑپ اٹھتے ہیں کہ جب ہم حق پر ہیں تو یہ پستی کیوں اختیار کریں؟
صلحِ حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کا باطنی اضطراب اپنے عروج پر تھا کیونکہ وہ حق پر ہونے کے باوجود بظاہر دب کر صلح کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جلیل القدر صحابی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شدید اضطراب کی حالت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ تو پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ پستی کیوں اختیار کریں؟”
اس نازک ترین موڑ پر کائنات کے سب سے پروقار قائد، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لامتناہی باطنی تسکین اور سکینت کا اظہار ان تاریخی الفاظ میں فرمایا:
“إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ، وَهُوَ نَاصِرِي”
ترجمہ: “میں اللہ کا رسول ہوں، میں اس کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، اور وہی میرا مددگار ہے”
صحیح بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اھل الحرب (حدیث نمبر: 2731-2732)
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح، امنِ عامہ اور حکمِ خداوندی کی خاطر، کعبہ کے اذن کے باوجود، اپنے حق سے پیچھے ہٹنا گوارا کیا۔ جب صلح نامہ لکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہیں اپنے سر منڈوائیں اور قربانیاں کر کے احرام کھول دیں، تو بظاہر صحابہ کے دلوں پر غم و اندوہ اور اضطرابِ قلب کا ایک پہاڑ تھا، لیکن جیسے ہی صحابہ نے اپنے تمام باطنی جذبات اور اپنی انا کو پامال کر کے اپنے محبوب قائد کی عملی اطاعت میں سر تسلیم خم کیا، تو تڑپتے ہوئے دلوں پر خدا کی طرف سے وہ معجزاتی سکینت اتری جس نے تمام شکوک و شبہات اور اضطراب کو یکسر مٹا دیا۔ ان کا پیچھے ہٹنا کمزوری نہیں بلکہ خدا کی رضا کے آگے سر جھکانا تھا۔
تاریخ نے دیکھا کہ فتحِ مکہ کا عظیم راستہ اسی صلح کی کوکھ سے نکلا، اور اللہ نے اس وقت صحابہ کے مضطرب دلوں کی کیفیت کا علاج قرآنی آیت کی صورت میں یوں فرمایا:
“ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِھِمْ”
ترجمہ: “وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت یعنی خاص اطمینان اور وقار اتاری تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور بڑھ جائے” (الفتح: ۴)۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جب انسان اللہ کی رضا اور امن کی خاطر اپنی حق پسندی کی انا کو قربان کر کے پیچھے ہٹتا ہے، تو اللہ اس کی روح کو ملامت یا پشیمانی کے سپرد نہیں کرتا، بلکہ اس میں اپنی خاص سکینت اتار دیتا ہے۔ یہ وہ سکینت ہے جو غصے، انتقام اور اشتعال کی آگ کو بجھا کر انسان کو وقار اور لازوال اطمینانِ قلب سے سرفراز کرتی ہے۔
تزکیہء نفس اور عاجزی کی تلقین
اسی صلح پسندی، عاجزی اور انا کو مارنے کی تلقین کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو مکتوباتِ احمد میں فرماتے ہیں:
”تمہارے لئے واجب ہے کہ اپنی نفسانی فرو مائیگیوں کو دور کرو۔ اور اپنی انا اور خودی کو پامال کرو۔ جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ صلح کرنے میں سبقت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ٹھہرتا ہے، خواہ وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی سکینت اور روح القدس کا اذن تمہیں ملے، تو اپنے اندر سے کینہ، بغض اور غصہ نکال باہر کرو۔”
(مکتوباتِ احمد، جلد دوم، صفحہ ۱۱۵)
نیز، آپؑ اپنی معرکہ آرا کتاب کشتیء نوح میں صلح اور عاجزی کے اخلاقِ فاضلہ کو قبولیتِ الٰہی کی شرطِ اول بیان کرتے ہوئے من و عن ان الفاظ میں رقمطراز ہیں:
”تب تم آسمان پر مومن کہلاؤ گے جب تمہارے اندر سچی تبدیلی پیدا ہو جائے۔۔۔ پس تم باہم صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ شخص جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔ تم اپنی نفسانیت کو ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی گلے شکوے دور کرو اور سچے ہو کر عاجزوں کی طرح اِ س طرح ملو جیسے ایک ہی ماں کے دو بھائی۔”
(کشتیء نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹، صفحہ ۱۲-۱۳)
ذکر کے باوجود بے سکونی کا حتمی علاج یہ ہے کہ ہم انسان کو ایک روحانی وجود تسلیم کریں۔ چونکہ روح امرِ ربی ہے، اس لیے جب تک ہمارا اٹھنا بیٹھنا، جاگنا سونا, کمانا، رشتے نبھانا اور معاشرتی رویے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر نہیں آئیں گے، روح پیاسی اور تڑپتی رہے گی۔
جب ہم اپنے گھروں کو سکون کا گہوارہ بنائیں گے، حرام کاری کی بے سکونی کو چھوڑ کر حلال کے سکون پر قناعت کریں گے، اور معاشرتی امن کے لیے اپنی انا کو قربان کر کے صلحِ حدیبیہ اور تعلیماتِ مسیحِ پاکؑ کے مطابق صلح پسندی میں سبقت اختیار کریں گے، تو تب زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظِ ذکر، روح کی حقیقی غذا بنے گا۔ پھر دل کو وہ اطمینانِ ابراہیمی اور سکینتِ مصطفوی عطا ہوگی جس کے بعد کائنات کا کوئی اندیشہ، کوئی مادی اضطراب اور کوئی حادثہ انسان کے باطنی توازن کو متزلزل نہیں کر سکے گا۔
