(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
طاقت کی نقل، دراصل طاقت کی خواہش نہیں ہوتی؛ بلکہ اپنی اصل طاقت پر عدمِ اعتماد کا خاموش اعتراف ہوتی ہے۔ جو معاشرہ اپنی حقیقی قوت کو پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں کے لباس، القابات اور علامتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ لیکن جب کوئی قوم اپنی فکری بنیادیں کھو بیٹھتی ہے تو وہ طاقت کی حقیقت سے زیادہ اس کی ظاہری ہیبت کی اسیر ہو جاتی ہے۔ پھر علم، کردار اور حکمت پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عہدے، تختیاں، پروٹوکول اور رسمی خطابات عزت کے پیمانے بن جاتے ہیں۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک لطیف مگر تلخ پہلو ہے کہ جس شے کو معاشرہ عزت کا معیار قرار دیتا ہے، لوگ لاشعوری طور پر اسی کی مشابہت اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اگر عزت کا سرچشمہ علم ہو تو ہر شخص صاحبِ علم بننے کی آرزو کرتا ہے، اور اگر وقار کا معیار اقتدار ہو تو پھر ہر شخص اقتدار کی علامتیں اپنے وجود پر سجانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے کی اصل بیماری آشکار ہوتی ہے، کیونکہ افراد کی ترجیحات دراصل اجتماعی شعور کا عکس ہوتی ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ کسی استاد نے اپنے نام کے ساتھ کوئی لقب لکھ دیا؛ اصل المیہ یہ ہے کہ ایک معلم کو اپنے مرتبے کے اظہار کے لیے کسی دوسرے شعبے کی طاقت کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ کسی فرد کی کمزوری نہیں، بلکہ اس اجتماعی ذہن کی شکست ہے جس نے معلم کی عظمت کو اس مقام سے گرا دیا جہاں کبھی علم خود اقتدار کا رہنما ہوا کرتا تھا۔
استاد کا منصب کسی سرکاری عہدے کا محتاج نہیں۔ وہ ریاستی ڈھانچے کا ایک ملازم نہیں، بلکہ تہذیب کا معمار ہے۔ ایک افسر قانون نافذ کرتا ہے، لیکن ایک معلم وہ ذہن تخلیق کرتا ہے جو کل قانون بھی بنائے گا، انصاف کی تعبیر بھی کرے گا، اور ریاست کی سمت بھی متعین کرے گا۔ حکومتیں نظم قائم رکھ سکتی ہیں، مگر صرف اساتذہ قوموں کی روح میں شعور، اخلاق، تنقیدی فکر اور تہذیبی وقار پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے مہذب قومیں معلم کو کسی منصب کے مقابل نہیں رکھتیں، بلکہ اسے ان تمام مناصب کی فکری بنیاد سمجھتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے آہستہ آہستہ علم کی عظمت کو چھوڑ کر اقتدار کی چمک کو عظمت سمجھ لیا۔ ہم نے سوال کرنے والی عقل کے بجائے مرعوب نگاہوں کو پروان چڑھایا۔ ہم نے شخصیتوں کو معیار بنا لیا اور اصولوں کو فراموش کر دیا۔ ہم نے ایسی فکری فضا پیدا کر دی جہاں دلیل سے زیادہ حکایت، تحقیق سے زیادہ روایت، اور تنقید سے زیادہ عقیدت کو اہمیت ملنے لگی۔ جب قومیں اپنی فکری تربیت افسانوی تصورات، مبالغہ آمیز حکایات اور شخصیت پرستی کے سہارے کرنے لگتی ہیں تو حقیقت آہستہ آہستہ قصوں کے دھندلکوں میں گم ہو جاتی ہے۔
فکری بلوغت کا پہلا زینہ یہی ہے کہ انسان شخصیتوں کے سحر سے نکل کر اصولوں کی روشنی میں سوچنا سیکھے۔ زندہ معاشرے کسی فرد کو عقلِ کُل نہیں مانتے، نہ ہی کسی روایت کو سوال سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ احترام اور تنقید کو ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ علمی ارتقا کے دو لازمی پہلو سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جہاں سوال مر جاتا ہے، وہاں تحقیق دفن ہو جاتی ہے؛ اور جہاں تحقیق دفن ہو جائے، وہاں تقلید آہستہ آہستہ غلامی میں بدل جاتی ہے۔
علم کا سب سے بڑا دشمن جہالت نہیں، بلکہ وہ تقدیس ہے جو فکر کو جمود میں بدل دے۔ جب عقل کے دروازے بند ہو جائیں تو معاشرے جسمانی غلامی سے پہلے ذہنی غلامی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی قومیں کتابیں تو بہت پڑھتی ہیں مگر سوچنا چھوڑ دیتی ہیں؛ وہ الفاظ کو یاد رکھتی ہیں مگر معانی کھو دیتی ہیں؛ وہ شخصیات کی حفاظت کرتی ہیں مگر نظریات کی آبیاری نہیں کرتیں۔
ہر تہذیب کا مستقبل اس کے ایوانوں میں نہیں، اس کے تعلیمی اداروں میں لکھا جاتا ہے۔ اگر استاد کو معاشرے میں وہ مقام، اعتماد اور عزت حاصل ہو جائے جس کا وہ حقیقی طور پر مستحق ہے، تو پھر کسی معلم کو اپنی شناخت کے لیے اقتدار کی کسی علامت کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ اس وقت قوم جانتی ہوگی کہ اصل اقتدار وہ نہیں جو حکم دیتا ہے، بلکہ وہ ہے جو شعور پیدا کرتا ہے۔
جس دن ہم یہ فرق سمجھ جائیں گے کہ طاقت اور اختیار میں فرق ہے، اور علم و حکمت ہر طاقت سے بلند سرمایہ ہیں، اسی دن ہماری فکری آزادی کا سفر شروع ہوگا۔ اس دن القابات اپنی چمک کھو دیں گے، تختیاں بے معنی ہو جائیں گی، اور معاشرہ ایک بار پھر اس سچ کو پہچان لے گا کہ ریاستیں تلواروں سے محفوظ ہو سکتی ہیں، مگر صرف قلم ہی انہیں مہذب، عادل اور زندہ رکھ سکتا ہے۔
تہذیبوں کی حقیقی عظمت ایوانِ اقتدار کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس احترام سے ناپی جاتی ہے جو وہ اپنے معلم، اپنے مفکر اور اپنے سوال کرنے والے ذہن کو دیتی ہیں۔ جب قومیں اس حقیقت کو پالیتی ہیں تو پھر انہیں طاقت کی نقل نہیں کرنی پڑتی، کیونکہ وہ خود طاقتِ فکر کی علامت بن جاتی ہیں۔
