(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا میں ظلم دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے، ذہن سوال کرتا ہے اور روح بے چین ہو جاتی ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو وہ روک کیوں نہیں دیتا؟ لیکن یہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم کائنات کو “نتیجہ فوری دینے والے نظام” کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا آزمائش کے اصول پر قائم ہے، محض فوری عدل کے اصول پر نہیں۔
قرآن اس حقیقت کو بہت صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے:
“الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ”
(الملک 67:2)
یعنی: جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ یہاں ہر چیز کا مقصد “آزمائش” ہے۔ اگر یہ دنیا صرف فوری عدل پر چلتی تو یہ قائم ہی نہ رہ سکتی، کیونکہ امتحان ختم ہو جاتا۔
اگر ہر ظلم فوراً ختم ہو جائے، ہر گناہ فوراً سزا بن جائے، ہر نیکی فوراً انعام میں بدل جائے تو پھر انسان کے پاس انتخاب باقی نہیں رہتا۔ اور جہاں انتخاب ختم ہو جائے وہاں کردار ختم ہو جاتا ہے۔ پھر انسان نیک “مجبوری” میں ہوگا، شعور میں نہیں۔
اسی لیے اللہ نے اس نظام کو اس طرح نہیں بنایا کہ ہر چیز کا نتیجہ فوراً ظاہر ہو، بلکہ اس طرح بنایا کہ انسان کے اندر چھپا ہوا سچ وقت کے ساتھ سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے:
“وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَابَّةٍ”
(النحل 16:61)
یعنی اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر فوراً پکڑ لیتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔
یہ آیت ایک بہت بڑی حقیقت کھول دیتی ہے:
فوری عدل اس دنیا کو چلنے ہی نہیں دیتا تھا۔
یہاں “الصبور” کی صفت سمجھ میں آتی ہے۔ اللہ وہ ذات ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود جلدی فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ مہلت دیتی ہے۔ یہ مہلت بے خبری نہیں، بلکہ مکمل گرفت کے ساتھ حکمت کا عمل ہے۔
قرآن ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
“وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا”
(آل عمران 3:178)
یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں، یہ ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ ہم انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اپنے گناہ میں بڑھ جائیں۔
یہ مہلت دراصل پردہ نہیں، بلکہ ظلم کو مکمل ظاہر کرنے کا عمل ہے۔
اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“بے شک اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، پھر جب اسے پکڑتا ہے تو اسے نہیں چھوڑتا”
(صحیح بخاری)
یہ جملہ ایک بنیادی حقیقت واضح کرتا ہے:
اللہ کی تاخیر، انکار نہیں بلکہ مکمل گرفت کی تیاری ہے۔
یہاں ایک اور گہرا نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ اگر دنیا صرف “عدل” پر چلتی تو یہ نظام قائم نہ رہتا، کیونکہ عدل کا فوری اور مکمل نفاذ اس کائنات کو ایک لمحے میں ختم کر دیتا۔ انسان کا ہر عمل فوراً نتیجہ لے آئے تو نہ آزمائش باقی رہتی، نہ زندگی کا تسلسل۔
اسی لیے اس دنیا کی بنیاد آزمائش (ابتلاء) پر رکھی گئی ہے، نہ کہ فوری انصاف پر۔ عدل آخرت کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، جہاں ہر چیز مکمل، بے نقاب اور قطعی ہوگی۔
دنیا میں مظلوم کی تاخیر بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ یہ صرف ظالم کی مہلت نہیں، بلکہ مظلوم کے اندر صبر، شعور، قربانی اور کردار کی تعمیر کا وقت ہے۔ اگر ہر درد فوراً ختم ہو جائے تو انسان کبھی گہرا نہیں ہوتا، نہ اس کے اندر اخلاقی بلندی پیدا ہوتی ہے۔
ہم وقت کو اپنی گھڑی سے ناپتے ہیں، اس لیے ہمیں تاخیر بے انصافی لگتی ہے۔ لیکن خدا وقت کو انجام کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو ہمیں تاخیر لگتی ہے، وہ دراصل بڑے نظام کا ایک مکمل مرحلہ ہوتا ہے۔
آخر میں اصل بات یہ ہے کہ یہ کائنات “فوری عدل” کی جگہ نہیں، بلکہ “مکمل امتحان” کا میدان ہے۔ یہاں ہر چیز وقت پر سامنے آ رہی ہے، بس ہمیں پورا منظر دکھائی نہیں دیتا۔
اور جب وہ دن آئے گا تو پھر کسی کو یہ سوال نہیں رہے گا کہ خدا نے کیوں نہیں روکا تھا، بلکہ سب کو یہ سمجھ آ جائے گا کہ:
اس نے ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر مکمل انصاف کے ساتھ رکھا تھا، مگر اپنے وقت پر۔
