(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات کا ایک عظیم راز یہ ہے کہ عطائیں کبھی خالی ہاتھوں پر نہیں اترتیں، وہ پہلے دلوں میں ایک پیاس پیدا کرتی ہیں، پھر اسی پیاس کے وسیلے سے رحمت کے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ جس دل میں طلب نہیں، وہاں عطا بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ کیونکہ جو نعمت انسان نے مانگی ہی نہیں، جس کے لیے اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا ہی نہیں ہوئی، وہ اکثر اس کے ہاتھ میں آ کر بھی بے قدر رہتی ہے۔
قدرت کا نظام یہ نہیں کہ وہ انسان کو ہر چیز بلا ارادہ، بلا کوشش اور بلا شعور عطا کر دے۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان کی تعمیر نہ ہو پاتی۔ بھوک نہ ہوتی تو رزق کی قدر نہ ہوتی، اندھیرا نہ ہوتا تو روشنی کی اہمیت نہ ہوتی، جستجو نہ ہوتی تو دریافتوں کے دروازے نہ کھلتے۔ زندگی کا حسن ہی یہی ہے کہ وہ انسان کے اندر ایک خلا رکھتی ہے تاکہ وہ اس خلا کو پُر کرنے کے سفر میں اپنے آپ کو دریافت کر سکے۔
طلب دراصل صرف خواہش کا نام نہیں، یہ روح کی وہ پکار ہے جو انسان کو اپنی موجودہ حالت سے بلند ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ طلب وہ بے قراری ہے جو آرام کے پردے چاک کرتی ہے، وہ آگ ہے جو جمود کو پگھلاتی ہے، وہ روشنی ہے جو راستہ نہ ہونے کے باوجود سمت کا احساس دلاتی ہے۔ جس دل میں طلب زندہ ہو، وہ محرومی میں بھی امکانات تلاش کر لیتا ہے؛ اور جس دل سے طلب مر جائے، وہ نعمتوں کے درمیان بھی فقیر رہتا ہے۔
دنیا میں کوئی بڑی کامیابی ایسی نہیں جس کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں طلب موجود نہ ہو۔ علم اسی کو ملتا ہے جس کے اندر جاننے کی پیاس ہو، حکمت اسی پر اترتی ہے جس کا دل سچ کی تلاش میں بے چین ہو، محبت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو محبت کے آداب سیکھنے کے لیے خود کو تیار کرے۔ خزانے دروازے پر رکھ دینے سے انسان دولت مند نہیں ہوتا، دولت کی حفاظت کا شعور بھی چاہیے۔ اسی طرح عطا مل جانے سے انسان صاحبِ نعمت نہیں بنتا، نعمت کی پہچان اور شکر کا ظرف بھی ضروری ہے۔
روحانی زندگی میں بھی یہی قانون کارفرما ہے۔ انسان اگر قربِ الٰہی کا طالب نہ ہو، اپنے اندر اصلاح کی خواہش نہ رکھتا ہو، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے کی جستجو نہ کرے، تو محض الفاظ اسے منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔ خدا کی رحمت بے حد ہے، مگر اس رحمت کے دروازے پر دستک دینے والا دل چاہیے۔ دعا صرف زبان کا عمل نہیں، یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی طلب کا نام ہے۔
اکثر انسان عطا کا منتظر رہتا ہے مگر طلب پیدا کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے کامیابی مل جائے مگر محنت کا جذبہ پیدا نہ ہو، اسے عزت مل جائے مگر کردار کی تعمیر نہ کرنی پڑے، اسے علم مل جائے مگر سیکھنے کی پیاس نہ جاگے۔ حالانکہ کائنات کا اصول یہ ہے کہ بیج زمین میں دفن ہو کر، اندھیروں سے گزر کر، اپنی طلبِ نمو کے ساتھ ہی درخت بنتا ہے۔ جو بیج پھوٹنے کی خواہش ہی نہ رکھے، بہار بھی اسے گلزار نہیں بنا سکتی۔
بعض اوقات تاخیر بھی عطا کی ایک شکل ہوتی ہے، کیونکہ قدرت پہلے انسان کے اندر وہ وسعت پیدا کرتی ہے جو آنے والی نعمت کو سنبھال سکے۔ چھوٹے ظرف میں بڑی نعمت اکثر بوجھ بن جاتی ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی انسان کو عطا سے پہلے انتظار دیا جاتا ہے، تاکہ اس کے اندر شکر، صبر اور شعور پیدا ہو جائے۔ کیونکہ نعمت کا اصل حسن اس کے ملنے میں نہیں، بلکہ اس کے صحیح استعمال میں ہے۔
طلب انسان کو دروازے تک لے جاتی ہے اور عطا اسے اندر داخل کرتی ہے۔ طلب قدم ہے اور عطا منزل؛ طلب سوال ہے اور عطا جواب؛ طلب چراغ ہے اور عطا روشنی۔ جس دن انسان کے اندر سچی طلب پیدا ہو جاتی ہے، اسی دن کائنات کے بند دروازے آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں۔
اس لیے اپنی قسمت کے بدلنے کا انتظار کرنے سے پہلے اپنے دل کی حالت بدلنی چاہیے۔ اپنے اندر وہ پیاس پیدا کرنی چاہیے جو راستے تلاش کرے، وہ یقین پیدا کرنا چاہیے جو مایوسی کو شکست دے، اور وہ طلب پیدا کرنی چاہیے جو انسان کو اپنی کمزوریوں سے نکال کر اپنی اصل صلاحیتوں تک لے جائے۔
کیونکہ عطائیں ہمیشہ آوازوں کی محتاج نہیں ہوتیں، وہ دل کی سچی پکار سنتی ہیں۔ مگر پکار وہی سنی جاتی ہے جس کے پیچھے طلب کی حرارت ہو۔ جس دل میں طلب جاگ جائے، وہاں رحمت کے راستے خود بننے لگتے ہیں۔
