اپنی ذات سے ملاقات

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے گہری تنہائی یہ نہیں کہ اس کے اردگرد کوئی نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ سب کے درمیان موجود ہو اور پھر بھی اپنے ہونے کا یقین نہ کر پائے۔ بعض اوقات زندگی کا سب سے بڑا دکھ محرومی نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم موجود تو ہیں، مگر ہماری موجودگی کا کوئی گواہ نہیں؛ ہم سانس تو لے رہے ہیں، مگر ہماری روح کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔
کتنا عجیب المیہ ہے کہ انسان پوری زندگی اپنے وجود کو ثابت کرنے میں گزار دیتا ہے، مگر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی نظروں میں تو تھا، مگر اپنی ہی نگاہ میں کہیں کھو گیا تھا۔ وہ لوگوں کی خوشیوں میں شریک رہا، دوسروں کے دکھ اٹھاتا رہا، رشتوں کے تقاضے نبھاتا رہا، مگر اس سفر میں اپنے اندر کے اس شخص سے ملاقات نہ کر سکا جو خاموشی سے اس کا منتظر تھا۔
اپنے ہونے کا اصل مطلب صرف جسم کا زندہ ہونا نہیں۔ سانسوں کا چلنا زندگی کی علامت ہے، مگر مقصد کا جاگنا زندگی کی حقیقت ہے۔ بہت سے لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں مگر اندر سے مدتوں پہلے خاموش ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر دل کے آئینے پر گرد جمی ہوتی ہے۔ ان کے پاس گفتگو کے لیے بہت سے موضوعات ہوتے ہیں، مگر اپنے آپ سے بات کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہوتے۔
اصل دکھ یہ نہیں کہ دنیا ہمیں نہیں پہچانتی، اصل دکھ یہ ہے کہ ہم خود اپنی پہچان سے محروم ہو جائیں۔ انسان دوسروں کے بدلتے رویوں سے کم اور اپنی ذات سے دوری سے زیادہ ٹوٹتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر کے چراغ سے رشتہ توڑ لیتا ہے تو باہر کی ہزار روشنیاں بھی اس کی تاریکی کو ختم نہیں کر سکتیں۔
کبھی کبھی انسان ہجوم میں اس لیے گم نہیں ہوتا کہ لوگ بہت زیادہ ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس کے اندر کی آواز بہت آہستہ ہو جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی پسند، دوسروں کی توقعات اور دوسروں کے فیصلوں میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ اپنی اصل خواہش، اپنی حقیقی فطرت اور اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ مقصد کو بھول جاتا ہے۔ پھر ایک دن وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے پوچھتا ہے: “میں کہاں ہوں؟”
یہ سوال معمولی نہیں، یہ روح کے بیدار ہونے کی پہلی دستک ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنی گمشدگی کا احساس کر لے، اس کے ملنے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ انسان کے پاس کچھ نہ ہو؛ سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ اس کے پاس سب کچھ ہو مگر وہ خود اپنے اندر موجود نہ ہو۔
دنیا انسان کو بہت سے نام دیتی ہے؛ کوئی اسے رشتوں سے پہچانتی ہے، کوئی عہدے سے، کوئی دولت سے، کوئی شہرت سے۔ مگر انسان کی اصل شناخت ان سب پردوں کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ جب یہ پردے ہٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا سفر باہر کی دنیا کا نہیں، اپنے باطن کا سفر ہے۔
کبھی کبھی خدا انسان کو تنہائی اس لیے دیتا ہے کہ وہ اسے لوگوں کے شور سے نکال کر اپنی آواز سنانا چاہتا ہے۔ کچھ خاموشیاں سزا نہیں ہوتیں، وہ ملاقات کا راستہ ہوتی ہیں۔ کچھ فاصلے محرومی نہیں ہوتے، وہ انسان کو اس کے اصل وجود تک واپس لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اپنے ہونے میں نہ ہونے کا دکھ دراصل اس روح کا دکھ ہے جو اپنی اصل منزل سے دور ہو گئی ہو۔ وہ جسم میں قید روح کی بے قراری ہے، وہ دل کی وہ پیاس ہے جو دنیا کے چشموں سے نہیں بجھتی۔ کیونکہ انسان کی تکمیل چیزوں کے ملنے سے نہیں، اپنے اصل سے جڑنے سے ہوتی ہے۔
خوش نصیب وہ نہیں جسے دنیا جانتی ہو، خوش نصیب وہ ہے جو خود کو پہچان لے۔ کیونکہ جس دن انسان اپنے اندر کے وجود سے ملاقات کر لیتا ہے، اس دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی اکیلا نہیں تھا؛ وہ تو اس ذات کے ساتھ تھا جو اس کے دل کی ہر خاموش صدا سے واقف تھی۔
تب “ہونے” کا مطلب صرف موجود رہنا نہیں رہتا، بلکہ معنی بن جانا ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہا نہیں رہتا، کیونکہ اسے اپنا وجود مل جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top