ہیش ٹیگ کی چنگاری اور تاریخ کی بھٹی (جین زی کے انقلاب اور تبدیلی کے ادھورے سفر کا فلسفہ)

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہر عہد اپنی انقلابی نسل خود پیدا کرتا ہے، اور ہر نسل اپنے احتجاج کی زبان خود ایجاد کرتی ہے۔ فرانس کے نوجوانوں نے گیلوٹین کو ظلم کے خاتمے کی علامت بنایا، روس نے سرخ پرچم بلند کیا، چین نے لانگ مارچ کو اپنے عزم کی شاہراہ بنا دیا، ایران نے مسجد، مدرسہ، بازار اور کیسٹ ٹیپس کو مزاحمت کا ذریعہ بنایا، جنوبی افریقہ نے ستائیس برس کی قید کو آزادی کا استعارہ بنا دیا۔ اور اب اکیسویں صدی کی “جین زی” نے اپنے ہاتھ میں اسمارٹ فون، میم اور ہیش ٹیگ اٹھا لیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل رفتار، تاریخ کی رفتار بھی بدل سکتی ہے؟
جین زی شاید انسانی تاریخ کی پہلی نسل ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی ہتھیلی میں سمو لیا، مگر اپنے قدموں کے نیچے زمین کو پہلے سے زیادہ بے یقینی میں پایا۔ اس کے لیے ایک میم کبھی ایک سیاسی تقریر سے زیادہ مؤثر ہے، ایک وائرل ویڈیو کئی جلسوں سے زیادہ طاقتور، اور ایک ہیش ٹیگ ہزاروں نعروں سے زیادہ تیز رفتار۔ وہ اقتدار سے پہلے بیانیے پر حملہ کرتی ہے، شخصیات کو تقدس کے تخت سے اتار کر طنز کا
موضوع بنا دیتی ہے، اور جانتی ہے کہ کبھی ایک لطیفہ وہ زخم لگا دیتا ہے جو ایک اپوزیشن لیڈر بھی نہیں لگا پاتا۔
مگر یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی۔
ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اجتماعی عصبیت سے قائم رہتی ہیں۔ جب عوام اداروں پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو وہ پہلے ان پر ہنسنا شروع کرتے ہیں، پھر ان کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر اس خالی جگہ کو کوئی منظم نظریہ، واضح قیادت اور مضبوط تنظیم نہ بھرے تو تاریخ اسی خلا سے پرانے نظام کو دوبارہ جنم دے دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کامیاب انقلابات صرف سڑکوں پر نہیں جیتے گئے، وہ پہلے ذہنوں میں جیتے گئے تھے۔
فرانس کا انقلاب صرف گیلوٹین کی دھار نہیں تھا؛ اس کے پیچھے والٹیر، روسو، مونٹیسکیو اور دیدرو کی دہائیوں پر محیط فکری تیاری تھی۔ روس میں سرخ پرچم لہرانے سے پہلے لینن نے برسوں تنظیم کھڑی کی، مزدور یونینیں بنائیں اور نظریہ پھیلایا۔ چین میں ماؤ زے تنگ کا لانگ مارچ صرف ہزاروں کلومیٹر کا سفر نہیں تھا بلکہ کردار سازی، تنظیم اور نظریاتی استقامت کی علامت تھا۔ ایران میں انقلاب صرف نعروں سے نہیں آیا؛ مسجد، مدرسہ، بازار اور مذہبی نیٹ ورک نے اسے بنیاد فراہم کی۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے ستائیس برس قید کاٹی، مگر آزادی صرف ان کی قربانی سے نہیں بلکہ افریقی نیشنل کانگریس کی منظم جدوجہد، عالمی سفارت کاری اور مسلسل سیاسی عمل سے ممکن ہوئی۔
تاریخ کا ایک خاموش قانون ہے: ہر کامیاب انقلاب سے پہلے ایک خاموش انقلاب برپا ہوتا ہے؛ کتابوں میں، تنظیموں میں، درس گاہوں میں اور کرداروں میں۔ سڑکیں صرف اس انقلاب کا آخری باب لکھتی ہیں۔
پھر ڈیجیٹل زمانہ آیا، اور انسان کو یقین ہونے لگا کہ شاید اب الگورتھم ہی تاریخ لکھیں گے۔
عرب بہار سے لے کر وال اسٹریٹ، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور دنیا کے متعدد معاشروں تک جین زی نے حیرت انگیز عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ حکومتیں لرزیں، ایوان خالی ہوئے، چوک بھر گئے، اور دنیا نے سمجھا کہ شاید اب انقلاب صرف ایک ہیش ٹیگ کی دوری پر رہ گیا ہے۔ مگر گرد بیٹھنے کے بعد اکثر مقامات پر صرف چہرے بدلے، ڈھانچے نہیں۔ کہیں پرانے سیاست دان نئے نعروں کے ساتھ واپس آگئے، کہیں فوج پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئی، اور کہیں ریاست نے احتجاج کو جذب کرکے خود کو پہلے سے زیادہ مستحکم کر لیا۔
ہنّا آرنٹ نے لکھا تھا کہ طاقت اور تشدد ایک چیز نہیں۔ طاقت وہاں جنم لیتی ہے جہاں لوگ ایک مقصد پر طویل عرصے تک منظم رہیں۔ تشدد اکثر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حقیقی طاقت ختم ہو رہی ہو۔ شاید اسی لیے سوشل میڈیا لاکھوں لوگوں کو ایک دن میں اکٹھا کر سکتا ہے، مگر انہیں برسوں تک ایک نظریے پر قائم نہیں رکھ سکتا۔
اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، تنظیم کا خلا ہے۔
ہیش ٹیگ دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے، مگر دروازہ ہمیشہ تنظیم کھولتی ہے۔
میم اقتدار کا مذاق اڑا سکتی ہے، مگر آئین نہیں لکھ سکتی۔
الگورتھم ہجوم پیدا کرتا ہے، ادارے قوم پیدا کرتے ہیں۔
وائرل ہونا اثر کا ثبوت ہو سکتا ہے، استحکام کا نہیں۔
جذبات انقلاب کو جنم دیتے ہیں، مگر نظم ہی اسے بالغ کرتا ہے۔
جو تحریک صرف ٹرینڈ بنے، وہ ٹرینڈ کے ساتھ دفن ہو جاتی ہے۔
تاریخ میں ہٹلر، اتاترک، ماؤ زے تنگ، ڈینگ ژیاؤ پنگ، منڈیلا اور لی کوان یو نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، لیکن ان سب نے ایک حقیقت کو سمجھا: ریاست جذبات سے نہیں، اداروں سے چلتی ہے۔ نظریات بدل سکتے ہیں، طریقۂ تعمیر نہیں۔
شاید جین زی کا اصل امتحان احتجاج نہیں بلکہ تعمیر ہے۔ اگر یہ نسل اپنی تخلیقی قوت، ڈیجیٹل مہارت اور عالمی شعور کو منظم اداروں، واضح نظریات اور مسلسل سیاسی عمل میں ڈھال دے تو ممکن ہے اکیسویں صدی اسے صرف “میم جنریشن” نہیں بلکہ “ری بلڈنگ جنریشن” کے نام سے یاد رکھے۔
کیونکہ تاریخ کا قلم کبھی ہیش ٹیگ کی سیاہی سے نہیں لکھا گیا؛ وہ ہمیشہ نظریے کے شعور، تنظیم کے پسینے اور صبر کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔
تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ نہیں کہ انقلاب ناکام ہو جاتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ جب معمار نہیں ہوتے تو ہر کامیاب احتجاج آخرکار کسی پرانے محل کا نیا مکین پیدا کر دیتا ہے۔
ہیش ٹیگ تاریخ کا پہلا لفظ لکھ سکتا ہے، مگر آخری سطر ہمیشہ وہی لکھتے ہیں جو شور کو نظم، ہجوم کو قوم، اور احتجاج کو ریاست میں بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top