ہم زندہ انسانوں کو کب کھانا چھوڑیں گے؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

میت والے گھر کا کھانا کھانے سے پہلے، ایک لمحہ ٹھہریے… اور ذرا اپنی زندگی کا حساب بھی کر لیجیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ برسوں سے زندہ انسانوں کے دل، عزت اور سکون کھاتے آ رہے ہیں؟
انسان کی بھوک ہمیشہ پیٹ میں نہیں اُترتی، بعض اوقات وہ کردار میں بسیرا کر لیتی ہے۔
پھر وہ روٹی نہیں کھاتا، لوگوں کی عزت کھاتا ہے۔ اعتماد نگل جاتا ہے۔ امید چبا جاتا ہے۔ محبت کو بے وفائی کے نمک میں رکھ کر کھا لیتا ہے، اور کسی کی خاموشی کو اپنی فتح کا آخری لقمہ سمجھ لیتا ہے۔
سب سے خطرناک بھوک وہ نہیں جو دسترخوان تلاش کرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو انسانوں کے وجود میں اپنا رزق ڈھونڈتی ہے۔
عجیب تماشا ہے…
جو لوگ برسوں دوسروں کے دل زخمی کرتے رہے، رشتوں کی حرمت کو اپنے مفاد کے دانتوں سے نوچتے رہے، لفظوں سے روحوں کو ذبح کرتے رہے، وہی لوگ ایک سوگ زدہ گھر کے دسترخوان پر آ کر تقویٰ کی میزان لے بیٹھتے ہیں۔
حالانکہ المیہ روٹی نہیں، بھوک ہے۔
کیونکہ روٹی جسم کو زندہ رکھتی ہے، مگر انسان کو کھانے والی بھوک روح کو مار دیتی ہے۔
ذرا سوچیے…
کسی یتیم کی آنکھ سے چھین لی گئی مسکراہٹ، کسی ماں کے دل میں اتارا گیا دکھ، کسی باپ کی بے بسی، کسی دوست کا ٹوٹا ہوا اعتماد، کسی مجبور انسان کی پامال کی گئی عزت… یہ سب بھی تو لقمے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دانتوں سے نہیں، رویّوں سے کھائے جاتے ہیں۔
اس لیے سوال یہ نہیں کہ میت والے گھر کا کھانا کھانا چاہیے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم زندہ انسانوں کو کھانا کب چھوڑیں گے؟
کیونکہ قبر میں اُترنے والا انسان صرف ایک بار مرتا ہے، مگر زندہ انسان دوسروں کے ظلم، تحقیر، حسد اور بے حسی سے ہر روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے۔
یاد رکھیے…
ضمیر کی بھوک، پیٹ کی بھوک سے کہیں زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔
پیٹ بھر جائے تو انسان کھانا چھوڑ دیتا ہے، مگر جب ضمیر بھوکا ہو جائے تو وہ پوری زندگیاں کھا جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top