تکمیلِ ذات اور تقاضائے حشر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

علم محض معلومات کا انبار نہیں، بلکہ وہ باطنی نور ہے جو کائنات کے مخفی اسرار اور بظاہر متضاد حقیقتوں کے درمیان ایک عمیق ربط دریافت کرتا ہے۔ اسی نورِ علم کی بلند ترین رسائی اس ادراک تک ہوتی ہے کہ یہ بظاہر عارضی، متغیر اور نامکمل مادی دنیا اپنی حقیقت میں ایک حتمی، ابدی اور غیر مادی انجام کی محتاج ہے۔ کائنات کا پورا نظام دراصل تکمیل کی ایک مسلسل داستان ہے، جہاں ہر نامکمل وجود اپنی غایتِ وجود تک پہنچنے کے لیے بے قرار دکھائی دیتا ہے۔
فلسفے اور حکمت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی ادھورے نقشے کو اُس وقت تک مکمل نہیں کہا جا سکتا جب تک اس کی آخری لکیر اپنے منطقی انجام سے ہم کنار نہ ہو جائے۔ یہی قانونِ تکمیل اس کائنات پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ اگر عدل اپنی کامل صورت میں جلوہ گر نہیں ہوا، اگر محبت اپنی ابدی جزا تک نہیں پہنچی، اگر ظلم اپنے آخری محاسبے سے نہیں گزرا، اور اگر انسان کے اعمال اپنے حقیقی نتائج تک نہیں پہنچے، تو وجود کا یہ پورا نظام اپنی معنویت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے عقل، حکمت اور فطرت یک زبان ہو کر اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ ایک ایسا دن ضرور آئے گا جب ہر نامکمل حقیقت اپنی تکمیل کو پہنچے گی۔ یہی حشر ہے، یہی قیامت ہے۔ وہ دن محض اس مادی کارخانے کی بساط لپیٹنے کا نام نہیں، بلکہ ادھورے پن کی آخری تکمیل، عدل کے کامل ظہور، اور ہر عمل کے اپنے ابدی انجام تک پہنچنے کا مرحلہ ہے۔
اسی فکری تناظر میں جب دعوت، اصلاح اور تبلیغ کے عالمگیر اصولوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فکر کی حقیقی رہنمائی بھی اسی قانونِ تکمیل سے وابستہ ہے۔ ایک داعی، مصلح یا معلم کا اصل کمال یہ نہیں کہ وہ انسان کے نقص کو محض نمایاں کر دے یا اسے رد کر دے، بلکہ اس کا حقیقی ہنر یہ ہے کہ وہ علم کی روشنی میں اُس نامکمل وجود کے اندر پوشیدہ تکمیل کی پیاس کو بیدار کر دے۔ کیونکہ جب تک انسان اپنے فکری، اخلاقی اور روحانی ادھورے پن کا شعور حاصل نہیں کرتا، اس کے اندر ارتقا کی آرزو بھی جنم نہیں لیتی۔
علم پہلے انسان کو اس کی کمی کا آئینہ دکھاتا ہے، پھر اسی کمی کو کمال میں بدلنے کا راستہ بھی روشن کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت کا مؤثر ترین اسلوب الزام نہیں، بلکہ شعور کی بیداری ہے؛ رد نہیں، بلکہ تکمیل کی دعوت ہے۔ جب انسان اپنے وجود کی نامکملیت کو پہچان لیتا ہے تو اس کے باطن میں وہ سفر شروع ہوتا ہے جو اسے عارضی سے ابدی، ظاہر سے باطن، صورت سے حقیقت، اور خودی سے معرفت تک لے جاتا ہے۔ یہی سفر تکمیلِ ذات ہے، اور یہی تقاضائے حشر بھی؛ کیونکہ حشر دراصل کائنات کے ہر ادھورے سوال کا آخری اور کامل جواب ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top