(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات کو محض مادّے، توانائی اور قوانینِ فطرت کے مجموعے کے طور پر دیکھنا اس کی ظاہری قرأت ہے؛ مگر جب نگاہِ فکر اس کے باطن میں اترتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ظاہری قانون کے پسِ پردہ ایک معنوی ترتیب بھی کارفرما ہے۔ اجرام اپنی مقررہ راہوں پر گامزن ہیں، موسم اپنے اوقات کے پابند ہیں، بیج اپنی فطرت کے مطابق درخت بنتا ہے، اور ہر شے اپنے کمال کی سمت سفر کرتی ہے۔ یہی نظم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کی بقا صرف خارجی قوانین سے نہیں بلکہ باطنی اصولوں سے بھی وابستہ ہے۔ انہی باطنی اصولوں میں محبت وہ لطیف ترین حقیقت ہے جو وجود کو محض حرکت نہیں دیتی بلکہ اس کے سفر کو معنی عطا کرتی ہے۔
محبت کوئی عارضی جذبہ، نفسیاتی کیفیت یا جذباتی اضطراب نہیں، بلکہ وہ داخلی کشش ہے جو منتشر وجود کو اس کے اصل مرکز سے وابستہ کر دیتی ہے۔ جس طرح کششِ ثقل بکھری ہوئی اشیا کو ایک نظام میں باندھتی ہے، اسی طرح محبت بکھرے ہوئے باطن کو وحدت عطا کرتی ہے۔ جہاں محبت نہیں رہتی وہاں خواہ علم موجود ہو، طاقت میسر ہو یا دولت فراواں ہو، انسان کے اندر ایک ایسی خلا باقی رہتی ہے جسے کوئی مادی کامیابی پُر نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس، جب محبت دل میں اپنا مقام بنا لیتی ہے تو انسان کے اندر بکھرے ہوئے احساس، منتشر خواہشیں اور متصادم رجحانات ایک مرکز پر جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
لیکن محبت کا پہلا اثر راحت نہیں بلکہ تطہیر ہوتا ہے۔ وہ دل کو پہلے توڑتی ہے، پھر جوڑتی ہے؛ پہلے خالی کرتی ہے، پھر بھر دیتی ہے؛ پہلے انا کے ایوان گراتی ہے، پھر بندگی کا شہر آباد کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت کا سفر ہمیشہ قربانی سے گزرتا ہے، کیونکہ جو دل اپنی خواہشات، اپنی بڑائی اور اپنی خود پسندی سے لبریز ہو، اس میں حقیقت کے لیے جگہ باقی نہیں رہتی۔ محبت ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو جلاتی نہیں بلکہ اس کے باطن کی آلائشوں کو جلا دیتی ہے۔ وہ تکبر کو خاک، حرص کو بے معنی، حسد کو بے اثر اور خود غرضی کو بے بنیاد کر دیتی ہے۔ جب یہ سب پردے اٹھ جاتے ہیں تو دل اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹنے لگتا ہے۔
دل کا یہی تزکیہ دراصل انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر ہے۔ انسان کا اصل مسئلہ علم کی کمی سے زیادہ دل کی آلودگی ہے، کیونکہ آلودہ باطن کے ہاتھوں میں علم بھی تکبر پیدا کر دیتا ہے، طاقت ظلم میں بدل جاتی ہے اور عبادت بھی شہرت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پاکیزہ دل ہی وہ آئینہ ہے جس میں حقیقت اپنی اصل صورت کے ساتھ منعکس ہوتی ہے۔ اسی لیے تمام روحانی روایتوں نے ظاہری اعمال سے پہلے باطن کی اصلاح کو بنیادی حیثیت دی ہے، کیونکہ انسان کے اعمال اسی درخت کے پھل ہیں جس کی جڑ دل میں پیوست ہوتی ہے۔
جب محبت دل کو صاف کر دیتی ہے تو اس کے باطن سے ایک ایسا جوہر نمودار ہوتا ہے جو تمام اعمال کی روح ہے، اور وہ ہے اخلاص۔ اخلاص یہ نہیں کہ انسان صرف اچھا عمل کرے، بلکہ یہ ہے کہ عمل کا سرچشمہ بھی پاک ہو، اس کا مقصد بھی پاک ہو، اور اس کی نسبت بھی صرف حق سے قائم ہو۔ یہاں عمل کی عظمت اس کے حجم سے نہیں بلکہ اس کے محرک سے متعین ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک مختصر سا عمل اخلاص کی وجہ سے زمانوں پر اثر انداز ہو جاتا ہے، جبکہ بے شمار عظیم کارنامے محض نمود و نمائش کے بوجھ تلے اپنی روح کھو دیتے ہیں۔
اخلاص دراصل ارادے کی آزادی ہے۔ یہ انسان کو لوگوں کی تعریف، صلے کی خواہش، شہرت کی طلب اور نفس کی پوشیدہ تجارت سے آزاد کر دیتا ہے۔ جب ارادہ صرف ایک مرکزِ حقیقی سے وابستہ ہو جاتا ہے تو انسان کا ہر عمل اندرونی وحدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی عبادت، اس کی خدمت، اس کا علم، اس کی خاموشی، اس کی گفتگو، حتیٰ کہ اس کی مسکراہٹ بھی ایک ہی حقیقت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے ظاہر اور باطن میں دوئی باقی نہیں رہتی۔
کائنات کا نظام بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ سورج روشنی دیتے وقت کسی ستائش کا طالب نہیں، درخت پھل دیتے وقت کسی صلے کا منتظر نہیں، دریا بہتے وقت کسی تعریف کے محتاج نہیں۔ فطرت کی ہر شے اپنا فرض اپنی فطرت کے مطابق انجام دیتی ہے۔ انسان جب اخلاص کے مقام پر پہنچتا ہے تو وہ بھی اسی کائناتی آہنگ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کا عمل محض ایک شخصی کوشش نہیں رہتا بلکہ نظمِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ایک شعوری شرکت بن جاتا ہے۔
یوں محبت باطن کی کیمیا ثابت ہوتی ہے، تزکیہ اس کی بھٹی ہے، اور اخلاص وہ خالص جوہر ہے جو اس عمل سے برآمد ہوتا ہے۔ یہی وہ ترتیب ہے جو انسان کو خواہشات کی اسیری سے نکال کر مقصد کی آزادی عطا کرتی ہے، اضطراب سے سکون، انتشار سے وحدت، اور خودی کی قید سے بندگی کی وسعت تک پہنچاتی ہے۔
آخرکار انسان یہ راز پالیتا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی قوت طاقت نہیں، سب سے بڑی دولت ملکیت نہیں، اور سب سے بڑی کامیابی غلبہ نہیں؛ بلکہ وہ دل ہے جو محبت سے پاکیزہ، تزکیے سے شفاف اور اخلاص سے منور ہو جائے۔ ایسا دل نہ صرف اپنے رب کی رضا کا طالب بنتا ہے بلکہ خود کائنات کے معنوی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یہی انسانی وجود کی حقیقی معراج ہے، یہی کیمیائے باطن کا کمال، اور یہی رازِ کائنات کا سب سے روشن انکشاف۔
