زندانِ شعور اور مسخِ ذات

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے بڑی آزادی اس کے قدموں میں نہیں، اس کے شعور میں ہوتی ہے؛ اور اس کی سب سے ہولناک غلامی بھی ہاتھوں کی زنجیروں سے نہیں، بلکہ فکر کی اُن اَن دیکھی بیڑیوں سے جنم لیتی ہے جو آہستہ آہستہ اس کے باطن پر قبضہ جما لیتی ہیں۔ جسمانی قید انسان کی حرکت محدود کرتی ہے، لیکن فکری اسارت اس کی پرواز کا تصور ہی چھین لیتی ہے۔ جب غلامی محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ماحول بن جائے تو وہ صرف انسان کے حالات کو نہیں بدلتی، اس کے معیارات، اس کی خواہشات، اس کے فیصلوں، بلکہ اس کے خوابوں تک کی ساخت بدل دیتی ہے۔
یہی اسارت کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے کہ قید خانہ دیواروں سے نکل کر شعور میں منتقل ہو جاتا ہے۔ پھر پہرے دار دروازوں پر نہیں، انسان کی سوچ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں۔ زنجیریں ہاتھوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ امکانات پر پڑ جاتی ہیں۔ خوف ایک خارجی قوت نہیں رہتا، بلکہ شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ تب انسان کو آزاد کرنے کے لیے تالے توڑنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اس نے خود اپنے ذہن کے گرد ایسی فصیل کھڑی کر لی ہوتی ہے جسے وہ تحفظ کا نام دیتا ہے، حالانکہ وہی اس کی سب سے بڑی قید ہوتی ہے۔
اسی مقام پر انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ، یعنی سوال کرنے کی صلاحیت، ماند پڑنے لگتی ہے۔ وہ روایت کو تحقیق پر، عادت کو حقیقت پر، اور مصلحت کو صداقت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ وہ سوچنے سے پہلے دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے، بولنے سے پہلے دوسروں کے خوف سے ڈرتا ہے، اور جینے سے پہلے دوسروں کی رضا تلاش کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے وجود کا مالک نہیں رہتا، بلکہ دوسروں کے تصورات کا مسکن بن جاتا ہے۔
فکری غلامی کا آخری مرحلہ وہ ہے جہاں انسان اپنی اصل شناخت سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کے ساتھ زندہ ضرور رہتا ہے، مگر اپنی ذات سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی آواز موجود ہوتی ہے، لیکن اس میں اس کا اپنا لہجہ نہیں رہتا؛ اس کے فیصلے موجود ہوتے ہیں، مگر ان میں اس کی اپنی بصیرت شامل نہیں ہوتی۔ وہ چلتا اپنے قدموں سے ہے، مگر راستے دوسروں کے منتخب کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہی مسخِ ذات ہے؛ وہ لمحہ جب انسان زندہ رہتے ہوئے بھی اپنی حقیقت سے کٹ جاتا ہے۔
یہ مسخ شدہ شعور سب سے زیادہ سچائی سے خوف کھاتا ہے، کیونکہ سچ ہر مصنوعی شناخت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ آئینہ کبھی چہرہ نہیں بدلتا، صرف چہرہ دکھاتا ہے؛ مگر جو شخص برسوں خود فریبی میں زندہ رہا ہو، اس کے لیے آئینہ سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔ وہ آئینے پر اعتراض کرتا ہے، اس کی شفافیت کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کے پاس اپنی صورت بدلنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ حقیقت کو بدلنے کے بجائے حقیقت کے گواہ کو مٹا دینا چاہتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئینہ توڑنے سے چہرہ نہیں بدلتا، روشنی بجھا دینے سے صبح نہیں رکتی، اور سچائی سے فرار اختیار کر لینے سے حقیقت کا وجود ختم نہیں ہوتا۔ جو قومیں، معاشرے اور افراد اپنے آئینے توڑ دیتے ہیں، وہ اپنی اصلاح کے دروازے بھی خود ہی بند کر دیتے ہیں۔ زوال ہمیشہ باہر سے مسلط نہیں ہوتا؛ اکثر وہ اندر سے قبول کیا جاتا ہے۔
اس لیے حقیقی آزادی کسی نظام، کسی طاقت یا کسی ماحول کی عطا نہیں، بلکہ شعور کی بیداری کا ثمر ہے۔ آزادی کا آغاز اُس لمحے ہوتا ہے جب انسان اپنے ورثے میں ملے ہوئے ہر تصور کو شعور کی کسوٹی پر پرکھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے، اپنے خوف کا سامنا کرتا ہے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے، اور اپنی اصل شناخت کو دوسروں کی عطا کے بجائے حقیقت کی روشنی میں تلاش کرتا ہے۔
انسان جب اپنے باطن کی اس قید سے نکل آتا ہے تو وہ صرف آزاد نہیں ہوتا، بلکہ دوبارہ تخلیق ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ تقلید سے بصیرت، اس کی فکر جمود سے ارتقا، اور اس کی شخصیت محکومی سے خود آگاہی کی طرف سفر شروع کرتی ہے۔ یہی زندانِ شعور سے رہائی ہے، اور یہی مسخِ ذات سے نجات۔
کیونکہ انسان کی سب سے بڑی شکست قید میں رہنا نہیں، قید کو اپنی فطرت سمجھ لینا ہے؛ اور اس کی سب سے بڑی فتح زنجیریں توڑنا نہیں، بلکہ اس شعور کو بیدار کر لینا ہے جو ہر زنجیر کو زنجیر پہچان لیتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top