قحطِ شعور

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسانی تاریخ میں قحط ہمیشہ صرف زمین پر نہیں اترتے، کبھی کبھی یہ انسان کے اندر بھی اتر آتے ہیں۔ کبھی اناج کم ہو جاتا ہے اور کبھی احساس۔ کبھی پانی کے چشمے خشک ہوتے ہیں اور کبھی فکر کے چشمے۔ کبھی جسم بھوک سے کمزور ہوتے ہیں اور کبھی قومیں شعور کی کمی سے مفلوج ہو جاتی ہیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں، شعور کی کمی ہے۔
ہم نے عمارتیں بلند کر لیں، مگر کردار کی بنیادیں کمزور ہو گئیں۔ ہم نے فاصلے مٹانے کے لیے ذرائع پیدا کر لیے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ ہم نے معلومات کے سمندر جمع کر لیے، مگر حکمت کی ایک بوند کے لیے ترسنے لگے۔ یہی قحطِ شعور ہے؛ جہاں دماغ تو مصروف ہوں مگر دل بیدار نہ ہوں، جہاں زبانیں تو متحرک ہوں مگر فکر خاموش ہو۔
شعور صرف یہ جاننے کا نام نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؛ شعور یہ سمجھنے کا نام ہے کہ کیوں ہو رہا ہے۔ معلومات آنکھ کو خبر دیتی ہے، مگر شعور نظر عطا کرتا ہے۔ علم راستہ دکھاتا ہے، مگر دانائی منزل کا انتخاب سکھاتی ہے۔
ایک قوم معاشی مشکلات سے نکل سکتی ہے، قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکتی ہے، وسائل کی کمی پوری کر سکتی ہے؛ مگر اگر اس کے اندر سوچنے، پرکھنے، سوال کرنے اور سچ کو قبول کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو پھر خوشحالی بھی اسے بچا نہیں سکتی۔
قحطِ شعور کی پہلی علامت یہ ہے کہ انسان مسئلے کی جڑ تلاش کرنے کے بجائے صرف اس کے شور میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ خبر سنتا ہے مگر حقیقت نہیں ڈھونڈتا، رائے بناتا ہے مگر تحقیق نہیں کرتا، فیصلہ کرتا ہے مگر فہم کے بغیر۔ پھر معاشرہ ایسے لوگوں سے بھر جاتا ہے جو ہر موضوع پر بول سکتے ہیں، مگر بہت کم موضوعات کو سمجھتے ہیں۔
شعور کا دشمن جہالت نہیں، صرف جہالت نہیں؛ شعور کا سب سے بڑا دشمن وہ غلط فہمی ہے جو علم کا لباس پہن لے۔ کیونکہ نادان اپنی نادانی مان سکتا ہے، مگر وہ شخص زیادہ خطرناک ہے جو اپنی کم علمی کو یقین کا نام دے دے۔
آج انسان کے ہاتھ میں دنیا کی تاریخ، علوم اور معلومات کا خزانہ ہے، مگر اس کے باوجود وہ نفرت، تعصب اور تقسیم کے پرانے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسے کچھ معلوم نہیں؛ وجہ یہ ہے کہ معلوم چیزوں کو سمجھنے کا ظرف کم ہو گیا ہے۔
قحطِ شعور میں انسان الفاظ کے پیچھے چھپے مقاصد نہیں دیکھتا، نعروں کے پیچھے چھپے مفادات نہیں پہچانتا، اور شور کے اندر چھپی خاموش حقیقت کو نہیں سن پاتا۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کس سے نفرت کرنی ہے، وہ پوچھتا نہیں کہ کیوں؛ اسے بتایا جاتا ہے کہ کس کو اپنا دشمن سمجھنا ہے، وہ تحقیق نہیں کرتا کہ اصل دشمن جہالت تو نہیں۔
باشعور انسان صرف دوسروں کا احتساب نہیں کرتا، وہ سب سے پہلے اپنے اندر جھانکتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے، کیونکہ اللہ کا فضل بھی شاید اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان کو اپنی خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ جو شخص خود کو مکمل سمجھ لے، اس کی اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
شعور انسان کو عاجزی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسئلے کا جواب اس کے پاس نہیں، ہر اختلاف دشمنی نہیں، ہر مختلف رائے گمراہی نہیں۔ وہ اختلاف میں بھی احترام تلاش کرتا ہے اور تنقید میں بھی اصلاح کا پہلو دیکھتا ہے۔
قومیں صرف خزانے سے مضبوط نہیں ہوتیں، شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ ایک باشعور نسل کم وسائل میں بھی راستے نکال لیتی ہے، جبکہ بے شعور معاشرہ نعمتوں کے درمیان بھی زوال کا شکار ہو سکتا ہے۔
ہمیں آج ایک ایسی نسل کی ضرورت ہے جو صرف کامیابی کے خواب نہ دیکھے بلکہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی بصیرت بھی رکھے؛ جو صرف تیز رفتار نہ ہو بلکہ درست سمت کا شعور بھی رکھتی ہو؛ جو صرف آواز بلند کرنا نہ جانتی ہو بلکہ سننا، سمجھنا اور سوچنا بھی جانتی ہو۔
کیونکہ قحطِ شعور کا علاج دولت نہیں، بیداری ہے؛ شور نہیں، غور ہے؛ تعصب نہیں، تدبر ہے؛ اور محض تعلیم نہیں، وہ تعلیم ہے جو انسان کے اندر انسانیت پیدا کرے۔
جس دن کسی قوم کے اندر سوال زندہ ہو جائیں، مطالعہ زندہ ہو جائے، مکالمہ زندہ ہو جائے، خود احتسابی زندہ ہو جائے، سمجھ لیجیے کہ شعور کے چشمے پھر سے پھوٹنے لگے ہیں۔
کیونکہ سب سے خطرناک قحط وہ نہیں جس میں زمین خشک ہو جائے، بلکہ وہ ہے جس میں انسان کے اندر سوچ کے دریا خشک ہو جائیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top