(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی اصل عظمت اس کے جوابات میں نہیں، اس کے سوالوں میں پوشیدہ ہے۔ جواب اکثر ایک منزل ہوتے ہیں، مگر سوال ہمیشہ سفر کا آغاز ہوتے ہیں۔ تہذیبوں کی تاریخ دراصل ان سوالوں کی تاریخ ہے جنہوں نے انسان کو غار سے کہکشاؤں تک پہنچایا، پتھر سے قلم تک، اور جہالت سے حکمت تک۔ جس دن انسان نے سوال کرنا چھوڑ دیا، اسی دن اس کی فکری عمر رک گئی۔
آج کا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس جواب کم ہیں؛ المیہ یہ ہے کہ جواب بہت زیادہ ہیں، مگر سوال ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص جواب بیچ رہا ہے، مگر بہت کم لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ اصل سوال کیا ہے۔ بازار گرم ہے، آوازیں بلند ہیں، منبر آباد ہیں، اسکرینیں روشن ہیں، مگر ذہن تاریک ہیں۔ ہر طرف جوابوں کی فراوانی ہے، لیکن وہ ان سوالوں کے جواب ہیں جو شاید کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔
جب کوئی معاشرہ سوال تخلیق کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو وہ سوچنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ پھر علم، تقلید میں بدل جاتا ہے؛ تحقیق، تکرار میں؛ مکالمہ، مناظرہ بن جاتا ہے؛ اور شعور، نعروں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ سچ کی تلاش نہیں کرتے، اپنے پسندیدہ جواب کی تلاش کرتے ہیں۔
سوال دراصل آزادی کی پہلی سانس ہے۔ ہر آمر سوال سے ڈرتا ہے، کیونکہ سوال اقتدار کے چہرے سے نقاب اتار دیتا ہے۔ ہر جھوٹ سوال سے گھبراتا ہے، کیونکہ ایک سچا سوال سینکڑوں جھوٹے جوابوں پر بھاری ہوتا ہے۔ اسی لیے تاریخ میں سب سے پہلے زبانیں نہیں کاٹی گئیں، سوال دبائے گئے؛ کتابیں نہیں جلائی گئیں، تجسس جلایا گیا۔
یہ دور معلومات کا نہیں، معلومات کے ہجوم کا دور ہے۔ خبر ہر لمحہ ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے، مگر حکمت خاموش کھڑی رہتی ہے۔ ہم ہر واقعے پر فوری رائے رکھتے ہیں، مگر بہت کم واقعات پر گہرا غور کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنے کی مہلت نہیں دی جاتی؛ ہمیں صرف ردِّعمل دینا سکھایا جاتا ہے۔ اس طرح انسان آہستہ آہستہ اپنے ذہن کا مالک نہیں رہتا، بلکہ دوسروں کے سوالوں اور دوسروں کے جوابوں کا قیدی بن جاتا ہے۔
میڈیا، سیاست، اشتہار، سوشل پلیٹ فارم اور نظریاتی گروہ—سب ایک ہی مقابلے میں مصروف ہیں: آپ کے ذہن میں کون سا سوال داخل کیا جائے، اور اس کا جواب پہلے سے کون دے دے۔ کیونکہ جس نے سوال پر قبضہ کر لیا، اس نے سوچ پر قبضہ کر لیا۔
اسی لیے آج سب سے بڑا فکری استبداد یہ نہیں کہ سچ چھپا لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ جھوٹے سوالوں کا ایسا شور برپا کر دیا جائے کہ اصل سوال سنائی ہی نہ دے۔ لوگ بحث کرتے رہیں، مگر حقیقت تک نہ پہنچ سکیں؛ وہ جواب دیتے رہیں، مگر کبھی یہ نہ پوچھیں کہ سوال کس نے بنایا تھا اور کیوں بنایا تھا۔
ادب، فلسفہ اور مذہب کی عظمت یہی ہے کہ وہ انسان کو تیار جواب نہیں دیتے، بلکہ اس کے باطن میں سوال کا چراغ روشن کرتے ہیں۔ سقراط نے سوال کو علم کا دروازہ بنایا، انبیا نے سوال کو ضمیر کی بیداری بنایا، اور بڑے ادیبوں نے سوال کو انسان کے باطن کا آئینہ بنا دیا۔ جو سوال انسان کو اپنے آپ سے ملا دے، وہی حقیقی سوال ہے۔
ہم نے اپنے بچوں کو امتحان کے جواب یاد کرانا سکھایا، مگر سوال پیدا کرنا نہیں سکھایا۔ ہم نے انہیں کامیابی کا نسخہ دیا، مگر حیرت کا ذوق نہیں دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ڈگریاں بڑھتی گئیں، دانائی گھٹتی گئی؛ معلومات میں اضافہ ہوا، بصیرت میں کمی آتی گئی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہمیں کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟ اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے لیے سوچ کون رہا ہے؟ اور اصل سوال یہ بھی نہیں کہ ہمارے پاس کتنے جواب ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر اب بھی کوئی ایسا سوال زندہ ہے جو ہمیں بے چین کر دے؟
زندہ قومیں وہ نہیں ہوتیں جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہو؛ زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جن کے پاس ہر جواب کو پرکھنے کا حوصلہ ہو۔ کیونکہ جواب ذہن کو مطمئن کرتے ہیں، مگر سوال روح کو بیدار کرتے ہیں۔
اور جس دن کسی معاشرے میں سوال مر جائیں، اُس دن جوابوں کا بازار جتنا بھی آباد ہو، وہاں فکر کا دیوالیہ نکل چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جو قوم سوال کھو دیتی ہے، وہ آخرکار اپنا مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔
